انتخاب: احمد بلال
(نوٹ: یہ سلسلہ ’’دنیا کے دس معروف ممنوعہ ناول‘‘ کے عنوان سے فیس بُک صفحہ ’’عالمی ادب کے اُردو تراجم‘‘ پر محترم احمد بلال صاحب نے شروع کیا ہے ۔ زیرِ نظر تحریر اس سلسلے کا چوتھا ناول ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)
1922ء میں آئرش شاعرا ور ناول نگار جیمس جوائس (1882ء – 1941ء) کے ناول ’’یولیسس‘‘ (Ulysses) کی 500 کاپیوں کو نذرِ آتش کرتے ہوئے امریکہ کے محکمۂ ڈاک نے اِس ناول کو درآمد کرنے کی کوششیں ناکام بنا ڈالی تھیں اور عدالت نے بھی اِس ناول کے خلاف ہی فیصلہ سنایا۔
درحقیقت اس ناول کے خلاف مقدمہ کی سماعت 1921ء میں اس وقت شروع کی گئی، جب نیویارک سوسائٹی (برائے انسدادِ غیر اخلاقی عادات) کے جان سمنر اور اُن کے حامیوں نے ایک ایسا مختصر مضمون ضبط کیا، جس میں متذکرہ بالا ناول کا جایزہ لیتے ہوئے ناول کا ایک باب بھی شامل کیا گیا تھا۔ رسالے کے مدیران ’’مارگریٹ ہیڈ‘‘ اور ’’جین ہیپ‘‘، مقدمہ میں مدعی علیہان کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ گواہان کی حیثیت سے بیان دیتے ہوئے ادیب ’’جان کاؤپر‘‘ اور ’’فلپ موئلر‘‘ نے تسلیم کیا کہ جیمس جوائس کا اسلوبِ تحریر عام آدمی کے لیے خاصا مبہم ہے، لیکن اِس بیان کے باوجود عدالت نے متذکرہ ناول اور تجزیاتی مضمون کے خلاف ہی فیصلہ دیا۔
1932ء تک اِس ناول کی جعلی اور غیر قانونی کاپیاں شایع ہوتی رہیں اور اُن پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ پھر 1932ء ہی میں محکمۂ کسٹم کے عہدے داران نے ایک تقسیم کار ادارہ ’’رینڈم ہاؤس‘‘ کو ارسال کی گئی ناول کی کاپی ضبط کرلی اور فیصلہ دیا کہ یہ ناول 1930ء کے ’’ٹیرف قانون‘‘ کے تحت فحاشی کے ذیل میں آتا ہے۔
ناشر نے عدالت میں مقدمہ کی سماعت کے دوران میں مطالبہ کیا کہ ’’ٹیرف قانون‘‘ کے تحت ناول کا مکمل جایزہ لے کر اُس پر لگائی پابندی اٹھائی جائے۔ رینڈم ہاؤس نے بھی اسی ضمن میں مطالبہ کیا کہ کتاب کے مکمل متن کے وسیع تناظر میں قابلِ اعتراض حصوں کا جایزہ لیا جانا چاہیے۔
یہ مقدمہ ’’ریاست ہائے متحدہ امریکہ بمقابل ایک کتاب بعنوان یولیسس‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔
جج ’’جان ولسے‘‘ نے ناول پر عاید فحاشی کے دعوے کو رد کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ ’’غیر معمولی بے تکلفانہ اسلوب کے باوجود شہوت پرستانہ جذبات یا ہوس پر مبنی خواہشات کو فروغ دینے والا امر مَیں نے اس ناول میں کہیں بھی موجود نہیں پایا۔ لہٰذا یہ ناول فحاشی کے زمرے میں نہیں آسکتا۔‘‘
جج کا مزید کہنا تھا کہ ’’ناول کی زبان اور موضوع بطورِ خاص اُسی قوم سے متعلق ہے جس کو مصنف نے بیان کیا ہے اور یہ کوئی خراب بات نہیں۔ اگر اس قوم کے افرادکے ذہنوں میں جنس کا ویسا ہی تاثر ابھرتا ہو، جیسے تحریر کیا گیا ہے۔ اور مَیں نہیں سمجھتا کہ ایک عام آدمی پر اس کے کوئی برے اثرات ظاہر ہوتے ہوں۔ کچھ عبارات سے گو کہ ناموزوں لہجہ ظاہر ہوتا ہے مگر یہ انھی الفاظ کا قصور ہے۔ جب کہ ایک ایک لفظ اِس تصویر میں ایسے جڑا ہے جیسے کسی تصویر میں مختلف رنگوں کے ذریعے جزیات نگاری کی جا رہی ہو۔‘‘
حکومتِ امریکہ نے نیویارک کی وفاقی عدالت کے اِس فیصلے کے خلاف ایک گشتی عدالت میں دوبارہ مقدمہ دایر کیا، جس پر ججوں نے پہلے والے فیصلے کو ہی برقرار رکھا۔ گشتی عدالت کے ججوں نے اپنے اکثریتی فیصلے میں کہا کہ: ’’ہم سمجھتے ہیں کہ خلوصِ نیت سے تحریر کی جانے والی کتاب ’’یولیسس‘‘ ایک تخلیقی فن پارہ ہے اور یہ ہوس یا نفسانی خواہشات کو فروغ دینے کے اثرات سے پاک ہے۔‘‘
اِس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے سے حکومت نے خود کو باز رکھا اور اِس طرح حکومت اور اس کے خلاف مزاحمتی ادبی اداروں کی ایک عشرہ طویل جنگ کا اختتام عمل میں آیا۔ اسی کے ساتھ معاشرتی اخلاق کی تبلیغ و ترویج کی حامل تنظیموں اور ناشرین کے درمیان بھی مفاہمت کی راہ ہم وار ہوئی۔
عدالتی فیصلے کا مجموعی تاثر یہ تھا کہ کسی کتاب کے فحش ہونے کا فیصلہ چند مخصوص عبارات یا جزو تحریر کے بجائے مکمل کتاب کے متن کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے…… یعنی اگر کتاب مجموعی طور سے مفید ہے، مگر اس کے چند حصے نمایاں طور پر فحش تو ہوں، لیکن غیرمتعلق نہ ہوں…… تب اس کتاب کو فحش نہیں قرار دیا جا سکتا۔
جسٹس اگسٹس ہینڈ کے مطابق: ’’ہمارا ایقان ہے کہ منصفانہ فیصلہ اسی وقت ممکن ہے، جب یہ معلوم ہو جائے کہ کتاب کے غالب اثرات کس قسم کی نشان دہی کرتے ہیں (یعنی کیا مکمل کتاب پڑھنے پر ایسا تاثر اُبھرتا ہے کہ فحاشی و عریانی کا فروغ مقصود و مطلوب ہے؟) کتاب کے حقیقی موضوع سے قابلِ اعتراض حصوں کے تعلق کو جانچنے کے لیے عصرِ حاضر کے معتبر ناقدین کی گواہی لی جائے گی اور اگر کتاب قدیم ہو، تو پھر اس پر دیے گئے ماضی کے فیصلوں سے استفادہ کیا جائے گا، تاکہ فحاشی کے خلاف وارنٹ جاری کرنے کے بجائے ادبی شاہ کاروں کے بلند مقام کا تعین کیا جا سکے۔‘‘
اس فیصلے کا معنی خیز نتیجہ یہ نکلا کہ جج اور وکلا کسی کتاب کی مخصوص عبارات کے بجائے مکمل کتاب کے مطالعے پر مجبور ہوگئے۔اور اس فیصلے کے ساتھ ہی جیمس جوائس (James Joyce) کی ’’یولیسس‘‘ (Ulysses) کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں داخلے کی اجازت بھی مل گئی۔
(بحوالہ: ’’اثبات عریاں نگاری اور فخش نگاری پر مشتمل خصوصی شمارہ‘‘، تحریر و ترجمہ ’’مکرم نیاز‘‘، مدیر ’’اشعر نجمی‘‘)
1. ’’دنیا کے دس معروف ممنوعہ ناول‘‘ (Fanny Hill):
https://lafzuna.com/prose/s-30722/
2. ’’دنیا کے دس معروف ممنوعہ ناول‘‘ (Madame Bovary):
https://lafzuna.com/prose/s-30742/
3. ’’دنیا کے دس معروف ممنوعہ ناول‘‘ (The Flowers of Evil)
https://lafzuna.com/prose/s-30766/
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔