ترجمہ: توقیر احمد بُھملہ
ہر شخص کی زندگی میں ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جسے ’’زندگی کا شاہی اسٹیج‘‘ یا ’’زندگی کا شاہی دور‘‘کہا جاتا ہے۔
جب آپ اس اسٹیج، اس دور، اس مرحلے پر پہنچ جائیں گے، تو آپ اپنے آپ کو کسی بھی قسم کے بحث و مباحثے میں شامل ہونے پر مجبور نہیں پائیں گے، اور اگر آپ سے کوئی زبردستی بحث و تکرار شروع کر دیتا ہے، تو پھر بھی آپ اُسے غلط ثابت کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ حتی کہ وہ آپ سے کَہ رہا ہو کہ ’’تم اپنے خیالات سمیت جہنم میں جاؤ!‘‘ تو پھر بھی آپ کے ماتھے پر بل نہیں پڑیں گے۔ مسکراہٹ آپ کے ہونٹوں سے جدا نہیں ہوگی۔
اگر کوئی آپ سے جھوٹ بولتا ہے، تو آپ اسے بلا روک ٹوک جھوٹ بولنے دیں گے، اور اسے یہ احساس دلانے کی بجائے کہ آپ نے اس کا جھوٹ پکڑ لیا ہے، اور بے نقاب کرنے کی بجائے، آپ اس کی شکل کے بدلتے زاویے اور اس کی اداکاری سے لطف اندوز ہوں گے۔ آپ کے صبر کا پیمانہ نہیں چھلکے گا۔ حالاں کہ وہ آپ کے سامنے مسلسل جھوٹ بول رہا ہے اور آپ حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں!
آپ کو اچھی طرح اندازہ ہو جائے گا کہ آپ دنیا کو حسبِ منشا ٹھیک نہیں کر سکیں گے۔ آپ اس حقیقت کو جان چکے ہوں گے کہ جاہل جتنا بھی پڑھا لکھا ہو، وہ جاہل ہی رہے گا اور بے وقوف کو جتنی بھی پند و نصائح کرلیں وہ بے وقوف ہی رہے گا!
آپ اپنی تمام پریشانیاں، دکھ اور خود کو ایذا دینے والی چیزوں کو پسِ پشت ڈال کر، آگے بڑھتے رہیں گے اور آپ اپنی زندگی کو جینے کا سفر جاری رکھیں گے۔ ہاں……! آپ ان چیزوں کے بارے میں ضرور سوچیں گے جو آپ کو وقتاً فوقتاً پریشان کرتی ہیں۔ وہ چیزیں جو آپ کو شاہی زندگی کے مرحلے سے نکالنے کے درپے ہیں۔ وہ چیزیں جو آپ کو شاہی شاہ راہ پر سفر کرنے سے باز رکھتی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ رستے سے بھٹک جائیں، لیکن فکر نہ کریں۔ اگر آپ شاہی زندگی کے لطف سے آشنا ہوچکے ہیں، تو آپ کو یہ لطف و سکون پھر سے شاہی اسٹیج پر کھینچ لائے گا۔
جب کہ آپ دیکھیں گے کہ آپ کے اردگرد لوگ لہو و لعب میں مشغول غیر ضروری اور فضول چیزوں کے حصول کے لیے حیلے بہانے بناتے، لڑتے اور ایک دوسرے کو دھوکا دیتے ہوئے وقت ضائع کرنے میں مصروف ہیں، تو آپ ان کے پاس سے ایک فاتح بادشاہ کی مانند ادائے بے نیازی کے ساتھ مسکراتے ہوئے گزر جائیں گے۔
شاہی زندگی کے مرحلے میں آپ بخوبی جانتے ہوں گے کہ آج کی خوشی دیرپا نہیں اور یہ کل کی اداسی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ آپ پر یہ عیاں ہوچکا ہوگا کہ آج کا غم بھی چند پل کا ہے، کل اس کے برعکس خوشیاں بھی ہوں گی۔
قسمت اور مقدر پر آپ کا اعتبار بڑھے گا اور آپ کو اس بات کا زیادہ یقین ہوجائے گا کہ سب سے بہتر وہی ہے…… جو آپ کی لاکھ کوشش اور جد و جہد کے بعد بھی خواہش اور کوشش کے برعکس ملتا ہے۔
اگر آپ کبھی اس مرحلے پر پہنچ جائیں، تو اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش نہ کریں۔ کیوں کہ اس اسٹیج پر آپ اپنی زندگی کے بے تاج بادشاہ بن چکے ہیں۔ نہایت ہی باخبر، زیرک اور خود پر پختہ یقین رکھنے والے۔
ہم جتنے بڑے ہوتے جاتے ہیں، اتنے ہی زیادہ عقلی ہوتے جاتے ہیں…… اور ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اگر ہم تین سو یا تین ہزار والی گھڑی پہنتے ہیں، تو یہ ہمیں ایک جیسا ہی وقت بتائے گی۔
اور اگر ہمارے پاس ایک بٹوا ہے جس کی قیمت تیس روپے یا تین سو روپے، تو اس کے اندر جو کچھ رکھا ہے، اس کی قدر و قیمت پر ذرہ برابر بھی فرق نہیں ہوگا۔
اگر ہم تین سو مربع میٹر یا تین ہزار مربع میٹر کے گھر میں رہتے ہیں، تو جان لیں گے کہ تنہائی کا احساس ہر جگہ پر یکساں ہوتا ہے۔
آخر میں، ہمیں احساس ہوگا کہ مادی چیزیں جن کے سہارے ہم زندگی بسر کرنے کی دوڑ میں تھے، ان سے مزید خوشی نہیں مل رہی۔
چاہے آپ فرسٹ کلاس سیٹ پر سوار ہوں یا اکانومی کلاس میں، آپ اپنی منزل پر ایک ہی وقت میں پہنچیں گے۔
لہٰذا اپنے بچوں کو زندگی بسر کرنے کے لیے پیسے کی اہمیت کا ضرور بتائیں، مگر انہیں نمود و نمایش کرنے اور دولت کو بے جا خرچ کرنے یا جمع کرنے کی ترغیب ہرگز نہ دیں…… بلکہ انھیں میانہ روی اختیار کرنے اور دولت کو منصفانہ تقسیم کرنے کا ہنر سکھائیں۔
صبر و استقامت کا درست مفہوم انھیں سمجھائیں اور قناعت کا طریقہ انھیں عملی طور پر کر کے دکھائیں ۔ تاکہ ان کے پاس اتنا شعور ہو کہ جب وہ بڑے ہوں، تو چیزوں کو ان پر چپکی قیمت کی بجائے ان کی قدر اور اپنی ضرورت کے حساب سے منتخب کریں۔
حیات کے شب و روز گزرنے کی رفتار انتہائی خوف ناک حد تک تیز ہے۔ اِدھر جیسے ہی میں تکیے پر سر رکھتا ہوں، اُدھر صبحِ کاذب کی روشنی چمکنے لگتی ہے، اور جیسے ہی میں جاگ کر دن بسر کرنے کا کچھ سوچتا ہوں، تو سونے کا وقت ہو جاتا ہے۔
گنتی کے چند ایام…… وہ بھی تیزی سے گزر رہے ہیں جو کسی بھی حال میں رُکنے والے نہیں ۔
اور مَیں اپنے آپ سے کہتا ہوں کہ بے شک خوش نصیب ہیں وہ لوگ…… جو اپنی زندگی کی کتاب کو نیکیوں سے عبارت کرتے ہیں۔
(’’ڈاکٹر ابراہیم الفقی‘‘ کی عربی میں لکھی گئی تحریر کا ترجمہ، بہ شکریہ ’’عالمی ادب کے اُردو تراجم‘‘ فیس بُک صفحہ)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔