فرانس کا مشہور ادیب ’’امیل زولا‘‘ (Emile Zola) سنہ 1840ء میں پیرس میں پیدا ہوا اور 1902ء میں وہیں پیوندِ خاک ہوا۔ اس کا شمار فرانس کے چوٹی کے ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ جہاں تک حقیقت نگاری کا تعلق ہے، اسے اپنے تمام معاصرین پر سبقت حاصل ہے۔ اس نے بہت سے ناول لکھے، مگر جو مقبولیت ’’ناناں‘‘ کو حاصل ہوئی، وہ اس کی اور کسی تالیف کے حصے میں نہیں آئی۔
’’ناناں‘‘ پیرس کی ایک فرضی طوائف کا نام ہے جس کی رنگین زندگی کے نشیب و فراز کو ’’زولا‘‘ نے اپنے عدیم النظیر اسلوب میں بیان کیا ہے۔ مختلف ملکوں کے متعدد اہلِ قلم نے طوائف کی زندگی کا نقشا کھینچا ہے…… اور انھیں کم و بیش شہرت بھی حاصل ہوئی ہے، مگر جو شہرت اور مقبولیت ’’ناناں‘‘ کے حصے میں آئی، وہ دنیائے ادب میں بالکل بے مثال ہے۔
’’زولا‘‘ نے ’’ناناں‘‘ کے نام سے ایک ایسی نازنین کی تخلیق کی ہے، جو اس قماش کی تمام ہستیوں کی سرتاج تسلیم کی گئی ہے۔
’’ناناں‘‘ پیرس کی خاک سے اُٹھی، مگر جوان ہو کر وہ اس بے نظیر شہر کے اُفق پر چندے آفتاب اور چندے ماہتاب ہو کر چمکی…… بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ ہزاروں مشتاقانِ جمال کے دلوں پر بجلی بن کر گری اور ان کے خومن ہستی کو خاک سیاہ کرگئی۔ اس کی اٹھتی ہوئی جوانی کیا تھی، اہلِ زمانہ کے لیے ایک آفت، بلکہ قیامتِ صغرا تھی۔ 17 برس کے نوخیز نوجوان سے لے کر 70 برس کے پیر فرتوت تک سبھی اس کے حریمِ ناز میں سجدہ ریز ہونے کے لیے بے تاب تھے۔ بڑے بڑے امیروں نے اپنے مال و دولت کے ساتھ اپنے ننگ و ناموس کو بھی لٹا دیا…… اور جن تہی دست نوجوانوں کے پاس اپنی جانِ ناتواں کے سوا اور کوئی متاعِ عزیز نہ تھی، انھوں اس کی چوکھٹ پر جان دے دی۔
’’ناناں‘‘ غیر معمولی طور پر حسین تھی…… مگر اس کاحسن جہاں سوز تھا۔ جو شخص بھی اس کی شمعِ حسن کے نزدیک آیا، پروار جل کر خاک و سیاہ ہوگیا۔ اسی قتالۂ عالم کی داستان کو ’’زولا‘‘ نے اپنے زورِ قلم سے ایسے دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے جس سے اس کا قصہ فرانسیسی ادب کا ایک بے مثال اور غیر فانی شاہکار بن گیا ہے۔
اگر چہ ’’ناناں‘‘ کا حسن زوال پذیر اور فانی ثابت ہوا، مگر ’’زولا‘‘ نے اس کی جو رنگین داستان قلم بند کی ہے، وہ اپنی مقبولیت کے لحاظ سے اب تک لازوال ثابت ہوئی ہے۔
’’ناناں‘‘ کا انجام بڑا عبرت ناک اور سبق آموز ہے، مگر جادو نگار مصنف نے اس کی رنگین زندگی کے مختلف پہلوؤں کو ایسے دل فریب پیرایہ میں بیان کیاہے کہ اس داستان کی دلچسپی آخری وقت تک قائم رہتی ہے۔
کتاب ہذا میں بارہ ابواب ہیں اور ہر ایک باب میں ’’زولا‘‘ نے ’’ناناں‘‘ کی زندگی یا پیرس کی خوش باش سوسائٹی کا الگ الگ مرقع پیش کیا ہے…… اور ہر ایک مرقع اپنی اپنی جگہ بے حد دلچسپ ہے۔ چناں چہ کتاب کی عالم گیر مقبولیت کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ اس کے ہر حصے میں بامذاق ناظرین کی ضیافتِ طبع کا سامان موجود ہے۔
(ناول:”Nana”، مصنف: "Emile Zola”، ترجمہ: ’’ناناں‘‘، ترجمہ نگار: ’’بشیر چشتی‘‘، پبلشر: ’’فکشن ہاوس۔‘‘
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔