تحریر: ایڈوکیٹ ابوبکر گجر 
گرو رجنیش (اُوشو) بیسویں صدی کے اک ممتاز فلسفی اور متنازع شخصیت تھے۔ اُوشو نے بہت سے موضوعات پر کتابیں لکھی۔ عورت، جنس، موت، محبت اور زیرِ نظر کتاب ’’تعلیمی انقلاب۔‘‘
کتاب پر تبصرہ دینے سے پہلے اُوشو کا اپنے لکھے اور کہے پر موقف آپ کے سامنے رکھتا ہوں: ’’میری بتائی ہوئی ہر چیز صحیح و درست ماننے کی بجائے ان کے متعلق سوچ و بچار کرکے عقل و دماغ کا استعمال کریں۔ ہو سکتا ہے میں غلط ہوں۔‘‘
اس کتاب (تعلیمی انقلاب) میں اُوشو نے تعلیم کے متعلق اپنے نظریات پیش کیے۔ موجودہ تعلیمی نظام میں اور اس میں موجود خامیوں پر سیر حاصل گفت گو کی۔ سب سے پہلے وہ موجودہ نظامِ تعلیم کو رد کرتے ہوئے اسے قدامت پسند قراد دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک، ہمارا نظامِ تعلیم ماضی پر محیط ہے۔
موجودہ نظامِ تعلیم بچوں کے ذہنوں میں مقابلہ کرواتا ہے اور ساتھ ہی حسد سے بچنے کی تلقین بھی کرتا ہے۔ جو بچہ پہلے نمبر پر آتا ہے، وہ اساتذہ اور والدین اور ہر ایک کے لیے قابلِ فخر سمجھا جاتا ہے،جہاں مقابلہ ہوگا…… وہاں حسد ہو گا۔ اور جہاں حسد ہوگا، وہاں محبت کی کوئی گنجایش نہیں بچتی۔
یہی بنیادی وجہ ہے کہ ہم ذہین لوگ پیدا نہیں کرسکے۔ ہم نے تحقیق کی بجائے سوچ اور فکر کی بجائے، بچوں کو مقابلے میں لگا دیا۔ پھر ساری زندگی وہ بچہ اسی دوڑ میں رہا۔
اُوشو لکھتا ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم، فرسودہ روایات، پرانے نظریات، اندھی تقلید اور اندھے اقتدار کو تہذیب کے نام پر طلبہ میں ٹھونس رہے ہیں۔ ایک چھوٹے معصوم بچے کے سر پر پانچ ہزار سال پرانی تہذیب و ثقافت کا بار ہوتا ہے۔
اساتذہ پر بات کرتے اوشو کہتا ہے: ’’وہ امراض جن میں پرانی نسلیں مبتلا رہی ہیں، انھیں استادوں کے ذریعے نئی نسلوں تک منتقل کیا جاتا ہے۔‘‘
اُوشو کے نزدیک ہمارے نظامِ تعلیم میں ہمیں سوچنے اور عقل و شعور استعمال کرنے کی بجائے فرماں برداری اور تابع داری سکھائی جاتی ہے…… جس کی وجہ سے ہم تقلیدوں کے غلام بنے رہتے ہیں اور اعتقادات کے سائے میں ہی عمر گزار دیتے ہیں۔
ایک جگہ اُوشو لکھتا ہے کہ طلبہ کو خیالات نہ دیں…… بلکہ سوچنے کی طاقت فراہم کرنا استاد کا فرض ہے۔
مزید کہتے ہیں کہ سوچ اور فکر کی تعلیم دی جانی چاہیے، اعتقاد کی نہیں۔
اُوشو کے نزدیک موجودہ نظامِ تعلیم ذہن کو بیدار کرنے کی بجائے اس بھر دیتا ہے۔ مزید اس پر کہتے ہیں کہ آپ کو عقل منتقل نہیں کی جا سکتی، اسے بیدار کیا جاسکتا ہے اور یہ کام استاد ہی کرسکتا ہے۔ پر بدقسمتی سے ہمارے استاد ہی اس نظام کو بدلنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ وہ بچوں کو ماضی کا بتاتے ہیں۔
اُوشو کہتے ہیں کہ موجودہ نظامِ تعلیم موزانہ کرواتا ہے کہ کون قابل ہے اور کون ناکارہ……! یہی بنیادی غلطی ہے۔ ایک شخص کا دوسرے سے موازنہ، مسابقت پیدا کرتا ہے۔ کوئی شخص آگے ہے، نہ پیچھے…… کوئی اوپر ہے اور نہ کوئی نیچے…… ہر شخص وہی ہے جو وہ ہے…… اور اسے ایسا ہی ہونا ہے۔
اُوشو کہتے ہیں کہ بہترین بننے کی تعلیم ہی اُسے اجازت نہیں دیتی۔ بچوں کو بدھا، راما اور گاندھی بننے کو کہا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ غلط بات اور کیا ہوسکتی ہے؟
کسی اور جیسا بننے کی کوشش میں انسان نہ صرف دوسرے جیسا بننے میں ناکام رہتا ہے، بلکہ وہ اس طرح بننے کے قابل بھی نہیں رہتا جس طرح بن سکتا تھا ۔
اُوشو لکھتا ہے: کسی اچھے منصوبے میں ناکام رہنا، غلط چیز میں کامیابی کے حصول سے زیادہ قابلِ قدر اور قابلِ منزلت ہوتا ہے، لیکن موجودہ نظامِ تعلیم مقابلہ کرواتا ہے…… اور جہاں مقابلہ ہوتا ہے وہاں محبت نہ ہوسکتی۔
آخر میں اوشو کہتا ہے کہ مَیں یہ نہیں کہتا کہ تعلیم کو سرے سے ختم کر دیا جائے۔ مَیں یہ کَہ رہا ہوں کہ تعلیم کی بنیاد کو تبدیل کیا جائے اور اس کی بنیاد محبت ہونی چاہیے۔
قارئین! آخر میں اگر چند لفظوں میں اس کتاب کا احاطہ کیا جائے، تو یہ ہوگا، محبت، سوچ و فکر، ماضی کی نفی، حال میں زندہ رہنا۔ اب ایک مثال کے بعد بات ختم کرتے ہیں ۔
اُوشو کہتا ہے کہ اگر دنیا میں صرف گلاب کا پھول ہوتا، تو کیا لوگ اسے پسند کرتے؟ اگر دنیا میں صرف سبز رنگ ہوتا، تو کیا آپ اسے پسند کرتے؟ ایک جنگل میں کئی قسموں کے پھول ہیں۔ ہر ایک کی اپنی خوش بو ہوتی ہے، ہر ایک کی خوب صورتی اپنی ہے۔ ہر رنگ اپنی کشش رکھتا ہے۔ اسی طرح دنیا ہے، یہاں کسی کا کسی سے مقابلہ نہیں۔ ہر ایک کی اپنی اہمیت ہے…… جو ڈاکٹر بنتا ہے، وہ ایک مزدور سے زیادہ عزت نہیں رکھ سکتا۔ کیا جو سائنس دان ہے، وہ ترکھان جتنا ہی قابلِ احترام ہے؟ کیوں کہ اس دُنیا میں سارے کام ایک فرد نہیں کرسکتا۔ ہر فرد نے اپنا کام کرنا ہے۔
ہر ایک انسان کی اپنی عزت ہے۔ کسی کے ساتھ مقابلہ کرنا انسانی وقار کے خلاف ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔