تبصرہ: فرمان اللہ 
’’تنہائی کے سو سال‘‘ ایک ناول ہے جو کہ 1967ء میں کولمبیا کے مصنف ’’گبریل گارشیا مارکیز‘‘ نے لکھا ہے۔اس کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوچکا ہے اور نوبل انعام یافتہ ناولوں میں شامل ہے۔ اُردو میں اس کا ترجمہ ڈاکٹر نعیم کلاسرا نے کیا ہے۔
اس ناول میں مارکیز نے بوندہ خاندان کے کثیر نسل کی کہانی بتائی ہے، جن کا سربراہ جوزے آرکیدو بوندہ تھا۔ اس نے ایک چھوٹی سی بستی کی بنیاد رکھی جو ماکوندو کے نام سے جانی جاتی تھی۔ ہر بستی یقینا کسی نہ کسی انسان نے بسانی ہوتی ہے۔ جس طرح بندہ بڑا ہوتا ہے اسی طرح جگہیں بھی بڑی بوڑھی ہوتی ہے اور بالآخر مر جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک بستی کی کہانی ’’تنہائی کے سو سال‘‘ میں ملتی ہے۔
چھے، سات نسلوں پر محیط یہ محض ’’بوئنداہ خاندان‘‘کی کہانی نہیں بلکہ تہذیبوں کے عروج اور زوال کا وقت مقامی ثقافتوں اور ان کے قصے کہانی کی روایت سے ہوکر گزرتا ہے۔
اس ناول میں ہمیں متضاد موضوعات ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو نظر آتے ہیں۔ موت، پیار، نفرت، جنگ، امن، جوانی، بڑھاپا، ان موضوعات کے ساتھ ساتھ ناول کی خواب ناک فضا قاری کے باطن میں سلگنے کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ اس ناول میں ہم قدم قدم پر حیرت سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہ حیرت حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ زبان و بیاں کے انوکھے پن سے پیدا ہوتی ہے۔
اس ناول میں مارکیز کی ابتدا، زندگی کے حالات و واقعات، اس کی اپنی نانی اور خالاؤں سے سنی زبانی روایات اور داستانیں ایک بڑے کینوس پر متشکل ہیں اور مارکیز کا زرخیز تخلیل ان کہانیوں کو حیرت انگیز شکل دینے لگتا ہے۔
’’تنہائی کے سو سال‘‘ کا ماحول بوسیدہ، لاتعلق اور زوال آمادہ تنہائی سے بھرا پڑا ہے۔ جنگ اور تشدد سے گزر کے واقعات اس تنہائی کو اور بھی شدید کرتے ہیں۔ اس بے گانہ اور خالی تنہائی کو اس کے کرداروں کے پاس بھرنے کے لیے جنسی عمل کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔ اگر اس ناول میں جنسی اختلاط کی بہتات نظر آئے، تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ یہ اس لاتعلق تنہائی کو بھرنے کا عمل ہے۔
ایک دفعہ یہ ناول آپ نے شروع کردی، تو پھر جب تک ختم نہیں ہوگا…… آپ کو سکون نہیں آئے گا۔ مختلف کرداروں کی مختلف کہانی قاری کو اپنے اندر سموئے رکھتی ہیں۔
کہانی میں بہت سے کردار ہیں ہر ایک اپنی جگہ ایک الگ مقام رکھتا ہے۔ مجھے جو سب سے زیادہ پسند آیا وہ ہے ’’ارسلا‘‘…… جو ایک رحم دل اور محبت کرنے والی عورت ہوتی ہے۔ہر ایک کو اپنے دل اور گھر میں جگہ دیتی ہے۔ ایک عورت کے لیے اس کی اولاد، اس کا گھر اور اس کے اردگرد کے لوگ یہ سب چیزیں کتنی اہمیت رکھتی ہیں…… یہ بھی اس کے کردار میں دیکھا جاسکتا ہے۔
ایک چیز جو مجھے اچھی نہیں لگی، وہ ہے کرداروں کے ایک جیسے نام۔ اس ناول میں کردار بھی بہت ہیں اور اس کے نام بھی ایک جیسے ہیں، تو بعض دفعہ یہ عمل قاری کو پریشانی میں مبتلا کرتا ہے۔
ناول پڑھتے ہوئے ایسا لگتا تھا کہ سب کچھ انڈر لائن کروں، اتنے خوب صورت اور معنی خیز جملے لکھے ہیں۔ کچھ جملے جو مجھے بہت پسند آئے، ذیل میں دیے جاتے ہیں:
٭ بندہ اپنے ہاتھ آگے کرے، تو پرندے ہتھیلی سے کوئی چیز کھانے کے لیے آجاتے ہیں۔
٭ تم بہت خوش قسمت ہو کہ تمھیں پتا ہے کہ ہم یہ جنگ کیوں لڑ رہے ہیں؟ کرنل بوندہ نے کہا:’’جہاں تک میرا تعلق ہے۔ مجھے اب ادراک ہوا ہے کہ مَیں صرف اپنے نام کی وجہ سے جنگ لڑرہا ہوں۔‘‘
٭ کسی بھی انسان کا بہترین دوست صرف وہی ہے۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’جتنا کوئی سوچتا ہے۔مرنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔‘‘
٭ مَیں کبھی ایسے شخص سے شادی نہیں کروں گی جو اتنا بے وقوف ہو کہ اُس نے اپنا ایک گھنٹا محض اس لیے ضائع کردیا بلکہ اس نے لنچ بھی نہیں کیا کہ وہ ایک لڑکی کو نہاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
٭ مردوں کے اندر عورت کی طلب تمھاری گمان سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔
٭ گم شدہ چیزوں کی پھلور روٹین کی عادتوں سے ہٹ کر چھپی ہوتی ہے۔ اس لیے انہیں ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے ۔
٭ یہ کوئی نئی بات تو نہیں کہ ایک عورت مرد کے لیے پاگل ہو رہی ہے۔
٭ بہتر یہی ہوتا ہے کہ مرد کو ضعیف الاعتقاد نہیں ہونا چاہیے۔
٭ ہر چیز ہر ایک پر ظاہر ہے۔
٭ لوگوں کے لیے خوشی کا سامان پیدا کرنے کے لیے لٹریچر سے بہتر کو چیز نہیں۔
٭ کسی بھی خاندان کی تاریخ ایک مشین کی طرح ہوتی ہے، جس کے واقعات پہیے کی طرح گھومتے رہتے ہیں۔ بار بار ظہور پذیر ہوتے ہیں۔
٭ لوگ فرسٹ کلاس میں سفر کرتے ہیں اور لٹریچر مال برداری کے بحری جہازوں میں جاتا ہے۔
٭ وہ جہاں بھی رہیں یہ بات یاد رکھیں کہ ماضی سراب ہے۔ محض ایک جھوٹ۔ یادداشت آخرانسان کو کیا دیتی ہے…… بہار کے موسم میں جھومنے والے بادل لوٹ کر نہیں آتے۔
٭ ہر محبت کسی عارضی سچ کی محتاج ہے۔
میرے بچے…… اس نے ٹھنڈی سانس بھری…… مجھے تو صرف اتنے یقین کی ضرورت ہے کہ مَیں اور تم اس لمحے زندہ ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔