میرے مقالے (پاکستانی اُردو ناولٹ) کی تکمیل کے دوران میں اُردو ادب کے سب سے بڑے ناولٹ نگار رحمان مذنب کی دریافت ہوئی۔ انھیں زندگی میں منٹو کے مقابل کھڑا کرکے، دوست نما دشمنوں نے اُن کا بڑا نقصان کیا۔ وہ افسانے کے ساتھ ساتھ ناولٹ اور ناول کے بھی اہم ترین ادیب تھے اور ناولٹ میں تو اُن کا کوئی ثانی ہی نہیں۔ منٹو کو اُن کی عجلت پسندی اور معاشی مجبوریوں نے ناولٹ اور ناول لکھنے سے باز رکھا، ورنہ وہ اس میدان میں بھی اپنا لوہا منوانے کی پوری صلاحیت رکھتے تھے۔
رحمان مذنب کو لاہور اور طوائف کی صورت میں ایسا خام مال ملا جسے انھوں نے اعلا ترین تخلیقی ادب میں ڈھال دیا۔ اُن کی تحریریں حلقۂ اربابِ ذوق کی تنقیدی سان پر بھی تراشی خراشی گئیں۔ یہ بھی اُن کا مثبت پہلو کہا جاسکتا ہے۔
اس مقالے میں ہمیں شوکت صدیقی اور اے حمید کے اعلا پائے کے ناولٹ پڑھنے کا موقع بھی ملا۔ ناولٹ میں ان دونوں ناولٹ نگاروں کی نگارشات بھی بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔
اپنے ناولٹ ’’پے انگ گیسٹ‘‘ میں بشرا رحمان نے تمام ادیبوں کے خوب صورت ہیرو، ہیروئن والے روایتی فارمولے کو توڑتے ہوئے بنگالی جوڑے کو جو بظاہر خوب صورت نہیں مگر خوب سیرت ہیں، ہیرو ہیروئن بنا کر اپنی ایک انفرادی شان پیدا کر دکھائی ہے۔
ژولیاں نے فرانسیسی ہوکر موضوع کو اس فن کارانہ اُسلوب سے خوب صورت اُردو نثر میں ڈھالا ہے کہ قاری ورطۂ حیرت میں پڑ جاتا ہے۔ اشفاق احمد کا ’’گڈریا‘‘ ایک بالکل ہی الگ طرح کی کہانی ہے۔ قدرت اللہ شہاب کا ’’یا خدا‘‘ بھی اپنے موضوع اور اُسلوب کے باعث یادگار بن جاتا ہے۔
بڑے ادیب تو ہر پڑھنے والے کو متاثر کرتے ہیں، مگر جب کوئی نیا یا گم نام ادیب ایسا کر دکھاتا ہے، تو اُسے اضافی نمبر دینے پر مجبور ہونا ہی پڑتا ہے۔ جیسے میرے لیے خان فضل الرحمان خاں کا نام نیا تھا، مگر اُن کا کام میرے لیے اَزحد حیران کُن ثابت ہوا۔ ’’غالب اور ڈومنی‘‘ میں کیا اعلا ترین نثر لکھی انھوں نے۔ غالبؔ پر لکھنے کا حق ادا کر دیا۔ اسی طرح شفیق الرحمان کا ناولٹ ’’برساتی‘‘ بھی اپنی جگہ ایسی زبردست تحریر ہے۔
ابراہیم جلیس کا ’’چالیس کروڑ بھکاری‘‘ تو ہر ترقی پذیر ملک اور غربت سے لڑتے مجبور و مظلوم عوام کی کہانی ہے۔ احمد عقیل روبی ’’چوتھی دنیا‘‘ میں علامتی انداز میں جانوروں کی زبانی جو کچھ کہتے اور کہلواتے ہیں، اُس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
اخلاق احمد کا ناولٹ ’’ابا‘‘ بھی انسان کے نفسیاتی مسائل اور معاشرے کے مثبت یا منفی رویے کی بات کرتا ہے۔
طاہر جاوید مغل اپنے ناولٹ ’’جذبۂ دَروں‘‘ میں ایک شرمیلے اور قوتِ فیصلہ میں کم زور نوجوان کی نفسی کیفیات اور نتائج بڑی خوبی سے دکھاتے ہیں۔
زاہدہ حنا اپنے ناولٹ ’’نہ جنوں رہا نہ پری رہی‘‘ میں ہمیں تقسیم اور رشتہ داریوں کے کچھ معاملات دکھانے کے ساتھ ساتھ پارسی رسم و رواج سے جو آگاہی دیتی ہیں، وہ اُن کے اس ناولٹ کو ناقابلِ فراموش کے درجے پر لے جاتی ہیں۔
علی عباس جلالپوری کا ناولٹ ’’پریم کا پنچھی پنکھ پسارے‘‘ ہمیں تقسیم سے پہلے کا وہ منظر نامہ دکھاتا ہے جب ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب ایک ساتھ رہا کرتے تھے۔ ایک لبرل فضا موجود تھی۔
ڈاکٹر سلیم اختر کا ’’ضبط کی دیوار‘‘ بھی ایک نفسیاتی ناولٹ ہے۔ نوعمری میں چاہے جانے کا جذبہ اور طوائف کے اندر دبی ہوئی عورت اور ممتا۔
’’پاکستانی اُردو ناولٹ‘‘ کے اس 70 سالہ سرمایے پر نظر ڈالتے ہوئے ہمیں کوئی مایوسی نہیں ہوتی…… بلکہ ایک اطمینان سا نصیب ہوتا ہے۔ اُردو بڑی خوش قسمت زبان ہے جس کا ادبی سرمایہ مختصر ترین مدت میں قابلِ قدر حیثیت اختیار کرگیا اور اُسے ہر شعبے میں اچھے لکھنے والے میسر آتے چلے گئے۔
اس مقالے کی تحریر کے دوران میں جن تحریروں نے زیادہ متاثر کیا اُن میں سے کچھ کا ذکر تو ہوچکا ہے۔ جمیلہ ہاشمی کا ’’یادوں کے الاؤ‘‘ جو سکھوں کی رہتل کے بارے میں ہے، بہت خوب صورت انداز میں لکھا گیا ہے، وہ بھی اپنی جگہ ایک یادگار تحریر ہے۔
رحمان مذنب کا ’’کوہسار زادے‘‘ بھی اپنی مثال آپ ہے۔
ناہید شاد کا ’’تم چلو ہم آتے ہیں‘‘ اپنے عنوان اور موضوع کے ساتھ اسلوبیاتی سطح پر کس قدر جڑا ہوا ہے کہ اُس کی تعریف الفاظ میں کرنی مشکل ہے۔ گو ناہید شاد میرے علم کے مطابق اُردو ادب کا کوئی معروف نام نہیں، مگر اُس کا کام قابلِ تعریف ہے۔ اچھی تخلیق بھی اللہ کی کرم نوازی ہے جو کسی پر بھی کسی وقت ہو سکتی ہے۔
اسی طرح اخلاق احمد کا ناولٹ ’’ابّا‘‘ بھی دل گداز تحریر ہے جسے مصنف نے ڈوب کر لکھا ہے۔
اس تحقیقی تجزیے کی صورت میں یہ بات بھی واضح ہوئی کہ ناولٹ یوں توکم لکھے گئے، مگر ان میں کامیاب اور یادگار تحریروں کی شرح افسانے اور ناول سے کہیں بڑھ کر ہے۔
یہ پہلو بھی اسی مقالے کی دریافت سمجھا جائے کہ ناولٹ پر ہر ناولٹ نگار نے افسانے اور ناول سے کہیں بڑھ کر محنت کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ناولٹ پڑھنے میں قاری کو افسانے یا ناول کے مقابلے میں زیادہ لطف دیتا ہے۔ کیوں کہ اس پر ناولٹ نگار کی گرفت دیگر دونوں اصناف کے مقابلے میں زیادہ سخت اور نپی تلی ہوتی ہے۔
کسی بھی زبان کے ادب کو بڑھاوا دینے میں شاعری اور نثر دونوں مل کر اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انھیں ہم دریا کے دو کنارے بھی کَہ سکتے ہیں۔ کیوں کہ زیادہ تر ادبی شخصیات یا تو شاعری کی ہو رہتی ہیں یا پھر نثر کو اپنا لیتی ہے۔ بہت کم ادیب شاعر ایسے ہوں گے جنھیں ادبی آل راؤنڈر کہا جا سکے۔ اس مقالے سے ناولٹ کو اس کی اصل حیثیت میں پہچان ملے گی اور وہ افسانے یا ناول میں منھ چھپاتا نہیں پھرے گا۔
ادبی رہنمائی اور مثبت مشوروں سے خود کو بہتر بنانے کی مثال اسی مقالے میں ’’ژولیاں‘‘ کی ہے جو فرانسیسی نژاد ہونے کے باوجود سیکھنے کی لگن لے کر پہلے ہندوستان اور پھر پاکستان آیا۔ فرانسیسی ہونے کے ناتے ناولٹ اس کے خمیر میں موجود تو تھا، مگر اُس نے خود کو ادبی لحاظ سے نہ صرف پالش کیا، مگر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار ایک اجنبی زبان کو اپنا بنا کر کیا۔
ناولٹ کی صنف جو سنجیدگی اور محنت مانگتی تھی، وہ اس نے کر دکھائی اور پاکستانی اُردو ناولٹ کے ادبی سرمایے میں خاطر خواہ وسعت کا باعث بنا۔
ژولیاں نے خود بھی ناولٹ سے عزت کمائی اور اُردو ناولٹ کو بھی نیا موڑ اور وقار بخشا، جیسا تقسیم سے پہلے منٹو، عصمت چغتائی اور کرشن چندر کی ٹرائیکا نے افسانے کو بخشا تھا۔ ان تینوں نے مل کر افسانے کو ایسا عروج عطا کیا کہ افسانہ اُردو زبان میں ایک مقبول اور بااعتبار صنف کا مقام پاگیا۔ بڑے ادیبوں اور بڑے کھلاڑیوں کا یہی کمال ہوتا ہے کہ وہ اپنی فیلڈ کی عزت اور مقام بڑھاتے ہیں۔
اسی طرح مجھے بھی امیدِ واثق ہے کہ ’’ژولیاں‘‘ کے بعد اُردو ناولٹ مزید آگے جائے گا۔ آج کے قاری کے پاس جتنا وقت ہے، وہ اُس کے حساب سے کتاب منتخب کرتا ہے۔ اگر قاری کے پاس افسانے اور ناول کے درمیان ناولٹ جیسا پڑاؤ موجود ہے، تو اُسے اِس سے محروم کیوں رکھا جائے؟
اگر مصنف کی بات پورے طریقے سے پچاس (50) اور سو (100) صفحات میں مکمل ہو رہی ہے، تو وہ بلاجواز 200، 300 صفحے کیوں لکھے؟
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔