نصرت نسیم آپا کی قرنطینہ کی ڈائریاں محض کرونا کے روز و شب کی روداد نہیں بلکہ خوف و ہراس کے اُس دور میں انھوں نے ذاتی ڈائریوں کی شکل میں جو محسوسات اور مشاہدات قلم بند کیے ہیں، وہ ادبی شہ پاروں کی صورت میں ڈھل گئے ہیں۔ اس جان لیوا وائرس نے ایک مخصوص وقت کے لیے تمام انسانی سرگرمیوں کو معطل کردیا تھا اور بیشتر لوگ اپنے گھروں میں قیدی بن کر رہ گئے تھے۔ غیرمعمولی اور حادثاتی فراغت نے بعض لوگوں پر نفسیاتی طور پر بہت منفی اثرات مرتب کیے تھے لیکن کچھ لوگوں نے اس جبری فراغت کو غنیمت جانا اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ صحت مند اور مثبت اعمال انجام دینے کی ٹھانی۔
فضل ربی راہی کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazl-e-rabbi-rahi/
قرنطینہ کے جاں گسل اور پُرخوف لمحات میں نصرت آپا نے اپنے وقت کا بہترین استعمال کیا۔ مذہبی اور روحانی معاملات تو ویسے بھی ان کی زندگی میں لازمہ کی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم اُس وقت انھوں نے قرآنی دعاؤں اور روحانی کیفیات کی طرف زیادہ توجہ دی۔ بقیہ جو وقت ان کے پاس میسر تھا، وہ انھوں نے مطالعہ اور لکھنے کے لیے وقف کردیا جس کے نتیجے میں متنوع موضوعات پر مشتمل زیرِ تبصرہ کرونائی ادبی ڈائریاں وجود پذیر ہوئیں۔
قرنطینہ کے دوران میں فارغ وقت میں کرونا کے حوالے سے موجودہ ڈائریاں ایک نیا اور اچھوتا خیال ہے۔ ان کی اہمیت اس وقت بھی مسلّم ہے اور مستقبل کے لیے تو یہ ایک لحاظ سے کرونا کی ستم گریوں پر مشتمل تاریخ علمی اور ادبی پیرائے میں محفوظ ہو رہی ہے۔ آنے والے دور میں ادب کے طالب علموں کے لیے یہ منفرد ڈائریاں ’’کرونائی ادبی اثاثہ‘‘ ثابت ہوں گی اور وہ ادب کی اس مخصوص صنف پر علمی تحقیق کریں گے اور اسے ادبی کارنامہ قرار دیں گے۔
نصرت آپا کا مطالعہ بہت وسیع ہے اور اس کا اندازہ اس کتاب میں شامل ڈائریاں پڑھ کر بہ خوبی ہوتا ہے۔ فاضل مصنفہ کی ہر ڈائری میں کسی نہ کسی حوالے سے علم و ادب کی باتیں چھیڑی گئی ہیں۔ کہیں کتابوں کے میلوں کا تذکرہ ہے، تو کہیں مشہور اور ممتاز ادیبوں اور شاعروں کے حوالے دیے گئے ہیں۔ کہیں موضوع کی مناسبت سے ان نگارشات میں اساتذہ شعرا کے مشہور اشعار شامل کرلیے گئے ہیں، تو کبھی ان کی ادبی قامت پر بات کی گئی ہے۔ جہاں کہیں موسم کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے، تو اس سے جڑی قدرتی خوب صورتیوں کو عطر بیز انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ رمضان المبارک کے دوران میں عبادات اور دعاؤں کی روحانی کیفیات کا تذکرہ کچھ ایسے اسلوب میں کیا گیا ہے کہ پڑھ کر روح کو آسودگی اور تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ جہاں کہیں مصنفہ نے اپنی جنم بھومی کوہاٹ کے حوالے سے بات کی ہے، تو انھوں نے اس مَردم خیز خطے سے تعلق رکھنے والے نامی گرامی شاعروں اور ادیبوں کا ذکرِ خاص ان ڈائریوں کا اہم حصہ بنا دیا ہے۔ اس طرح رمضان، عید اور شادی بیاہ کے مواقع پہ کوہاٹ سے متعلق رسم و رواج اور مخصوص علاقائی اور روایتی کھانوں کا لذیذ اور چٹخارے دار تذکرہ نصرت آپا کی اپنی جنم بھومی سے غیرمعمولی محبت اور وابستگی کا مظہر ہے۔
ان ادبی ڈائریوں میں مصنفہ نے اپنے بچپن، تعلیم، کتابوں سے عشق اور اپنے پیارے رشتوں سے وابستہ یادداشتیں بہت عمدگی سے بیان کی ہیں۔ ان کی اس طرح کے تذکروں میں ایک طرح کی ناسٹلجیا کی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ وہ اپنی ماضی کی یادیں اور ان سے جڑے سہانے خواب بہت مسحور کن انداز میں بیان کرتی ہیں۔ ماضی کی ان یادوں اور خوابوں میں پڑھنے والوں کو بھی اپنے بچپن کی سہانی یادوں کا عکس نظر آنے لگتا ہے۔
نصرت آپا کی تحریر کی خوبی یہ ہے کہ اس میں اعلا ادبی رنگ جھلکتا ہے۔ فقروں کا در و بست اساتذہ ادیبوں کی طرزِ تحریر کی یاد دلاتا ہے۔ دل چسپ، رواں اور ادبی چاشنی سے مملو اندازِ بیاں میں جب ہندکو الفاظ کا تڑکا لگایا جاتا ہے، تو طرزِ تحریر میں مزید جاذبیت پیدا ہوجاتی ہے اور قاری غیرمحسوس انداز میں ان ڈائریوں میں بیان کیے گئے احساسات اور مشاہدات کا رواں دواں حصہ بن جاتا ہے۔
قرنطینہ کے دوران میں لکھے گئے یہ کرونائی ادبی شہ پارے اپنے اندر متنوع موضوعات پر مشتمل دل چسپ ادبی تذکرے ، علمی و سیاسی شخصیات اور ان سے وابستہ واقعات، قریبی رشتوں سے جذباتی وابستگی، کوہاٹ اور ہندکو روایات سے جڑی تہذیب و ثقافت اور قرآنی دعاؤں اور روحانی کیفیات کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔
دل چسپ ادبی نگارشات اورقرنطینہ کے شب و روز کے محسوسات و مشاہدات پر مشتمل یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔