ترجمہ: شگفتہ شاہ (ناروے) 
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بیوہ عورت تھی، جس کا ایک ہی بیٹا تھا۔ وہ عورت اب بے حد کم زور اور لاغر ہوچکی تھی۔ ایک روز اس نے اپنے بیٹے سے کہا، جاؤ اور اَناج کی کو ٹھری سے آٹا لے آؤ،تاکہ میں روٹیاں پکا لوں۔
لڑکا جوں ہی آٹا لے کر کوٹھری کے دروازے سے باہر نکلا۔ شمالی ہوا فر فر چلتی ہوئی آئی اوراُس کا آٹا اُڑا کر اپنے ساتھ لے گئی۔ لڑکا دوبارہ اناج کی کو ٹھری میں گیا، لیکن جوں ہی وہ آٹا لے کر باہر نکلا، شمالی ہوا پھر سرسراتی ہو ئی ا ٓئی اور لڑکے کا آٹا اُڑا لے گئی۔ بے چارہ لڑکا تیسری مرتبہ آٹا لے کر اناج کی کوٹھری سے باہر نکلا، تو ہوا تیسری مرتبہ بھی اُس کا آٹا اُڑا لے گئی۔ اب تو لڑکے کو بہت غصّہ آیا۔ اُس نے سوچاکہ شمالی ہوا کا یوں بار باراِس تیزی سے آ کر اُس کا آٹا اُڑا لے جانا ایک انتہائی غیر منصفانہ فعل ہے، اور اُسے ہوا کے پاس جا کراپنے آٹے کی واپسی کا تقاضا کرنا چاہیے۔ چناں چہ وہ شمالی ہوا کے تعاقب میں چل دیا۔ ہوا بہت دور جا چکی تھی، مگر لڑکے نے اپنا سفر جاری رکھا اور ایک لمبی مسافت طے کرنے کے بعد آخرِکار وہ شمالی ہوا تک پہنچ ہی گیا۔ ’’آداب!‘‘ لڑکے نے کہا۔’’گذشتہ ملاقات کا شکریہ۔‘‘
’’آداب!‘‘ شمالی ہوا نے جواب دیا۔ ’’تمھارا بھی شکریہ! لیکن یہ بتاؤ کہ تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ہوا نے پوچھا۔
’’آہ،میری آپ سے استدعا ہے کہ براہِ مہربانی میرا وہ آٹا جو آپ اپنے ساتھ اُڑا لائی ہیں، وہ مجھے لوٹا دیں۔ ہم تو پہلے ہی بہت تنگ دست ہیں اور اگر آپ یوں ہی ہمارا آٹا اُڑاتی رہیں گی، تو ہم لوگ بھوکوں مر جائیں گے۔‘‘
’’آٹا تو میرے پاس نہیں!‘‘ شمالی ہوا نے کہا۔ ’’ہاں! البتہ تم بہت ضرورت مند لگ رہے ہو، اس لیے تمھیں یہ دستر خوان مل سکتا ہے۔ یہ تمھیں ہر وہ کھانا پیش کر دیا کرے گا جس کی تم خواہش کرو گے۔ بس تم اس سے کہنا، اے دستر خوان، ہر قسم کے اچھے اچھے پکوان پیش کر دو!‘‘
لڑکا دسترخوان حاصل کرکے بہت خوش ہوا۔ اُس کا گھر بہت دور تھا اور وہ اُس روز شام تک اپنے گھر نہیں پہنچ سکتا تھا۔ لہٰذا اُس نے ایک سرائے میں رات بسر کرنے کا فیصلہ کیا۔ شام کو جب سرائے کے سب مہمان کھانا کھانے بیٹھ گئے، تو لڑکے نے کونے میں پڑی ایک میز پر اپنا دسترخوان بچھایا اوراُس سے کہا: ’’اے دستر خوان، ہر قسم کے اچھے اچھے کھانے چُن دو!‘‘
لڑکے نے ابھی اپنا جملہ مکمل کیا ہی تھا کہ دسترخوان اس کا حکم بجا لایا۔ وہاں بیٹھے سب مہمانوں نے سوچا کہ یہ تو واقعی ایک حیرت انگیز دستر خوان ہے، لیکن سب سے زیادہ وہ دستر خوان سرائے کی مالکہ کو پسند آیا۔ اُس نے سوچا کہ اُس دسترخوان کو حاصل کرنے کے بعد وہ خریداری کرنے، کھانا پکانے اور اُسے مہمانوں کے سامنے پیش کرنے کے سب جھنجھٹ سے نجات پالے گی۔ چناں چہ رات کو جب سب مہمان سوگئے، تو اُس نے لڑکے کا وہ دسترخوان جو شمالی ہوا نے اُسے دیا تھا، چرا لیا اور اُس کی جگہ پر اُس سے ملتا جلتا ایک ایسا دسترخوان رکھ دیا جو کسی کو ایک سوکھی روٹی بھی پیش نہیں کرسکتا تھا۔اگلی صبح لڑکا نیند سے بیدار ہوا، اُس نے دستر خوان اُٹھایا اور گھر کی جانب چل دیا۔
’’ماں میں شمالی ہوا کے پاس گیا تھا۔‘‘ گھر پہنچ کر لڑکے نے اپنی ماں کو بتایا۔’’وہ بہت اچھی ہے۔ اُس نے مجھے یہ دسترخوان دیا ہے۔ جب مَیں اسے میز پر بچھا کر کہوں گا کہ اے دسترخوان، ہر قسم کے اچھے اچھے کھانے پیش کر دو! تو یہ میری پسند کا ہر کھانا حاضر کر دے گا۔‘‘
’’ہاں! تم یقیناً صحیح کَہ رہے ہو گے۔‘‘ ماں نے کہا۔ ’’مگر مَیں تو تب ہی یقین کروں گی، جب اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں گی ۔ ‘‘
لڑکے نے جلدی سے دستر خوان میز پر بچھایا اور کہا: ’’اے دسترخوان، ہر قسم کے اچھے اچھے کھانے چُن دو!‘‘ مگر وہ دسترخوان سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا بھی پیش نہ کر سکا۔
’’مجھے ایک بار پھر شمالی ہوا کے پاس جانا ہوگا۔ میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ۔‘‘ اب لڑکا دوبارہ شمالی ہوا سے ملنے چل دیا اور ایک لمبا سفر طے کرنے کے بعد بالآخر وہ شمالی ہوا کے پاس پہنچ گیا۔
’’مَیں اپنا آٹا واپس لینے آیا ہوں۔‘‘ لڑکے نے کہا۔ ’’وہ دستر خوا ن جو تم نے مجھے دیا تھا، وہ تو بالکل ایک ناکارہ شے ہے ۔ ‘‘
’’آٹا تو میرے پاس نہیں۔‘‘ شمالی ہوا نے کہا۔ ’’ہاں! البتہ تم وہ بھیڑ لے جاؤ۔ وہ تمھیں سونے کے سکے دے گی۔ بس تم اُس سے صرف اتنا کہنا کہ اے میری بھیڑ، سونے کے سکے حاضر کردو!‘‘
لڑکے کو آٹے کا یہ بدل بہت پسند آیا، مگر اس کا گھر بہت دور تھا اور وہ شام تک گھر نہیں پہنچ سکتا تھا۔ لہٰذا اُس نے ایک مرتبہ پھر اُسی سرائے میں رات بسر کرنے کا فیصلہ کیا، جہاں اُس نے پچھلی مرتبہ قیام کیا تھا، لیکن اُس نے خریداری کرنے سے پہلے بھیڑ کو آزما لینا چاہا، تاکہ یہ جان سکے کہ شمالی ہوا نے جو کہا تھا، وہ سچ ہی تھا۔ جب سرائے کے مالک نے یہ منظر دیکھا، تو اُس نے سوچا کہ یہ بھیڑ تو واقعی بہت قیمتی ہے۔ چناں چہ رات کو جب لڑکا سوگیا، تواُس نے لڑکے کی بھیڑ کو اپنی ایک ایسی بھیڑ سے بدل دیا ،جو سونے کے سکے ہر گز نہیں دے سکتی تھی۔ اگلی صبح لڑکا نیند سے بیدار ہوا، بھیڑ کو ساتھ لیا اور اپنے گھر روانہ ہوگیا۔ گھر پہنچ کر اُس نے اپنی ماں سے کہا: ’’ماں، شمالی ہوا بہت اچھی ہے۔ اِس مرتبہ اُس نے مجھے ایک بھیڑ دی ہے، جس کو مَیں جب بھی کہوں گا کہ اے میری بھیڑ مجھے سونے کے سکے دو،تو وہ حاضر کرد ے گی۔ ‘‘
’’ہاں، تم یقینا صحیح کَہ رہے ہوگے! ‘‘ ماں نے کہا۔ ’’لیکن میں تمھاری اِن باتوں پر تبھی یقین کروں گی، جب یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں گی۔ ‘‘
’’اے میری بھیڑ، مجھے سونے کے سکے عطا کر دو!‘‘ لڑکے نے کہا، مگر بھیڑ نے جو کچھ حاضرکیا، وہ سونے کے سکے ہر گز نہیں تھے۔ اب لڑکا ایک بار پھر شمالی ہوا کے پاس گیا اور کہا کہ جو بھیڑ تم نے مجھے دی ہے، وہ بالکل ایک ناکارہ شے ہے۔ اِس لیے مجھے میرا آٹا واپس کر دو۔
’’میرے پاس تمھیں دینے کو اَب اور کچھ بھی نہیں، سوائے اُدھر کونے میں پڑی اس پرانی چھڑی کے!‘‘ شمالی ہوا نے کہا۔ ’’اُس چھڑی کی خوبی یہ ہے کہ جب تم اُسے حکم دو گے کہچھڑی چھڑی، مار پیٹ شروع کر دو! تو تم جس کی طرف بھی اشارہ کرو گے،چھڑی اُس شخص پر اُس وقت تک برستی رہے گی جب تک تم اُسے دوبارہ حکم نہیں دو گے کہ اے میری چھڑی ، اب پیٹنا بند کر دو !‘‘
لڑکے کا گھر بہت دور تھا، اس لیے رات بسر کرنے کے لیے اُس نے پھر ا ُسی سرائے میں قیام کیا۔ اُسے اب اندازہ ہوچکا تھا کہ اُس کے دسترخوان اور بھیڑ کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا تھا۔ چناں چہ وہ سرائے میں جاتے ہی بستر پر لیٹا اور سونے کا مکر کرتے ہوئے خراٹے لینے شروع کر دیے۔ سرائے کے مالک نے سوچا کہ اِس چھڑی میں بھی ضرور کوئی خاص خوبی ہو گی۔ چناں چہ وہ لڑکے کے خراٹوں کی آواز سنتے ہی اُس کی چھڑی سے ملتی جلتی ایک چھڑی تلاش کر لایا، تاکہ لڑکے کی چھڑی اُٹھا کر اُس کی جگہ پروہ چھڑی رکھ دے…… لیکن جوں ہی اُس نے لڑکے کی چھڑی اُٹھانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا، لڑکا فوراً پکار اُٹھا: ’’اے میری چھڑی، پیٹنا شروع کر دو!‘‘جب چھڑی نے سرائے کے مالک کو پیٹنا شروع کیا، تو وہ میزوں اور کر سیوں کو پھلانگتا، آگے آگے بھاگتا ہواچیخنے چلانے لگا: ’’آہ، خدا کے لیے…… خدا کے لیے اس چھڑی کو روکو، ورنہ یہ میری جان لے لے گی۔ تمھارا دسترخوان اور تمھاری بھیڑ تمھیں واپس مل جائے گے۔‘‘جب لڑکے نے دیکھا کہ اب سرائے کے مالک کی کافی پٹائی ہوچکی ہے، تو اُس نے چھڑی کو حکم دیا: ’’چھڑی چھڑی، اب پیٹنا بند کر دو!‘‘
اِس کے بعد اُس نے اپنا دسترخوان لے کر اپنی جیب میں ڈالا۔ چھڑی ہاتھ میں تھامی۔ بھیڑ کے سینگ کے گرد رسی لپیٹی اور اپنے گھر کی جانب چل دیا۔ اب اُسے اپنے آٹے کا خاطر خواہ معاوضہ موصول ہو چکا تھا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔