انتخاب: احمد بلال
(نوٹ: یہ سلسلہ ’’دنیا کے دس معروف ممنوعہ ناول‘‘ کے عنوان سے فیس بُک صفحہ ’’عالمی ادب کے اُردو تراجم‘‘ پر محترم احمد بلال صاحب نے شروع کیا ہے۔ زیرِ نظر تحریر اس سلسلے کا دوسرا ناول ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)
فرانسیسی ادیب گستاف فلابیئر (1821ء – 1880ء) کا ادبی شاہکار ’’مادام بواری‘‘ جب 1857ء میں اشاعت پذیر ہوا، تو اِس قدر تنازع پھیلا کہ مصنف کو اِس ضمن میں عدالتی مقدمہ کا سامنا کرنا پڑا۔ گو کہ بعد میں گستاف فلابیئر (Gustave Flaubert) بری بھی ہوگئے۔
’’مادام بواری‘‘ کا مرکزی خیال کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ تصوراتی رومان کی دل کش وادیاں، ناول کی ہیروئین اور اُس کے شوہر کو زوال پذیر کر دیتی ہیں۔ جب کہ اُسی ناول پر بنی فلم کی شروعات میں، خود فلابیئر کا کردار نبھانے والے جیمز میسن کو ناول کے مرکزی خیال کا دفاع کرتے ہوئے بتایا گیا تھا۔
توہینِ مذہب اور عوامی اخلاقی قدروں کو مجروح کرنے کے الزام میں مصنف، پبلشر اور پرنٹر کے خلاف عدالت میں کیس داخل کیا گیا تھا، لیکن استغاثہ کی مجبوری یہ تھی کہ کمرۂ عدالت میں کسی نے بھی اِس ناول کا مطالعہ نہیں کیا تھا، یوں استغاثہ اِس بات کو ثابت کرنے سے معذور تھا کہ ناول کا مواد کس طرح ’’زناکاری‘‘ کو ترویج دینے والا اور شادی کے بندھن کے تقدس کو پامال کرنے والا تھا؟
ناول میں جو زبان استعمال کی گئی تھی، وہ حقیقتاً لچرپن پر مبنی تھی اور ’’مادام بواری‘‘ سے قبل کسی اور ناول میں جنسی اعمال و افعال کی تفصیل اِس قدر کھل کر کبھی بیان نہیں کی گئی تھی۔ مصنف قاری کو دورانِ مطالعہ اُن جگہوں تک بھی لے جاتا ہے، جہاں وہ اُس سے پہلے کبھی نہ گئے ہوں گے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ ایسی زبان و بیاں پر پابندی عاید کی جائے، کیوں کہ یہ زناکاری کو فروغ دینے کا سبب ہے، جب کہ دوسری طرف یوں محسوس ہوتا تھا جیسے مصنف اِس عمل کو تقدیس کا درجہ دے رہا ہو۔
زناکاری کو تقدیس کا درجہ دینے والا نظریہ، ہرچند کہ عدالتی مقدمہ میں مرکزی نکتہ ٹھہرایا گیا تھا، مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ناول کی ہیروئن نے اپنے گنا ہوں پر کبھی کسی پشیمانی کا اظہار نہ کیا تھا۔
روڈولف کے ساتھ پہلی ملاقات کے بعد ایما اپنے گھر واپس لوٹی اور اُس نے اپنے سراپے کا آئینے میں جایزہ لیا، تو اپنے آپ کو یہ کہنے سے نہ روک سکی : ’’میرا ایک چاہنے والا ہے…… ایک چاہنے والا!‘‘
عالمِ بے خودی میں وہ اُن لمحاتِ مسرت کو اپنا حق سمجھ رہی تھی جس کے لیے وہ عرصۂ دراز سے بے چین تھی۔ وہ ایک ایسے شان دار تجربے سے گزرنے والی تھی جو جذبات سے بھرپور، ولولہ انگیز اور آسمان کی بے پایاں وسعتوں کی طرح کشادہ تھا۔ جذبات کی بلندیاں اُس کے خیالات سے آب و تاب کی طرح چمک رہی تھیں۔
ایما نے اپنی محبت کی عظمت اور محبوب کے حصول کے اظہار کو خاوند پر ترجیح دی۔ حسن و نزاکت کے لیے چہرے پر کولڈ کریم یا رومال میں خوش بُو کے بجائے اسے صرف اپنے محبوب کا خیال ہی کافی تھا۔
ظاہر ہے کہ معاشرے کو ایسا رویہ قبول نہیں تھا کہ شادی کے مقدس بندھن کو داغ دار کرتے ہوئے زناکاری کے جذبات کی یوں کھلے عام ترویج کی جائے۔ لہٰذا ناول کے خلاف شور و غوغا بلند ہوگیا۔ عوام ایک انجانے خوف سے لرزاں تھے…… اور چاہتے تھے کہ اس قسم کے نئے ادب کا دروازہ نہ کھولا جائے۔
بالآخر مقدمہ میں ’’مادام بواری‘‘ ہی کو فتح حاصل ہوئی۔ گستاف فلابیئر اور ناول کے ناشر کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے جرمانے کی ادائی سے بھی آزاد کیا گیا۔ یہ فیصلہ ایک معنوں میں فلابیئر اور دنیا کے دیگر مصنفین کے لیے فتح کی نوید تھا۔ اِس مقدمے میں آزادیِ اظہارِ رائے کی فتح نے ادب کے لیے تمام بند دروازے وا کر دیے کہ ادب حقیقی طور پر کسی بھی چیز کے متعلق ہو سکتا ہے اور کہانی کی ایسی تمام جزوی تفصیلات سے قاری کو مطلع کر سکتا ہے، جو اس کے علم کو شعور کا احساس دے سکیں۔
اگرچہ گستاف فلابیئر نے مقدمہ جیت لیا تھا، مگر متوسط طبقے کے خلاف دل میں پوشیدہ اپنے بغض کو وہ کبھی دور نہ کر سکا۔ اسی بغض کا اظہار اس نے اپنی سوانح کے اس حصے میں بھی کیا ہے جس میں اس نے ’’مادام بواری‘‘ کے مقدمے کی تفصیل لکھی ہے۔ فلابیئر نے اس ناول کو لکھنے میں پانچ سال کا عرصہ لگایا تھا، مگر وہ تاعمر اس ناول کی شہرت سے خوش نہ ہوسکا جس نے اس کے دیگر کاموں کو بالکلیہ دھندلا کر کے رکھ دیا تھا۔
یہ بات شاید دلچسپی سے خالی نہ ہو کہ اسی ناول کی بنیاد پر انگریزی میں تو پانچ مرتبہ فلم بنائی گئی، لیکن ہندی میں بھی معروف بالی ووڈ ہدایت کار کندن مہتا نے دیپا ساہی، فاروق شیخ اور شاہ رخ خان کو لے کر 1993ء میں ’’مایا میم صاب‘‘ بنائی تھی۔
( بہ حوالہ: ’’اثبات عریاں نگاری اور فخش نگاری پر مشتمل خصوصی شمارہ‘‘، تحریر و ترجمہ ’’مکرم نیاز‘‘)
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔