تبصرہ: ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی (نیوزی لینڈ)
زمانۂ جنگ کے دوران میں اکثر اوقات عورتوں کے جسم میدان جنگ بن جایا کرتے ہیں…… چاہے وہ بدلہ کی غرض سے ہو، خوشی کے لیے ہو، یا پھر غصہ میں، اور ان کے درمیان آنے والی ساری وجوہات۔ پھر ، اگر ان سب سے بچ بھی جائے، تو وہ ضمانت بن جاتی ہیں ، عام یا اتفاقیہ قربانی کی۔
بینا شاہ کا ناول ’’اس سے پہلے کہ وہ سو جائے‘‘ (Before She Sleeps) میں ان ڈراونے خوابوں کو اس قدر دانش ورانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ قاری ایک لمحہ کے لیے بھی کہانی کی معقولیت یا شایستگی پر کوئی سوال نہیں اُٹھا سکتا۔
واقعہ کسی افسانوی جگہ، بنام گرین سٹی (Green City) میں واقع ہوتا ہے، جو جدید ترین اور ذہین مصنوعی آلات جو خوف ناک حد تک زن بے زار اقدار سے واقف ہیں، کے زیرِ نگرانی ہے۔ گرین سٹی کا سامنا، نیو کلیئر جنگ کے بعد وائرس کے آغاز پر جنس کے متعلق ہنگامی حالات سے ہوتا ہے۔ حکام نے پختہ ارادہ کرلیا تھا کہ وہ اسے ٹھیک کریں گے اور مرد اور عورت کے تناسب کو منظم کر دیں گے۔ اس سلسلہ میں یہ طے کیا گیا کہ شہر کی ہر عورت کو چار شوہر رکھنے ہوں گے، تاکہ مردوں کی ضرورتیں پوری ہوں۔ عورتوں کی توانائی بڑھانے کے لیے ایسے ہارمون (Hormones) دیے جائیں گے، جو ان کی تولیدی طاقت کو اعلا سطح پر لے جانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ مرد اور عورت کے درمیان تعلقات شادی کے بغیر غیرقانونی مانے جاتے ہیں۔ اور عورتیں اس نظام کے باہر نہیں جا سکتیں۔ گرین سٹی میں رہتے ہوے انھیں چار شوہروں کو قبول کرنا ہوگا اور افزایشِ نسل کو بڑھانا ہوگا…… ورنہ جیل میں سڑنا ہوگا۔ اور اس سے بھی بدترین صورتِ حال یہ ہوگی کہ وہ موت کو اپنی قسمت سمجھ کر گلے لگالیں۔ بیناشاہ نے بڑے آسان طریقے سے واضح کیا کہ عدم تعمیل یا نافرمانی کرنے والی عورت گرین سٹی میں یا کسی اور جگہ ایک لاش سے زیادہ کچھ نہیں۔
گرین سٹی کی کچھ عورتوں نے مخالفت کی اور مل کر انتہائی عجیب انداز میں بغاوت کردی۔ ’’لین‘‘، پناہ (The Panah) نامی ایک تنظیم چلاتی ہے، جو ایسی عورتوں کو پناہ دیتی ہے، جو نہیں چاہتیں کہ ان کے جسم کسی پنجرے میں بند جانور کی طرح استعمال کیے جائیں۔ یہ خواتین زیرِ زمین رہتی ہیں۔ حکومت کے لیے تو مردہ، البتہ مرد وں کو یہ خوش فہمی دی گئی کہ جنگ کی وجہ سے عورتوں کا دوسروں کے ساتھ بانٹنا ناممکن ہوگیا ہے۔ جسمانی قربت روک دی گئی۔ اس کی بجائے، پناہ کی عورتیں گھروں میں اپنی رفاقت سے مردوں کو سکون مہیا کرتی ہیں، جو نادر، ناقابلِ حصول اور غیر قانونی ہے۔
بیناشاہ ہمیں آزادی کے تصور پر سوال اٹھانے پر اکسا تی ہیں۔ بغاوت اور انحراف جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ پناہ کی عورتیں مسلسل افزایشِ نسل کی بیڑیوں سے آزاد تو ہوگئیں، لیکن جسمانی طور پر قید ہوگئیں۔ مرنے کے بعد انھیں مناسب تدفین نصیب نہیں ہوتی ، اور ’’پناہ‘‘ کے اندر ہی دفن کردی جاتیں۔ بہرحال، یہ عورتیں آزاد ہیں۔ وہ مردوں کے احکامات کی پابند نہیں، اور نہ چار شوہر رکھنے پر مجبور ہی ہیں۔ انھیں غیر مطلوب بچوں کو پیدا کرنے کی ضرورت نہیں…… لیکن، شہر میں چکر لگانے کی، ہسپتال میں صحت کی دیکھ بھال کروانے کی عدم اہلیت کے ساتھ کیا صرف زندہ رہنا ہی آزادی ہے؟ یہاں تک کہ ان کی بغاوت میں بھی انھیں مردوں پر انحصار کرنا ہوتا ہے۔
شاہ بڑی ہوشیاری سے مضبوط کرداروں کے ساتھ کہانی کے دھاگوں کو جوڑتے ہوئے ان کرداروں کو مضبوط آوازیں دیتی ہیں۔ ناول کی ہر عورت کے پاس اس کے ماضی کی خوف ناک کہانی ہے جو ایک ہی سوال سامنے لاتی ہے کہ دنیا نے کئی طرح سے، بار بار، ثقافتوں اور سرحدوں سے پار عورت کو ناکام ٹھہرایا۔ اس ناول کو جو خصوصیت اسے سب سے زیادہ آسیبی، آلام و مصایب کا ترجمان بناتی ہے، وہ بینا شاہ کا،جہاں ایک مکمل خیالی شہر کو زندگی بخشنا ہے، افسانوں سے بھی زیادہ افسانوی انداز میں، وہیں پر حقیقت کا، ہلکے سے، کسی کے یقین سے زیادہ، کئی طریقوں سے منعکس ہونا ہے۔
بینا شاہ ، ہزارہا طریقوں سے مرد کے ہاتھوں عورت کی اذیتوں کو سہنے کی دلچسپ اور خوف نا ک تصویر پیش کرتی ہیں، جب کہ مرد اپنی آزادی کو برقرار رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ گرین سٹی میں متعدی مرض (Virus) کے پھیل جانے پر صرف عورتیں متاثر ہوتی ہیں، جب کہ مرد صرف بیماری بردارہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، اس بیماری کی وجہ سے جو مرد نے ان تک پہنچائی، اورمرد محفوظ ہیں۔
"Before She Sleeps” اقتدار، جنس، قربت، محبت اور بغاوت کے تصورات کو ایک دلچسپ اور نئے زاویہ سے ایسے انداز میں پیش کرتی ہے جو اس قدر اشتعال انگیز ہے کہ پڑھتے ہوئے آپ کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ جاتی ہے۔ ایک بار کتاب کا پڑھنا ختم ہوجائے۔ گرین سٹی کی تصویر، اس کے قاعدے و قانون…… قاری کا پیچھا کرتے رہتے ہیں۔ دعا کرتے ہوئے کہ دنیا کبھی اس طرح سے نہ ہو۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔