انتخاب: یاسر حبیب
ماریس ماترلینک (Maurice Polydore Marie Bernard Maeterlinck) ، نوبیل انعام یافتہ ڈراما نگار، شاعر اور مضمون نگار ہیں۔
ماریس ماترلینک 29 اگست 1862ء کو بلجیم کے علاقے گینٹ میں ایک متمول فرانسیسی نژاد کیتھولک خاندان میں پیدا ہوا۔
ماترلینک کا شمار یورپ کے صفِ اوّل کے فرانسیسی لکھاریوں میں ہوتا ہے۔ اُس کے ڈرامے اشاری (Symbolist) تحریک کے اہم سنگِ میل تسلیم کیے جاتے ہیں۔
19ویں صدی کے اواخر میں ’’ابسن‘‘، ’’چیخوف‘‘ا ور ’’سٹرنڈبرگ‘‘ کے ساتھ ’’ماریس ماترلینک‘‘ نے تمثیل نگاری کو ایک نئی جہت عطا کی۔
1885ء میں ماریس ماترلینک نے چند ماہ فرانس میں گزارے، جہاں وہ جدید اشاری تحریک کے ارکان اور خصوصاً ’’ویلیے دَ لِیل آدام‘‘ (Villiers de L’Isle Adam) اور ’’سٹیفان مالارمے‘‘ (Stphane Mallarm) سے متعارف ہوا، جن کے اثرات ماترلینک کی تحریروں میں عیاں ہیں۔ شہرت کی دیوی ماترلینک پر راتوں رات ہی مہربان ہو گئی تھی۔
اگست 1890ء میں اپنے پہلے ہی ڈرامے ’’شہزادی مالین‘‘ (La Princesse Maleine) نے چند دنوں میں اُسے مشہور کر دیا۔
مقتدر جریدے "Le Figaro” کے نقاد بھی اُس ڈرامے کی تعریف میں رطب اللسان ہوئے۔ خصوصاً ’’اوکتاو میربو‘‘ (Octave Mirbeau) نے ایک طویل مضمون میں ماریس ماترلینک پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے۔ ’’میربو‘‘ نے تو اُس ڈرامے کو ’’شاہ کار‘‘ قرار دیتے ہوئے شیکسپیئر کی بہترین کاوشوں کے ہم پلّہ ٹھہرایا۔
آنے والے سالوں میں ماریس ماترلینک نے متعدد اشاری کھیل تحریر کیے، جن میں ’’کون ہے ؟‘‘ (L’Intruse)،’’اندھے ‘‘ (Les Aveugles) اور ’’پیلیاس اور میلیساند‘‘ (Pellas et Mlisande) قابلِ ذکر ہیں۔
’’پیلیاس اور میلیساند‘‘ (Pellas et Mlisande) جسے اشاری ڈراموں کا شاہ کار سمجھا جاتا ہے، معروف موسیقار "Claude Debussy” کے مشہورِ عالم اوپیرا کی بنیاد بنا۔
1895ء میں ماریس ماترلینک اور جارجیٹ لبلاں فرانس کے شہر ’’پاسی‘‘ (Passy) میں جا بسے۔ پاسی میں اُن کے احباب میں مشہور لکھاری ’’آسکر وائلڈ‘‘ (Oscar Wilde)، ’’اناطول فرانس‘‘ (Anatole France)، ’’آگست روداں‘‘ (Auguste Rodin)، ’’اوکتاو میربو‘‘ (Octave Mirbeau)، ’’ژاں لورین‘‘ (Jean Lorraine) اور ’’پال فوغ‘‘ (Paul Fort) کا شمار ہوتا تھا۔
1903ء میں ماترلینک کو بلجیم کی حکومت کی جانب سے ڈرامائی ادب کا سہ سالہ انعام عطا کیا گیا۔
1908ء میں سینٹ وانڈریل میں اس کا شہرہ آفاق شاہ کار ڈراما ’’نیل پنکھ‘‘ (L’Oiseau bleu) پایۂ تکمیل تک پہنچا۔ ماسکو آرٹ تھیٹر میں لگاتار ایک سال تک پیش کیا جانے والا یہ کھیل تمام عالمی زبانوں میں ترجمے کے بعد دُنیا کے تمام ممالک میں کامیابی سے ہم کنار ہوا۔
یہ مجازیہ ڈراما اگرچہ بچوں کے لیے لکھا گیا تھا، لیکن اس کی مقبولیت عالم گیر ثابت ہوئی۔ خصوصاً امریکہ اور برطانیہ میں اس ڈرامے نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔
1911ء میں ادب کے نوبیل انعام نے گویا اس کی تخلیقی صلاحیتوں اور ذہنی صحت میں ایک نئی روح پھونک دی۔
1920ء میں اسے ’’گران کارداں دی لاردر لیوپولڈ‘‘ سے نوازا گیا۔
1932ء میں بادشاہ البرٹ اوّل نے اسے ’’کاؤنٹ‘‘ (Count) کے رتبے پر سرفراز کیا۔
ماریس ماترلینک کی وفات 6 مئی 1949ء کو فرانس کے شہر ’’نیس‘‘ (Nice) میں ہوئی۔
ماریس ماترلینک کے مشہور ڈرامے "L’Oiseau bleu” کا ترجمہ ’’نیل پنکھ‘‘ کے عنوان سے شوکت نواز نیازی نے کیا ہے جسے ’’بک کارنر‘‘نے شائع کیا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔