تبصرہ: شگفتہ شاہ (ناروے)
لوک کہانیاں آپ کے ارد گرد ایک ایسا طلسماتی حصارکھینچ دیتی ہیں کہ پھر آپ زندگی بھر اس سے باہر نہیں نکل پاتے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا کہ بچپن میں سنی کہانیاں کچھ ایسے من میں بسی رہیں کہ عمر کے ہر حصے میں وہ میری ہم جولیاں رہیں۔ ہم لوگ جو اپنی زندگیوں کی پچاس ساٹھ بہاریں دیکھ چکے ہیں، ہمارے لیے وہ کہانیاں یوں بھی بہت اہمیت کی حامل تھیں کہ ہم جب ان کہانیوں کو اپنے بزرگوں کی زبانی سنتے، تواپنی پسند کے مطابق ان کے منظر تشکیل دیا کرتے اور پھر ان مناظر میں خود ہی رنگ بھرا کرتے تھے۔ شہزادوں کے ہم راہ کوہِ قاف کی مہم جوئی پر روانہ ہوتے، پرستان کی سیر کرتے، سر سبز و شاداب وادیوں میں گھومتے، بولتی مینا کی تلاش میں نکلتے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شہزادی کو دیو کی قید سے رہائی ملنے پر سکھ کا سانس لیا کرتے تھے۔
لوک کہانی ایک ایسی روایت ہے جس کا کوئی ملک ہے نہ کوئی مصنف، یہ ایک ایسا مشترکہ تہذیبی ورثہ ہے،جس کی روایت مشرق و مغرب کے تمام ملکوں میں موجودہے۔ دیس دیس گھومتی یہ کہانیاں دوسری تہذیبوں کے زیرِ اثر نئے لبادے اوڑھ کر، انھیں نئے رنگ عطا کرتی ہوئی اپنے سفر کو جاری رکھے ہوئے تھیں کہ پھر زبانی کہانیوں کو قلم بند کرنے کا دور آیا اور بہت سی کہانیوں کا رشتہ مخصوص ملکوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ ہم ایسی ہی کچھ خاص کہانیاں آپ تک پہنچانے کی کوشش کریں گے، جنھیں ناروے کی لوک کہانیاں کہا جاتا ہے۔ نارویجین لوک کہانیوں کے اس ورثے کو جس طرح تحریری صورت میں منتقل کر کے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا گیا، وہ بھی ایک انوکھی کہانی ہے۔
ناروے کے نامور ادیب ’’اَس بیورنسن‘‘، ’’گرِم برادران‘‘ کے کام سے بہت متاثر تھے۔ یہ دونوں جرمن بھائی جرمنی کی لوک کہانیوں کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کرنے کے بعد 1812ء میں شائع کروا چکے تھے۔ اَس بیورنسن نے 1830ء کی دہائی کے وسط سے ناروے کی لوک کہانیوں کو محفوظ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ 1837ء میں شاعر، ادیب اور راہب یورگن مُو بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے اور انھوں نے گھر گھر جا کر اس ادبی وراثت کو کاغذ پر منتقل کرنا شروع کر دیا۔ انھوں نے ان کہانیوں کو تحریری شکل دیتے وقت لسانی طور پر بھی ایک بہت اہم کام سرانجام دیا۔ انیسویں صدی کے اوائل تک ناروے کاڈنمارک کے ساتھ الحاق تھا۔ اس لیے ناروے کی تحریری زبان ڈینش تھی، جب کہ ناروے کے زیادہ تر لوگ مقامی بولیاں بولتے تھے۔
اَس بیورنسن نے لوک کہانیوں کو تحریر کرتے ہوئے زبانی اندازِ بیان کو اپنایا اور ڈینش زبان میں نارویجن الفاظ اور محاورات کو بھی شامل کیا۔ انھوں نے راوی کی زبان کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی اور یوں تحریری نارویجن زبان کی داغ بیل ڈالی۔
اَس بیورنسن کی تحریر کردہ کہانیوں کا پہلا کتابچہ 1841ء میں چھپ کر منظرِ عام پر آیا، تو انھیں بے حد پذیرائی حاصل ہوئی۔ جب 1871ء میں اَس بیورنسن اور یورگن مُو کی جمع کردہ نارویجن لوک کہانیوں کا ایک ضحیم مجموعہ شائع ہوا،تو اسے اس قدر مقبولیت حاصل ہوئی کہ ان کہانیوں کو یکجا کرنے والوں کے نام ایک معروف اصطلاح بن گئے اور ان کہانیوں کو اَس بیورنسن اور یورگن مُو کی کہانیاں کہا جانے لگا۔
چند سال بعد 1879ء میں جو ایڈیشن شائع ہوا، اس میں ہر کہانی سے متعلق تصاویر بھی شاملِ اشاعت کی گئیں، جوکہ ناروے کے مشہور مصوروں تھیوڈور کیٹلسن اورایرک ویرنشولد کے فن پارے تھے۔ تھیوڈور کیٹلسن نے کہانیوں کے افسانوی کرداروں، جانوروں، لوک ثقافت اور فطرت کے مناظر کو اس مہارت سے نقش کیا کہ یہ منفرد تصویری دنیا نارویجن لوک ثقافت کی شناخت بن گئی۔
ناروے میں یہ لوک کہانیاں اتنی مقبول ہیں کہ آج کم و بیش ہر گھر میں دو جلدوں پر مشتمل یہ مجموعے ذاتی لائبریری کا حصہ ہیں۔ بہت سی کہانیوں پر بچوں کے لیے فلمیں اور ڈرامے بن چکے ہیں۔ہر چھوٹا بڑا اَس بیورنسن اور یورگن مُو کی کہانیوں سے شناسا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔