ابو مسعود اشرف صاحب ایک بڑے دل و گردے، بڑے حوصلے، بڑے قد و قامت والے اور بڑی بھوک پیاس والے ایک ٹرمینیٹر بوائے ہیں۔ وہ کوئی عام اور سادہ تاتاری نہیں، بلکہ خصوصی فنکشنز کے حامل ایک ٹرمینیٹر قسم کے خاص تاتاری ہیں۔
خالد حسین کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/khalid/
’’کبڈی‘‘ کھیلنا اور ’’ٹریکنگ‘‘ کرنا اس کے دو بڑے شوق ہیں۔ بنیادی طور پر وہ ایک زمین دار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ قد سات فٹ کے قریب ہے۔ ان کے قدِ آدم کا اندازہ یوں لگالیں کہ وہ بغیر ایڑیاں اٹھائے زمین پر کھڑے کھڑے، بڑے آرام سے کارپوریشن والے پول سے بلب اُتار لیتے ہیں۔
بنیادی طور پر ایک شریف النفس شخص ہیں جو دوسروں کے کام آ کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ہاں ان کے طریقۂ کار سے کسی کو اختلاف ہوسکتا ہے۔ ’’نہ تھکنے والے‘‘، ’’نہ جھکنے والے‘‘ کے مصداق وہ سارا سارا دن کام کر کے بھی نہیں تھکتے…… اور جب وہ کھانے پہ آتے ہیں، تو لمبے کھابے ڈکارتے ہیں۔ گوشت سے بھرے ڈونگے کے ڈونگے ہڑپ کرجاتے ہیں۔ سلاد کے ہرے بھرے باغ اجاڑتے ہیں۔ دیگیں کی دیگیں الٹا دیتے ہیں۔ وہ خود فرماتے ہیں کہ
ہم کھانے پہ آئیں تو دیگیں ہی ڈکار لیں
چڑیوں کی طرح ہم کو کھانا نہیں آتا
چار پانچ جگ شربت پی جانا تو ان کے کھبے ہاتھ کا کام ہے۔ دو چار ٹرے فروٹ کھا جانا ان کا معمول ہے۔ ڈرائی فروٹ کا ایسا اجاڑہ کرتے ہیں کہ خدا پناہ! نہیں یقین تو اس کے ساتھ ٹریکنگ کے لیے کنکورڈیا جانے والے فیصل آبادی دوستوں سے پوچھ لیں۔
ان کے بقول وہ فقط اس لیے صبح جلدی اُٹھ کر اپنا ٹریک شروع کرکے سب سے پہلے اگلے پڑاو پر پہنچ جاتے تھے کہ وہاں موقع پر موجود ڈرائی فروٹ کا بڑے آرام و سکوں سے تیا پانچہ کرسکیں۔ جتنی دیر تک ان کے باقی ساتھی موقع واردات تک پہنچتے، وہ یہ کارنامہ سر انجام دے کر اس کا نام و نشان تک مٹا ڈالتے تھے…… مگر پھر بھی بھوکے بندے والا، بھولا سا منھ بنا کے بیٹھے بعد میں پہنچنے والوں کے استقبال کا ڈھونگ رچا لیتے تھے۔
دو تین سال قبل ہم ’’الائی ویلی‘‘ گئے۔ رات کو سونے سے قبل وہ ہم سے صرف اتنا دریافت کرتے کہ کل کا کیا پروگرام ہے؟ ہم جو منزل بتاتے، وہ ہم سب کو چھوڑ چھاڑ کے صبح جلدی اُٹھ کر چپ چاپ منزلِ مقصود کی طرف نکل جاتے۔ جتنی دیر میں ہم باقی لوگ وہاں تک پہنچتے، وہ وہاں پہنچ کر بڑے آرام سے دھوتی کرتہ پہنے وہاں پر موجود ساری کھانے پینے والی اشیا ڈکار کے لیٹنیاں مار رہے ہوتے تھے۔
کوئی ڈر کے مارے اس کے خلاف اپنے ’’بوتھا شریف‘‘ سے ایک لفظ بھی نہ نکالتا۔ وہ اس لیے کہ دھوتی انھوں نے پہنی ہوتی تھی۔ سب کو پتا تھا کہ دھوتی اُٹھانا قسم اُٹھانے سے بھی زیادہ آسان اور فوری ہو جانے والا کام ہے۔ لہٰذا اس سہولت کے وہ کبھی اور کسی بھی وقت جائز ناجائز فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔
ڈرائی فروٹ ان کی مرغوب غذا ہے۔ اسے وہ یوں چر جاتے ہیں کہ جیسے قربانی کے جانور کے آگے چارے کے ساتھ ساتھ گندم کے دانے کسی پرات میں ڈال کر رکھ دیں، تو وہ شر شر کر کے پہلے انھیں کھاتا ہے…… اور پھر باقی ماندہ ’’پٹھوں‘‘ کی طرف دیکھنا گوارہ کرتا ہے۔
زمین دارہ کرنے پر آ جائیں، تو جب تک پانچ دس ایکڑ زمین پر ایک ہی ’’گو‘‘ (Go) میں ہل نہ چلا لیں، انھیں سواد ہی نہیں آتا۔
گجر ہونا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لیے بڑی قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ کئی کئی دن بغیر نہائے گزارنا پڑتے ہیں۔ ’’خالص گجر‘‘ کی پکی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ دو دو ماہ نہ نہائے اور اس کی قمیص کا کوئی نہ کوئی ایک کونا بھینس کے گوبر سے رنگا ہوا، نشان زدہ ہو۔ صرف وہی ’’خالص گجر‘‘ کہلانے کا حق دار ہوتا ہے۔ یہ بھی اُسی قوم کے خالص گجر ہیں، جس کی پکی نشانی یہ ہے کہ یہ بھی کئی کئی دن نہیں نہاتے…… اور جب نہانے پہ آتے ہیں، تو پورے فیصل آباد کے ٹیوب ویل، پمپ، نلکے اور ٹوٹیاں چھوڑ کر شہر میں سے گزرتی نہر پر جا کر اس میں ٹُبی مار دیتے…… اور پانی کے اندر کئی کئی گھنٹے بسر کرتے ہیں، تاکہ پورے مہینے کا نہانے کا کوٹہ ایک دن میں ہی پورا کیا جا سکے۔
فیصل آباد سے وہاڑی شفٹ ہوتے وقت بھی انھوں نے اس بات کا خاص خیال رکھا کہ کوئی نہ کوئی نہر ان کے گھر کے آس پاس ضرور ہونی چاہیے۔ اسی لیے تو انھوں نے شہر کی ساری آبادی کو چھوڑ کر اپنا گھر نہر کنارے بنایا ہے۔ مہینے دو مہینے بعد اب جب بھی ان کا جی للچاتا ہے، دھوتی کے پٹ کھولتے ہیں اور ’’گڑام‘‘ کر کے نہر میں چھلانگ لگا دیتے ہیں۔
ایک دفعہ ہم فیصل آباد گئے۔ انھوں نے اپنی گاڑی موٹر وے پر سے امین پور انٹر چینج سے ہی اتار لی۔ حالاں کہ ہم نے فیصل آباد میں شہر کے اندر کافی آگے جانا تھا…… اور ہمیں اس سے اگلے والا انٹرچینج سوٹ کرتا تھا۔ نہر کنارے جا کر بریک لگا دی اور ایک لمبی سانس لے کر فرمانے لگے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں پر مَیں اپنے لڑکپن اور جوانی کے دنوں اپنے ’’دوستوں‘‘ کے ساتھ مل کر نہانے آیا کرتا تھا۔ شہر سے تھوڑا دور ہونے کی وجہ سے ہم یہاں کھل کے نہایا کرتے تھے اور ہمیں یہاں پر نصابی اور ’’غیر نصابی سرگرمیاں‘‘ ادا کرنے میں بھی کوئی مشکل پیش نہیں آتی تھی۔
کسی مشکل سے مشکل کام کو بھی وہ مشکل کام نہیں سمجھتے…… بلکہ اپنی قوتِ ارادی کی مضبوطی کے بل بوتے پر اسے بہت آسان بنا لیتے ہیں۔ دو کلو کڑاہی گوشت کسی برتن میں پڑا مل جائے، تو وہ بالکل بھی کوئی ٹینشن نہیں لیتے، بلکہ کمال کھابہ گردی سے دس منٹ میں نہ صرف اسے مکا چھوڑتے ہیں…… بلکہ اس کی ہڈیاں تک چبا ڈالتے ہیں۔ ہر اکٹھ پر وہ اونچی آواز میں اعلان کرتے ہیں کہ کوئی کھانا کھانے والا رہ تو نہیں گیا ہے……! جب انھیں تسلی ہو جاتی ہے کہ سب نے کھا پی لیا ہے، تو پھر وہ چوکڑی مار کر بیٹھ جاتے ہیں…… اور باقی ماندہ سارے کا سارا کھابہ بڑی آسانی سے کھا پی کر ہی اٹھتے ہیں۔
دل کے سچا اور زبان کے کھرے انسان ہیں۔ دوستوں کو ہمیشہ بہترین مشورے اور صائب رائے سے نوازتے ہیں۔
برسبیلِ تذکرہ، ایک بار ارشاد انجم نے ان سے دریافت کیا کہ بھائی! آپ کو تو پتا ہے کہ مجھے کمر درد رہتا ہے۔ ہمارے محلے میں ایک حکیم صاحب رہتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک عدد بگلا پکڑ کر لاؤ۔ اس کی چربی سے میں آپ کو ایک دوا بنا کے دوں گا، جو اس عارضے کے لیے بہت مفید ہوتی ہے۔ آپ تو نہر کے قریب رہتے ہیں۔ آپ کا وہاں اکثر آنا جانا لگا رہتا ہے۔ دو دو گھنٹے تو آپ ’’بقلمِ خود‘‘ پانی کے اندر ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر ’’بگلا وظیفہ‘‘ فرماتے رہتے ہیں۔ اب تو بہت سے بگلے بھی آپ کو اپنا دوست سمجھنے لگے ہوں گے۔ ظاہر ہے اسی دوران میں آپ کی ان سے گپ شپ بھی ہوتی رہتی ہو گی۔ آپ انھی سے پوچھ کر مجھے بتائیں کہ حکیم درست کہتا ہے یا ایویں گلاں ای بنیاں نے۔ یا پھر مجھے بگلا پکڑنے کی کوئی آسان سی ترکیب بتا دیں۔ ‘‘
محترم جواباً فرمانے لگے: ’’مَیں نے بہت کوشش کی ہے، مگر یہ میرے دوست نہیں بن سکے۔ میں الحمد للہ! ایک پکا مسلمان اور یہ ’’شدھ‘‘ بدھ مت ہیں…… جس طرح بدھ بھکشو اپنے دھرم کی پرارتھنا میں غرق ہو کر آلتی پالتی مارے کئی کئی دن ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہ کر زندگی بسر کر دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ بگلے بھی نہر کنارے کئی کئی گھنٹے ایک ہی ٹانگ پر کھڑے ہو کر اپنی کوئی مذہبی عبادت گزارتے رہتے ہیں۔ لہٰذا میرے کیا…… یہ بگلے کسی بھی مسلمان کے دوست نہیں ہوسکتے۔ ہاں، انھیں پکڑنے کا طریقہ مَیں آپ کو سمجھا دیتا ہوں، جو بہت آسان ہے ۔ کسی پنساری کی ہٹی پر جا کر اس سے بیس روپے کی گوند خرید لائیں اور پھر جب نہر کنارے کوئی بگلا پورے انہماک سے اپنی ایک ٹانگ پر کھڑا ہو کر عبادت میں غرق ہو، تو چپ چاپ جا کر یہ گوند اس کے سر پر رکھ دیں۔ شدید گرمی کی وجہ سے وہ گوند پگھل کر اس کی آنکھوں میں پڑ جائے گی، جس کی وجہ سے وہ اندھا ہو جائے گا۔ پھر تم بڑے آرام سے جا کر اسے پکڑ لینا۔‘‘
بڑے دل چسپ آدمی ہیں۔ بات کرنے اور اپنی بات سمجھانے کا ان کا اپنا خاص طریقہ ہے۔ خاص طور پر اپنے گھر کا ایڈریس سمجھانا تو ان کے آگے ختم سمجھیں۔ پہلی بار جب مَیں نے وہاڑی جا کر فون کرکے ان سے ملنے کے لیے اپنی خواہش کا اظہار کیا، تو کہنے لگے کہ ’’وہاڑی خانیوال روڈ پر چلتے آئیں۔ جس کیکر کے درخت پر کوا بیٹھا نظر آئے۔ فوراً سمجھ لینا کہ یہی میرا گھر ہے۔‘‘ مَیں تھوڑا آگے گیا، تو مجھے ایک کیکر کے درخت پر ایک کوا بیٹھا نظر آیا۔ مَیں فوراً وہاں بریک لگا کر اپنی گاڑی سے نیچے اُترا۔ اِدھر اُدھر دیکھا، مگر وہاں پر دور دور تک آبادی کا کوئی نشان نظر نہ آیا۔ پھر کیکر کے نیچے جا کر اوپر کی طرف کیکر کے اندر جھانکا کہ شاید کیکر کے اوپر ٹنگا کوئی ٹری ہاؤس ہو، مگر وہاں پر کچھ بھی تو نہ تھا۔ شکر ہے کہ اُس وقت دن کا سماں تھا۔ دور دور تک دکھائی دے رہا تھا۔ تھوڑا آگے گیا، تو وہ ایک جگہ مجھے سڑک کنارے کیکر کے نیچے بیٹھا مل گیا۔
اسی طرح ایک دفعہ فیصل آباد سے ہمارے دوست چوہدری سجاد حسین اور ارسلان گجر کسی کام کے سلسلے میں وہاڑی آئے۔ واپسی پر انھیں رات ہو گئی۔ چوہدری سجاد نے انھیں فون کیا کہ وہ ان سے ملنے کے لیے ان کے گھر آنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اپنے گھر کا ایڈریس سمجھائیں۔
جواباً بولے: ’’بڑا آسان ہے۔ آپ اسی سڑک پر تھوڑا آگے کی طرف چلتے آئیں۔ جہاں پر سڑک کنارے تمبو لگے نظر آ جائیں۔ سمجھ لینا کہ یہی میرا گھر ہے۔‘‘
وہ بے چارے ان خاص تمبوؤں کو سڑک کنارے تلاش کرتے چلتے رہے۔ رات کا وقت تھا۔ وہ ایک کلو میٹر چلے دو کلو میٹر چلے یہاں تک کہ دس کلو میٹر چلے گئے، مگر وہ تمبو کہیں پر بھی نظر نہ آ سکے۔ آخرِکار تھک ہار کے اسے دوبارہ فون کیا اور اپنی منزلِ مقصود کی نشانی بتائی۔
’’اوہ…… تسی تے اگے لنگ گئے او……! توانوں تمبو نظر نئیں آئے……؟‘‘
’’نہیں تو……!‘‘
’’اچھا…… فیر اوناں پٹ لیے ہونے واں……!‘‘ (یعنی اچھا…… پھر ان لوگوں نے اکھاڑ لیے ہوں گے۔)
بولے: ’’اچھا اب ایسا کرو فوراً واپس مڑو۔ مَیں سڑک کنارے کھڑا تمھارا منتظر ہوں۔‘‘
وہ چوں کہ ہمارے ’’بورے والا ٹریکرز گروپ‘‘ کا حصہ اور ایک اہم ممبر ہیں۔ ہم ان کے ساتھ مختلف محافل اٹینڈ کرتے اور سفر کرتے رہتے ہیں۔ وہ بڑے مضبوط ارادے والے ایک پکے اور دھوش قسم کے اَن تھک بائیکر ہیں۔ ’’الائی ویلی‘‘ سے واپسی پر وہ ایبٹ آباد سے اپنی 150 سی سی بائیک پر نکلے اور توڑ فیصل آباد پہنچ کر بریک لگائی۔ اگلے دن گھر پہنچ کر مَیں نے ان کا حال احوال پوچھنے کے لیے انھیں فون گھمایا، تو کہنے لگے: ’’مَیں تو فیصل آبادی دوستوں کے ساتھ مل کر مکشپوری ٹریک کرنے نتھیا گلی جا رہا ہوں۔‘‘
اور بھی ڈھیر سارے قصے کہانیاں ہیں جو کسی اور موقع پر رکھ چھوڑتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔