تحریر: ابنِ محمد یار
(زیرِ نظر تحریر دراصل ایک انگریزی کتاب "A New Earth” کے اُردو میں ترجمہ شدہ کتاب ’’نئی زمین‘‘ کا پیش لفظ ہے، مدیر)
سمندروں پار خانہ کعبہ اوتھے جانا سوکھا
نفس دا نالہ ٹپ کے اس دل تک جانا اوکھا
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک انسان نے جتنی بھی تاریخ دیکھی ہے، ان میں تما م پیغمبر، فلاسفر، دانش ور، صوفیائے کرام ، اولیائے کرام، بدھا، رشیوں اور بھگتوں نے ایک ہی بات پر زور دیا ہے کہ ’’اپنے آپ کو جانیں‘‘، ’’اپنے اندر ڈبکی لگائیں۔‘‘ بے شک اس نظریے کو ہر مذہب نے الگ نا م دیا ہے، لیکن معنی سب کے ایک ہی ہیں۔ مسلمانوں نے اسے ’’عرفانِ نفس‘‘، ’’عرفانِ ذات‘‘ اور خودی کا نام دیا ہے۔ ہندو اس نظریے کو ’’آتم بودھ‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ قدیم یونان کے فلاسفرز نے اسے ’’ناؤ دائے سلف‘‘ (Know Thyself) کہا ہے۔ بدھ مت میں اس نظریے کو ’’گیان‘‘ کہا جاتا ہے۔ کچھ دانش وروں نے اسے "Consciousness”, "Awareness” اور "Enlightenment” کا نام دیا ہے۔
اس بات سے ایک چیز تو واضح ہو جاتی ہے کہ یہ نظریہ، انسان کی زندگی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اور جن کو بھی عرفان نصیب ہوا ہے، انھوں نے بھی اس پر انتہائی زور دیا ہے۔ ایک اور بات جو انتہائی قیمتی ہے اور سوچنے سے تعلق رکھتی ہے، وہ یہ ہے کہ اہلِ عرفان کے پاس علم کی جو جھلک نظر آتی ہے، کسی بھی فلاسفر کے پاس اس علم کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔ کیوں کہ اہلِ عرفان جو بات کرتے ہیں، وہ ان کا اپنا ذاتی تجربہ ہوتا ہے، لیکن فلاسفر محض دماغ میں ٹامک ٹویاں مارتے نظر آتے ہیں۔ دماغ سے ہم صرف وہی سوچ سکتے ہیں جو پہلے سے ہماری یادداشت کا حصہ ہو۔ دماغ اس قابل ہی نہیں کہ وہ انجان اور نامعلوم کے بارے میں سوچ سکے۔ یہ جتنا بھی نامعلوم علم ہمارے پاس موجود ہے، یہ یا تو وحی کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے یا پھر الہام کے ذریعے۔ اور ان دونوں کا دماغ سے کوئی لینا دینا نہیں۔ تو یہاں پر ایک بات تو صاف ہو جاتی ہے کہ اہلِ عرفان کی اپنی ایک الگ دنیا ہے، جس تک ایک عام انسان بنا عرفان حاصل کیے نہیں پہنچ سکتا۔
اس کائنات میں جتنی بھی مخلوقات موجود ہیں، وہ سب جس طرح پیدا ہوتی ہیں، اسی طرح مر جاتی ہیں…… یعنی ایک بلی، بلی پیدا ہوتی ہے اور بلی ہی مر جاتی ہے۔ ایک گائے، گائے کی طرح ہی پیدا ہوتی ہے اور گائے ہی مر جاتی ہے۔ تمام پودے اور درخت بھی جس طرح پیدا ہوتے ہیں اسی طرح مر جاتے ہیں…… لیکن صرف انسان اکلوتی مخلوق ہے جو بے پناہ امکانا ت لے کر پیدا ہوتی ہے۔ انسان کچھ بھی ہو سکتا ہے…… یہ ہٹلر، اسٹالن، ہلاکو، چنگیز خان اور سکندر بھی ہو سکتاہے اور یہ رومی، بسطامی، سلطان باھو، گنج شکر اور قلندر بھی ہوسکتا ہے۔ یہ گرے، تو اسفل سافلین میں جا گرتا ہے، اور اُٹھ جائے، تو احسنِ تقویم کا درجہ پا لیتا ہے۔ انسان ایک بیج کی طرح ہے۔ یہ ایک تناور درخت بھی ہو سکتا ہے اور یہ محض بیج رہ کر ہی اس دنیا سے رخصت ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالا نے اس کے بارے میں قرآنِ مجید میں کئی جگہ پر ذکر کیا ہے۔ کبھی انسان کو سب سے اشرف کہا ہے، کبھی انسان کو جانوروں سے بھی بدتر کہا ہے، کبھی انسان کو ذلیل کہا ہے، کبھی بھولا اور کم ہمت کہا ہے ، کبھی لا علم کہا ہے ، کبھی احسنِ تقویم کہا ہے اور کبھی اسفل سافلین کہا ہے۔ قرآن کے علاوہ تمام صوفیوں کی زندگی بھی ایسے واقعات سے بھر ی پڑی ہے کہ کبھی کوئی زاہد بھٹک کر بے راہ روی کا شکار ہو جاتا ہے، کبھی کوئی بھٹکا ہوا، برائی میں لتھڑا ہوا سنبھل کر ولی اللہ بن جاتا ہے۔ اِسی لیے تو کسی صوفی نے کیا خوب صور ت بات کی ہے:
بہکا تو بہت بہکا، سنبھلا تو ولی ٹھہرا
اس خاک کے پتلے کا ہر رنگ نرالا تھا
انسان اس کائنات کا عظیم ترین راز ہے، لیکن بہت کم انسان ایسے ہوتے ہیں جو کہیں اور جانے کے بجائے اس راز کی کھوج لگاتے ہیں۔ کیوں کہ انسان اکیلا اس دنیا میں آیا ہے اور اکیلے ہی اس دنیا سے روانہ ہو جائے گا…… اور پھر اسے اپنے وجود سے ہی پالا پڑے گا۔ لیکن اگر وہ اپنے آپ کو جانتا ہی نہیں ہوگا، تو وہ اپنی اس نادانی پر آنسو بہائے گا اور باہر انسان جتنا بھی بھٹک لے، جتنے بھی جتن کر لے، کہیں پر پہنچنا نہیں ہوتا۔ ایک خالی پن اور ایک بے سکونی مسلسل انسان کو چبھوکے مارتی رہتی ہے۔ اور انسان خود کو نا مکمل محسوس کرتا رہتا ہے۔ لیکن وہ اس کاملیت کو پورا کرنے کے لیے مادی چیزوں کا سہارا لیتا رہتا ہے۔ اور اسے لگتا ہے کہ مادی چیزوں کو اکٹھا کر لینے سے شاید وہ کچھ پور ا ہو جائے گا…… لیکن ہر بار اس کا یہ بھر م سراب ثابت ہوتا ہے۔ سکندر نے بھی اسی دوڑ میں آدھی دنیا فتح کرلی، لیکن جب موت آئی تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، اور ڈاکٹروں سے چند لمحے کی مہلت کی بھیک مانگ رہا تھا، تاکہ اپنی ماں سے مل سکے۔ لیکن وہ روتے روتے بھکاری کی موت مرگیا۔ صرف سکندر ہی نہیں دنیا کا ہر انسان سکندر کی طرح بھاگ دوڑ کرتا ہے۔ وہ کاملیت کو حاصل کرنے کے لیے دولت، شہرت اور عزت اکٹھی کرتا رہتا ہے، لیکن اس کا ادھور ا پن ادھورا ہی رہتا ہے اور موت اس کو آ لیتی ہے، اور اس کا قصہ تمام کر دیتی ہے۔ انسان کتنا بھولا اور پاگل ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی بات نہیں سمجھ پاتا کہ اس کا جسم فانی ہے اور اس کے پاس محدود وقت ہے۔ وہ صرف جسم نہیں بلکہ روح بھی ہے۔ پھر بھی اس کی تمام دوڑ دھوپ جسم کے آرام کے لیے ہوتی ہے، لیکن جسم تو جلد یا بدیر مٹی ہونے ہی والا ہے…… اور وہ روح کی طرف دھیان ہی نہیں دیتا، تبھی تو وہ بے چین اور بے قرار رہتا ہے۔ جسے جدید میڈیکل آج ڈپریشن ، انگزائٹی اور ہائپر ٹینشن کا نام دیتی ہے۔ وہ بھی دراصل اسی روح سے دوری، حقیقت سے دوری اور اپنے مرکز سے دوری کا سبب ہے…… لیکن انسان کتنا بھولا ہے کہ وہ پھر بھی اسی جسم کے علاج میں لگا رہتا ہے۔ روگ کوئی اور ہوتا ہے، دوا کوئی اور کرتے رہتے ہیں۔ ہماری روح ہماری توجہ کے لیے بلکتی اور تڑپتی رہتی ہے اور ہم محض جسم کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں…… اور اس کے علاج کے لیے اپنی تمام دولت خرچنے پر راضی ہوجاتے ہیں۔ سکون ہمارے مرکز اور ہماری روح میں ہے اور ہم محیط میں ہی بھٹکتے بھٹکتے مر جاتے ہیں۔ اگر کوئی ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر اس بات سے اختلاف کرے، تو اسے صوفیا کی زندگی کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اسے معلوم ہوگا کہ ان کی زندگی دنیاوی چیزوں کے معاملے میں کتنی پُرسکون اور آرام دہ ہوتی ہے۔ ان کو صرف ایک ہی بے چینی اور فکر ہوتی ہے اور وہ ہے قربِ الٰہی۔ اس کے علاوہ وہ ہردکھ، درد اور ٹینشن سے آزاد ہوتے ہیں۔
تین لفظ انسان، زندگی اور موت…… بہت بڑا فلسفہ ہیں۔ ہر فلاسفر، دانش ور، صوفی اور رشی کا ان تین لفظوں سے واسطہ پڑتا ہے…… اور یہی تین لفظ ہی انسان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ صرف مرنے کے لیے تو پیدا نہیں ہوا۔ کوئی راز ہے جو عیاں نہیں۔ یہی جستجو انسان کو اپنے اندر ڈبکی لگانے کے لیے مجبور کرتی ہے۔ موت نے انسان کو مرنے سے پہلے جاگنے پر مجبور کیا، لیکن مجبور صرف وہی ہوتے ہیں جن کو اپنی موت دکھائی پڑتی ہے۔ باقیوں کے لیے موت صرف ایک جھوٹا لفظ ہے۔ ہر انسان کہتا ہے کہ سب نے مرنا ہے۔ لیکن انسان بڑا بھولا ہے کہ وہ سب میں خود کو شامل نہیں کرتا۔ اسے یہی لگتا رہتا ہے کہ دوسرے مریں گے، مجھے اور میرے اہل و عیال کو چھوڑ کر…… لیکن اس کا یہ بھرم تب ٹوٹ جاتا ہے جب اس کا کوئی اپنا مر جاتا ہے۔ پھر وہ روتا اور آنسو بہاتا ہے۔ اگر موت پر اس کو کامل یقین ہوتا، تو اس پر رونے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ دراصل اس نے کبھی یہ خیال ہی نہیں کیا تھا کہ میرے قریبی بھی مر جائیں گے۔
جنید بغدادی ؒ کا بیٹا فوت ہوگیا تو ان کو دھچکا لگا، لیکن دوسرے ہی لمحے ان کو سمجھ آگیا کہ جو مرا ہے، وہ تو مر ہی جانے والا تھا…… اور پھر وہ رب کی رضا کے ساتھ راضی ہوگئے۔ ہم رب کی رضا کے ساتھ تبھی راضی ہوسکتے ہیں، جب ہم حقیقت کو حقیقت کی نظر سے دیکھ لیتے ہیں۔ صوفیائے کرام مرنے سے پہلے مرجاتے ہیں۔ا ور مرنے سے پہلے مر جانا زندگی میں جی اُٹھنے کا دوسرا نام ہے۔ انسان کے دو جنم ہوتے ہیں، ایک جنم ماں کے بطن سے ہوتا ہے اور دوسرا جنم جب وہ جیتے جی اپنی موت کو دیکھ لیتا ہے۔ مرنے سے پہلے مر جانا انسان کا دوسرا جنم ہے۔ پھر اس کی زندگی پوری طرح بدل جاتی ہے۔ کیوں کہ موت زندگی کا دروازہ ہے۔ جیسے ہی انسان موت کی وادی میں چھلانگ لگاتا ہے، تو وہ زندگی کو پا لیتا ہے۔ موت دشمن نہیں، یہ دوست ہے اور موت ہی نے بڑے بڑے صوفی اور اولیا پیدا کیے ہیں۔ اگر موت نہ ہوتی، تو یہ زمین انسان کو تو جنم ہی نہ دے پاتی۔ موت اپنے دامن میں زندگی کے بے پایاں سمندر کو چھپائے ہوئے ہے…… اور ہم موت سے ہی ڈرتے رہتے ہیں اور تبھی تو ہم زندگی سے غافل رہ جاتے ہیں۔ کیوں کہ موت سے ڈرنے والا شخص زندگی سے بھی ڈرتا رہتا ہے۔ زندگی کی تمنا ہے، تو موت کے دامن میں غوطہ زن ہونا پڑے گا۔ ورنہ زندگی کا گوہرِ نایاب ہاتھ نہیں آسکتا۔ کیا وجہ ہے کہ موت جیسا حقیقی اور بے لباس سچ ہم دیکھ نہیں پاتے؟ اس کے پیچھے بہت گہرا راز ہے۔ جب ہم پیدا ہوتے ہیں، تو ہم موت کے بار ے میں سنتے اور جانتے ہیں۔ ہم مرے ہوئے لوگوں کو دیکھتے ہیں۔ اس وقت ہمارا شعور اتنا پختہ نہیں ہوتا۔ شعور یہ نہیں سمجھ پاتا کہ مرنا کیا ہوتا ہے، اور مر جانے کا مطلب کیا ہے؟ پھر جوان ہونے اور شعور کے پختہ ہونے تک بار بار ہمارا اس موت کے عمل سے واسطہ پڑتا ہے۔ اور یوں ہمارا دماغ اس کا عادی ہوجاتا ہے۔ یہ عمل اتنی بار ہمارے سامنے دہرایا جاتا ہے کہ ہم پر موت کا اثر ہی نہیں ہوتا۔ اور ہمیں یہی لگتا رہتا ہے کہ دوسرے مر رہے ہیں۔ دوسرے ہی مریں گے، مَیں تو ہمیشہ زندہ رہوں گا۔
انسان کی ہر بیماری کی جڑ اس کا اپنا دماغ ہے ۔ دماغ کبھی ماضی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، تو کبھی مستقبل کے خوابوں میں الجھا ہوا ہے۔ کبھی انا انسان کے شعور پر غالب ہے، تو کبھی بے ہوشی انسان کو اس زندگی سے منقطع کیے ہوئے ہے۔ دماغ سے نجات ہر بیماری سے نجات ہے۔ دماغ سے نجات کا مطلب ہے بے ہوشی سے نجات، انا سے نجات۔ اور یہ نجات آپ بنا کسی رہنما کے حاصل نہیں کر سکتے۔یہ کتاب رہنما کی طرح آپ کا ہاتھ پکڑ کر چلتی ہے اور آپ کو تمام بیماریوں سے نجات دلاتی ہے۔اس کتاب میں عرفان کے حصول پر بہت زور دیا گیا ہے۔ کیوں کہ عرفان کے بغیر انسان نہ خود کو جان پاتا ہے اور نہ خالق کو۔ کیوں کہ حدیثِ قدسی کے الفاظ ہیں: ’’انسان میرا راز ہے اور میں انسان کا راز ہوں۔‘‘
اگر انسان نے خود کو جان لیا، تو خالق کو بھی جان لیا۔ کیوں کہ خالق انسان کی شہ رگ سے بھی زیاد ہ قریب ہے۔یہ کتاب تصوف کی کتابوں میں بہت زیادہ اہمیت کی حامل کتا ب ہے۔ یہ انسان کی کم زوریوں اور بیماریوں کو انسان کے سامنے لاتی ہے، تاکہ انسان اپنی کم زوریوں کو دیکھ سکے، اور ان سے چھٹکارا حاصل کرسکے۔ یاد رکھیں، کوئی بھی کتاب آپ کو عرفان نہیں دے سکتی۔ کیوں کہ کتابیں منزل کا پتا بتاتی ہیں، منزل کا راستہ دکھاتی ہیں۔ چلنا آپ کو خود ہی پڑتا ہے…… اور اگر آپ چلیں گے، تو پہنچ جائیں گے۔ اگر صرف کتابیں پڑھ کر پہنچنا ہوتا، تو بلھے شاہ کبھی نہ کہتے ’’علموں بس کریں او یار!‘‘
اکارٹ ٹولے بھی اُسی منزل کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ آپ کو رستہ دکھا رہا ہے، پکار رہا ہے، صدا دے رہا ہے ۔ کبھی وہ اس منزل کی خوبیاں بیان کرتا ہے۔ کبھی وہ تمھارے دکھوں سے پردہ اٹھاتا ہے۔ تمھیں یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ تم جس دنیا میں جی رہے ہو، وہ کتنی مصیبتوں اور دکھوں سے بھری ہوئی ہے۔ تو کبھی وہ اپنی دنیا کے بارے میں اشارے دیتا ہے کہ دیکھو میں جس دنیا میں ہوں، یہاں پر کتنا سکون اور کتنا اطمینان ہے۔کبھی وہ آپ کو قائل کرتا دکھائی دیتا ہے۔ کبھی وہ آپ کو پریشان کرتا ہے۔ وہ پوری کوشش کرتا ہے کہ اس سے پہلے کہ موت تم سے یہ زندگی اور یہ جسم چھین لے، تم پہلے ہی اس جسم اور زندگی کو موت کے حوالے کر دو…… اور یہ صوفیا اور اولیا کا طریقہ ہے ۔یہ طریقہ دانشو روں کا ہے، یہ مفکروں کا ہے، اہلِ نظر کا ہے۔ جو چیز موت چھین لے گی، اسے وہ پہلے ہی موت کے حوالے کردیتے ہیں…… اور یوں وہ زندگی کو زندگی کی طرح جیتے ہیں۔ تم بھی اگر زندگی کو زندگی کی طرح جینا چاہتے ہو، تو پھر ’’اکارٹ ٹولے‘‘ کی بات کو کان لگا کر سنو! اگر تم موت سے خوف زدہ ہو، اگر دکھوں سے تنگ آ چکے ہو ، اگر زندگی بوجھ لگتی ہے، اگر خود کُشی کا سوچتے رہتے ہو، اگر ڈپریشن کے مریض ہو، اگر پریشان حال ہو، اگر دل ٹوٹ چکا ہے ، اگر زندگی کا مطلب سمجھ نہیں آ رہا، اگر ہر چیز سے بے زار ہو چکے ہو، تو پھر اُ ٹھاؤ اس کتاب کو، نکلو کسی پُرسکون جگہ کی تلاش میں۔ ساتھ میں کھانے پینے کی کچھ پسندیدہ چیزیں لے لو، اور اس کتاب کو پڑھنا شروع کر دو۔ دھیرے دھیرے تمھیں محسوس ہوگا کہ تمھاری ہستی کے بند دروازے کھلنے لگے ہیں اور اکارٹ ٹولے تمہیں ایک نئی دنیا میں خوش آمدید کہہ رہا ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔