تبصرہ: سلیم بھٹہ
برونی ویئر (Bronnie Ware) ایک آسٹریلین نرس ہے جس نے کافی عرصہ ایک ایسے ہسپتال میں گزارا، جہاں ان افراد کو رکھا جاتا تھا جو بوڑھے تھے ، بیمار تھے، بظاہر بول سکتے تھے، سن سکتے تھے، ہوش و حواس میں ہوتے تھے…… لیکن طبی اعتبار سے زندگی کی آخری سانسیں لے رہے ہوتے تھے۔ ان کی دیکھ بھال کرتے، ان سے گفت گو کرتے، ان سے ان کی گذشتہ زندگی کے بارے میں سوالات کرتے ہوئے وہ اُن مرتے ہوئے لوگوں کے پچھتاؤں سے واقف ہوئی۔
٭ پہلا پچھتاوا:۔ برونی کے مطابق اُن لوگوں کا پہلا اور سب سے بڑا پچھتاوا یہ تھا کہ انھوں نے اپنی زندگی اپنی خواہشات کے مطابق گزارنے کی بجائے دوسروں کی خواہشات کے مطابق گزارنے کی کوشش کی کہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ اس طرزِ عمل کی وجہ سے ان کی زندگی کے بہت سے خواب ادھورے رہ گئے۔ اگر ہم اپنی زندگی کو اپنی مرضی سے گزارتے، تو یہ ہمارے لیے بہتر ہوتا۔
٭ دوسرا پچھتاوا:۔ ان کا دوسرا سب سے بڑا پچھتاوا یہ تھا کہ کاش! ہم نے زندگی میں اتنی محنت نہ کی ہوتی۔ اس محنت کی وجہ سے وہ بیوی، بچوں اور والدین سے بہت دور چلے گئے اور آج ہمارے پاس ان میں سے کوئی بھی نہیں۔ صبح و شام کام کی زیادتی نے ہمارے درمیان احساس اور قربت کا کوئی رشتہ قایم ہی نہیں ہونے دیا۔ بس ہم کولہو کے بیل تھے۔
تیسرا پچھتاوا:۔ ان افراد کا تیسرا پچھتاوا یہ تھا کہ وہ کبھی کھل کر اپنے جذبات کا اظہار نہ کر سکے۔ اندر ہی اندر گھٹن کا شکار رہے۔ چُپ نے ان کو اندر ہی اندر بیمار کر دیا۔ اب ہم سوچتے ہیں کہ کاش! ہم نے کھل کر اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کیا ہوتا، تو ہمیں آج یوں پچھتانا نہ پڑتا۔
٭ چوتھا پچھتاوا:۔ چوتھا پچھتاوا دوسرے پچھتاوے سے ملتا جلتا ہے کہ کام کی زیادتی کی وجہ سے ہم اپنے پیارے اور مخلص دوستوں کو وقت نہ دے سکے اور ہمارے درمیان ہمیشہ کے لیے دوریاں پیدا ہوگئیں۔ اگر ہم نے دوستوں کو وقت دیا ہوتا، تو آج اس مشکل وقت میں وہ ہمارے ساتھ ہوتے۔
٭ پانچواں پچھتاوا:۔ پانچویں اور آخری پچھتاوے کا تعلق اپنی ذاتی خوشی سے ہے۔ یہ لوگ اب سوچتے ہیں کہ ہم نے کبھی اپنے لیے خوشی تلاش کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ ہمارے اندر اس مقصد کے لیے تبدیلی کی خواہش ہی پیدا نہ ہوسکی۔ بس ایک لگی بندی زندگی جس میں اپنی خوشی سے زیادہ دوسروں کی خواہشات پوری کرنے اور ان کو خوش کرنے کا عنصر نمایاں تھا۔ ہم نے صرف ان کی توقعات کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ اپنی خوشیوں کا ذرا بھی خیال نہ رکھا…… اور ہم زندگی کی حقیقی خوشیوں سے دور رہے۔
برونی نے یہ پچھتاوے بیان کرنے کے بعد اپنے مشاہدات کا نچوڑ یوں بیان کیا: ’’اب ہم نے کیا کرنا ہے؟ ہم نے آئینے کے سامنے کھڑے ہونا ہے اور اس میں جس شخص کا چہرہ نظر آئے، اُس سے پوچھنا ہے…… کیوں میاں! تم نے بھی مرتے دم ایسے ہی پچھتانا ہے؟ کیا تم بھی مستقبل کی کسی نرس کی کسی ایسی ہی کتاب کا کوئی کردار بننا پسند کرتے ہو؟ وہ چہرہ یقینا کوئی نہ کوئی جواب ضرور دے گا۔‘‘
واضح رہے اس کتاب کا نام "The Top Five Regrets of the Dying” ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔