انتخاب: احمد بلال
(نوٹ: یہ سلسلہ ’’دنیا کے دس معروف ممنوعہ ناول‘‘ کے عنوان سے فیس بُک صفحہ ’’عالمی ادب کے اُردو تراجم‘‘ پر محترم احمد بلال صاحب نے شروع کیا ہے۔ زیرِ نظر تحریر اس سلسلے کا تیسرا ناول ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)

فرانسیسی زبان کے معروف اور متنازعہ شاعر Charles Baudelaire (1821ئ1867-ء) نے اپنے ایک ناشر دوست کی اعانت سے 1857ء میں اپنا وہ شعری مجموعہ (بعنوان: Les fleurs du mal) شایع کروایا جس نے فرانسیسی معاشرے میں گویا ہلچل مچا دی۔ نظموں کے کچھ موضوعات جیسے کہ ’’غیر اخلاقی و غیرقانونی تعلقات‘‘، ’’شہوانی جذبات‘‘، ’’عصمتوں کا سودا‘‘ وغیرہ جو کہ بظاہر جنسیت پر مبنی اور اہانت آمیز محسوس ہوتے تھے، ادبی دنیا کے ناقدین کا نشانہ بنے۔ ہرچند کہ بعض نقادوں نے ان نظموں کو ’’جذبات‘‘، ’’فن اور شاعری‘‘ کے شاہ کار قرار دیے۔
بادلیئر کے خلاف مقدمے کی قیادت کرنے والے جے ہابس نے فرانس کے مشہور روزنامے ’’لی فگارو‘‘ میں لکھا: ’’اس شاعری میں ہر وہ چیز جو عیاں ہے، وہ سمجھ سے باہر ہے اور جو قابلِ فہم ہے، وہ متعفن ہے۔‘‘
بادلیئر کی زندگی بچپن ہی سے اُس کے لیے پیچیدہ اور تکلیف دہ رہی۔ والد کی موت کے بعد اُس کی ماں نے ایک آمرانہ مزاج اور سخت ڈسپلن کے حامل مرد سے شادی کرلی تھی، جس نے بادلیئر کا جینا حرام کر دیا۔ اُس کے باوجود اپنی ماں سے بادلیئر کا جذباتی لگاو تاعمر قایم رہا اور ماں کی اخلاقی تربیت کے سائے اس پر زندگی بھر اثرانداز رہے۔
ماں کے نام اپنے ایک خط میں ناقدین کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے بادلیئر نے لکھا تھا: ’’آپ جانتی ہیں کہ میرا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ ادب اور فنونِ لطیفہ مروجہ اخلاقیات سے ماورا ہوتے ہیں۔ تخیل اور اسلوب کی خوب صورتی میرے لیے کافی ہے، لیکن یہ کتاب، جس کا عنوان ہی سب کچھ کہنے کے لیے کافی ہے، ایک سرد اور پُرآشوب خوب صورتی کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اس کی تخلیق میں گرم جذبات اور صبر و تحمل کا مادہ استعمال ہوا ہے۔ اُس کی مثبت قدروں کا ثبوت تو وہی گناہ ہیں جن کو یہ کتاب بیان کرتی ہے۔ میرے ناقدین میرے رد میں مجھے تخلیقیت کی روح سے عاری بتاتے ہوئے یہ تک کَہ جاتے ہیں کہ مَیں فرانسیسی زبان کی باریکیوں سے ناواقف ہوں۔ مَیں ان کی واہیات تنقید اور تبصروں کو خاطر میں نہیں لاتا۔ کیوں کہ مجھے معلوم ہے کہ ایک دن یہ کتاب اپنی اچھائیوں اور برائیوں سمیت باشعور قارئین کے ذہنوں میں محفوظ ہو جائے گی۔ بالکل ویسے ہی جیسے وکٹر ہیوگو، گیوٹیر اور حتیٰ کہ لارڈ بائرن کی بہترین نظمیں عوامی یادداشت میں محفوظ ہیں۔‘‘
عوامی اخلاقیات کو پامال کرنے کے جرم میں بادلیئر اور اُس کتاب کے پرنٹر اور پبلشر پر مقدمہ چلایا گیا اور اُن پر جرمانے عاید کیے گئے، مگر بادلیئر کو زِنداں میں قید کرنے سے احتراز کیا گیا۔
’’گناہ کے پھول‘‘ (The Flowers of Evil) نامی اِس شعری مجموعے سے 6 نظمیں حذف کرا دی گئیں…… لیکن بعد میں یہی چھے نظمیں علاحدہ طور سے 1866ء میں اشاعت پذیر ہوئیں۔
بادلیئر کی حمایت میں سیکڑوں ادبی شخصیات نے اُس مقدمہ اور سزا کے خلاف آواز اٹھائی۔ حتیٰ کہ وکٹر ہیوگو نے بادلیئر کو لکھا: ’’تمھارا یہ شعری مجموعہ ادبی منظرنامے پر ستاروں کی طرح چمک دمک رہا ہے۔ مَیں اپنی تمام تر قوت کے ساتھ تمھاری عظیم روح کو سلام کرتا ہوں!‘‘
بادلیئر نے اِس فیصلے کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی…… لیکن پھر بھی اُس کا جرمانہ کم کر دیا گیا تھا۔ تقریباً 100 سال بعد، 11 مئی 1949ء کو بادلیئر کے خلاف جاری فیصلے کو سرکاری سطح پر واپس لیا گیا اور اُس کی 6 نظموں پر لگائی گئی پابندی کو بھی ختم کر دیا گیا۔ یوں بادلیئر کی پیشین گوئی سچ ثابت ہوئی کہ اُس کی وفات کے بعد ہی اُس کی ادبی تخلیقات کا مستحسن اعتراف کیا جائے گا۔
(بحوالہ: ’’اثبات عریاں نگاری اور فخش نگاری پر مشتمل خصوصی شمارہ‘‘، تحریر و ترجمہ: ’’مکرم نیاز‘‘)
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔