تبصرہ نگار: رومانیہ نور
گئے برس اوائلِ دسمبر کی ایک کہر آلود شام تھی، جب ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی صاحبہ کی ترجمہ کردہ کتاب ’’کانچ کا زِنداں‘‘ موصول ہوئی۔ مَیں جو ’’میگرین‘‘ اور ’’وِژن لاس‘‘ کے ٹراما میں انتہائی بے زار اور مشکل وقت کاٹ رہی تھی…… ڈاکٹر صاحبہ سے معذرت چاہی کہ جوں ہی کچھ صحت بحال ہوئی، تو کتاب پڑھوں گی ۔ سو یہ حرفِ تشکر کئی مہینوں سے مجھ پر قرض تھا۔
قربان جائیے ڈاکٹر صاحبہ کی اس خوئے دل نوازی پر کہ انھوں نے دوری کو مجبوری نہیں بنایا اور مجھے پرسنلائز کرکے اپنے دستخطوں سے مزین کتاب بھیجی۔
محبت کی دیوی اور علم و ادب کا پیکر ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی صاحبہ کی پیدایش ہندوستان کے صوبہ مہا راشٹرا کے شہر ناندیڑ میں ہوئی۔ 1997ء میں تلنگانہ اسٹیٹ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی…… اور اُسی سال آپ نیوزی لینڈ آ گئیں…… جہاں تاحال مقیم ہیں۔ زیرِ تبصرہ ناول ’’کانچ کا زِنداں‘‘ اُن کی دوسری ترجمہ شدہ کتاب ہے۔
جہاں تک بات ہے اس ناول کی، تو ادب کے کینوس پر بکھرے متنوع رنگوں میں سے ایک منفرد اور ممتاز رنگ جو بیسویں صدی میں اُبھر کر سامنے آیا…… وہ امریکن شاعرہ، ناول و افسانہ نگار ’’سلویا پلاتھ‘‘ کا ہے۔ ان کا شمار اُن چنیدہ ہستیوں میں ہوتا ہے جن کے ’’مرنے‘‘ کے بعد ان کا فن ’’زندہ‘‘ ہوا۔
اِس بات سے عالمی ادب کا ایک ادنا قاری بھی آگاہ ہو گا کہ 27 اکتوبر 1932ء میں پیدا ہونے والی سلویا نے محض31 سال کی عمر میں شدید ذہنی دباؤ کے تحت 11 فروری 1963ء میں خودکشی کر لی تھی۔
سلویا کی نظموں کا پہلا مجموعہ 1960ء میں شائع ہوا تھا۔ اُس کی الم ناک موت کے برسوں بعد اس کی دیگر نظموں کو کتابی شکل میں شائع کیا گیا تھا۔ اُس شاعرہ کی نظموں کا متعدد زبانوں میں ترجمہ کیا گیا جن میں اُردو بھی شامل ہے۔
کتاب”The Collected Poems” سنہ 1981ء میں شائع ہوئی، جس میں اُس سے پہلے کی غیر مطبوعہ تخلیقات شامل تھیں۔ اُس مجموعے کے لیے پلاتھ کو 1982ء میں شاعری میں ’’پلٹزر پرائز‘‘ (Pulitzer Prize) سے نوازا گیا۔ اس طرح وہ بعد از مرگ یہ اعزاز حاصل کرنے والی چوتھی شخصیت بن گئی تھیں۔
ناول کے تعارف میں ڈاکٹر صہبا شاذلی صاحبہ کچھ یوں رقم طراز ہیں: سلویا پلاتھ کا لکھا واحد ناول ’’کانچ کا زندان‘‘ (The Bell Jar) جگہوں اور کرداروں کے ناموں کی تبدیلی کے ساتھ ایک نیم سوانحی داستاں ہے، جو 1963ء میں "Victoria Lucas” کے فرضی نام سے شائع ہوا۔ متحدہ سلطنت برطانیہ (UK) میں ناول کی اشاعت کے ایک ماہ بعد ہی سلویا پلاتھ نے خودکشی کرلی۔ 1967ء میں ناول سلویا پلاتھ کے اصلی نام کے ساتھ پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آیا اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ (USA) میں 1971ء میں۔ تقریباً 12 سے زیادہ زبانوں میں اس ناول کا ترجمہ ہوچکا ہے۔
’’کانچ کا زِنداں‘‘ (The Bell Jar) جو ناول کا عنوان بھی ہے، انسان کی ذہنی اذیت کو ظاہر کرتا ہے، جو وہ اپنے دماغی ہیجان (Nervous Breakdown) کے دوران میں محسوس کرتی ہے۔
کانچ کا فانوس مرکزی کردار قید اور کسی کے دام میں پھنسنے کے احساسات کی نمایندگی کرتاہے۔
یہ دراصل ایک ایسی عورت کی کہانی کو پیش کرتا ہے…… جہاں اُس کی زندگی عام حالات میں معمول کے مطابق فطری انداز میں آگے بڑھتے ہوئے پاگل پن کی طرف چلی جاتی ہے۔ ایستھر، معاشرہ کے بتائے ہوئے تجربات سے گزرنے کے اُصولوں اور اُس کے ذاتی تجربات میں خلا پاتی ہے، اور یہی خلا اُس کی ذہنی اذیت میں شدت پیدا کردیتا ہے۔ اُس کی زندگی کے تجربات مُثبت انداز میں زندگی میں تبدیلی لانے کی بجائے اُسے پریشان کرتے ہوئے، اُلٹ کر رکھ دیتے ہیں اور وہ ایک ماحول ناشناس میں گھِر کر رہ جاتی ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ زندگی کے معنی تلاش کرے، وہ موت کے راستے تلاش کرتی ہے۔ اپنی خود کُشی کی مختلف کوششوں میں ناکامی کے بعد وہ صرف زندہ رہنے کی خواہش کرتی ہے۔‘‘
ناول ایک ماڈرن کلاسک ہے۔ چوں کہ موضوع اور سلویا پلاتھ کا طرزِ تحریر خاصا پیچیدہ ہے…… سو اُسے اُردو قالب میں ڈھالنا اِک کارِ دشوار تھا…… جس کا بیڑا ڈاکٹر صاحبہ نے اُٹھایا۔
ناول کا سر ورق بامعنی اور عنوان بہت پُرکشش اور حسبِ مضمون ہے۔ اکثر اوقات پوری سنجیدگی، جاں فشانی اور نفاست کے باوجود کہیں نہ کہیں ایک آنچ کی کسر رہ جاتی ہے، جو اس ایڈیشن میں بھی نظر سے گزری۔ اگر طباعتی و اشاعتی ادارے کسی تدوین کار کی خدمات حاصل کر لیا کریں، تو کتاب مزید معتبر اور معیاری ہو سکتی ہے۔
بہرحال کہا جاتا ہے کہ ترجمہ در اصل چراغ سے چراغ جلانے کا عمل ہے۔ سو ڈاکٹر صاحبہ کے لیے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ
اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سرِ عام رکھ دیا
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔