تبصرہ: یاسر جواد
جارج آرویل (George Orwell) کا باپ انڈین گورنمنٹ میں ملازم تھا اور وہ 1903ء میں بنگال میں پیدا ہوا۔ اس کا نام ایرک آرتھر بلیئر رکھا گیا۔ اس نے ایٹن کے خصوصی پبلک سکول میں داخلہ لیا…… مگر یونیورسٹی میں جانے کے لیے سکالر شپ حاصل نہ کر پایا اور برما میں ’’امپیریل انڈین پولیس‘‘ میں بھرتی ہوا، اور پھر سکول ماسٹر اور صحافی کے طور پر زندگی گزاری۔ ابتدائی زمانے میں اس نے خود کو ’’انارکسٹ‘‘ بیان کیا، مگر 1930ء کی دہائی کے دوران میں سوشل ازم کا زبردست حامی بن گیا۔ آرویل، ہسپانوی سول جنگ میں فرانکوں کے خلاف لڑنے کے لیے سب کچھ چھوڑ کر سپین چلا گیا۔ اس لڑائی کے دوران میں (جب وہ زخمی بھی ہوا) اُسے پہلی مرتبہ ان سٹالنی طریقوں کا علم ہوا جن پر اس نے ’’اینیمل فارم‘‘ میں طنز کی۔
آرویل پر بائیں اور دائیں بازو (سوویت روس مخالف طنزیہ ناول ’’اینیمل فارم‘‘ کی وجہ سے) دونوں نے حق جتایا، مگر اس کا عمومی رویہ بائیں بازو کی جانب رجحان ظاہر کرتا ہے۔ وہ امن پسند، سرمایہ داری کا مخالف، طبقاتی تقسیم پر شرم سار اور مزدوروں کی سادہ اقدار میں شراکت کا تمنائی تھا۔ وہ زندگی بھر ایٹم بم کی شدید مخالفت کرتا رہا: ’’اگر ہم نے اسے مسترد نہ کیا، تو یہ ہمیں تباہ کر دے گا۔‘‘
جارج آرویل پر یہ الزام عاید کیا جاتا رہا کہ وہ تپ دق میں مبتلا تھا اور ناول ’’1984ء‘‘ بیماری کے ایک ترش ردِ عمل کے طور پر لکھا۔ درحقیقت اُس نے 1943ء میں’’یورپ کا آخری آدمی‘‘ لکھنے کا منصوبہ بنایا تھا، جس نے بعد ازاں ’’1984ء‘‘ کی شکل اختیار کی۔
یہ ’’اینٹی یوٹوپیا‘‘ ناول ہے جہاں ہر چیز خوف ناک ہے۔ آرویل 1950ء میں 50 برس کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی مرگیا۔ اس کی تصنیف ذاتی مایوسی سے بالکل پاک ہے۔ یہ ایک تصوراتی ریاست کے ماتحت انفرادی زندگی کی ناگفتہ بہ حالت کی تصویر کشی کرتی ہے۔ مستقبل کی یہ ریاست سوویت یونین کی یاد دلاتی ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ جذبات سے عاری سوشلزم کے تحت انفرادیت نہ صرف کم بلکہ تباہ ہو جاتی ہے۔
آرویل نے شدید مایوس کن بیماری کی حالت میں ناول مکمل کیا…… لیکن یہ ایک موت زدہ آدمی کی جانب سے ایک انتقامی پیشین گوئی نہیں تھی۔ اس کی بجائے یہ طنز، مگر پُرامید، ممکنہ حالات کی یاد دہانی تھا۔
’’1984ء‘‘ بہت اثر انگیز ثابت ہوا۔ اس میں شامل ’’بگ برادر‘‘ اور دیگر اصطلاحات زبان کا حصہ بن گئیں۔ یہ سٹالنسٹ ’’پاکیزگی‘‘ اور فریب پر طنز کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے دور کی استبدادی ’’سیاسی دُرستی‘‘ کی پیش بینی بھی کرتا ہے۔
ابتدا میں ’’1984ء‘‘ کی مخالفت تو ہونا ہی تھی۔ قابل سکاٹش نقاد ’’ڈیوڈ ڈیچز‘‘ نے اسے ’’شان دار انداز میں بے کار!‘‘ قرار دیا۔ ’’اینیمل فارم‘‘ نے اسے کچھ شہرت دلائی، مگر ’’1984ء‘‘ نے تو عالمی سطح پر مشہور کر دیا۔ خود آرویل نے تسلیم کیا تھا کہ یہ ایک اور (مغرب میں بہت کم مشہور) ضدِ یوٹوپیا "We” کی بنیاد پر تھا (جو "Zamyatin” نے لکھی تھی)۔ تاہم ’’1984ء‘‘ کے حوالے سے "We” کا نہیں بلکہ برطانوی ناول نگار آلڈس ہکسلے کی "Brave New World” (1933ء) کا خیال آتا ہے۔
آرویل کے ’’1984ء‘‘ کی بنیاد میں زمیاتن کا "We” موجود ہے، لیکن اس سے ’’1984ء‘‘ کی قدر و قیمت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ شیکسپیئر کے کئی ڈراموں کے پلاٹ بھی تو کچھ دیگر تصنیفات سے مستعار لیے ہوئے ہیں، لیکن آرویل کے ناول کا حوالہ ادبی سے زیادہ سیاسی بنتا ہے۔ اگر دنیا، یا دنیا کا ایک حصہ اس قسم کی باتوں سے کم خوف کھاتا ہے، تو اس کی وجہ کافی حد تک آرویل ہی ہے۔
کوئی بھی عظیم تحریر ’’غیر سیاسی‘‘ یا ’’غیر نظریاتی‘‘ نہیں ہوتی۔ تحریر کو غیر سیاسی رکھنا ذمے داری سے فرار ہے۔ اگر مصنف اپنے حامی اور/ یا مخالف دونوں حلقوں کو چیلنج نہ کرسکے تو متاثر کن نہیں ہوسکتا۔ اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق بڑے آرٹ اور ادب کی تائید ہماری انسانی قدروں کی تائید ہے۔ ’’بک کارنر‘‘ نے اپنے حصے کی تائید فراہم کی، اور اُمید ہے کہ وہ ’’چالو تحریروں‘‘ کے اِس دور میں ایسی تحریریں ’’ری پرنٹ‘‘ کرنے کے ساتھ ساتھ نئے تراجم بھی فراہم کرتے رہیں گے۔ آخر ہم محض سطحی تحریروں کو سراہنے کے لیے تو نہیں بنے تھے۔
بڑا ادب کیا ہوتا ہے؟ اِس سوال پر پھر بات ہو گی۔ بہرحال ’’1984ء‘‘ ایک بڑا ادب ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔