تجزیہ: عرفان حیدر 
ادب اور سچائی میں کیا ربط ہے؟
زندگی کی سچائیوں کو ’’ناولانہ‘‘ سچائی میں کیسے ڈھالا جاتا ہے؟
کیا آپ بیتی اور فکشن کی حدیں پگھلائی جا سکتی ہیں؟
آئزک باشیوس سنگر کے اس ببلوگرافک ناول کو پڑھتے ہوئے ان جیسے سوالوں کے جواب ملتے ہیں۔ ناول کی قرات کے دوران میں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کی عمومی سچائیوں کی فینٹسی، مابعد الطبیعیاتی فینٹسی سے بڑھ گئی ہے۔حیرانی ہوتی ہے کہ روزمرہ زندگی کا بظاہر یکساں اور سپاٹ نظر آنے والا عمل، کتنی معنی خیزیوں کا حامل ہے۔
اچانک انکشاف کی صورت میں کھلتا ہے کہ کسی انسان کی سادہ، روزمرہ زندگی بحرانوں، جنگوں، المیوں اور وبا کے دنوں کی سختیوں سے زیادہ کرب ناک ہوسکتی ہے۔ ہمیں زندگی میں عام طور پر جس سماجی جبر کا سامنا رہتا ہے، وہ ایک اوریجنل ادیب کی آزادی کو چیلنج کرتا ہے۔ ایک حقیقی ادیب اس چیلنج کا مقابلہ کیسے کرتا ہے؟ اس سوال کے تناظر میں یہ ناول پڑھیے۔
ناول کا مرکزی کردار اور واحد متکلم ، یدش زبان کا ادیب ہے (یہ خود آئزک باشیوس سنگر ہے۔) اُسے کئی چیلنجز کا سامنا ہے:
ایک چیلنج، جس کا تعلق سراسر اس کی داخلی ذات سے ہے اور یہ بلا واسطہ اس کی یہودی شناخت کے مخمصے سے منسلک ہے۔ یہودیت کی دو ہزار سالہ ہجرت کی کرب ناک تاریخ نے پھیل کر پولینڈ میں مقیم مہاجر یہودیوں کی زندگیوں کو ایک وحشت ناک تجربہ بنا دیا ہے۔ وہ یہاں وہاں بھٹکتے پھر رہے ہیں، بھاگ رہے ہیں، چھپ رہے ہیں۔ ان کی زبان (یدش) مرتی جا رہی ہے۔ اس پہ مستزاد یدش زبان کے مصنفین اور رسایل کے ایڈیٹروں نے محض اخلاقی مضامین کی پیش کش کا سنسر بھی قایم کر رکھا ہے۔ اسے وہ یہودیت کی عالم گیر پیش کش سے جوڑتے ہیں، مبادا یہودی باشندوں کی سختیوں اور انحرافات پر مبنی تحریریں، فکشن عالمی زبانوں میں ترجمہ ہوں اور ہماری مذہبی معاشرت کے مسایل کا عکس دنیا کے سامنے جائے۔
اس سب کے علاوہ وہ کئی محبتوں کے آسیب میں بھی گرفتار ہے، لیکن اس کی ادبی سرگرمیوں نے اس آسیب کی تاریکی کو دھندلا دیا ہے۔ معاشی سختیاں بھی اپنی مخصوص پابندیوں کے ساتھ اثر انداز ہیں۔
کہانی بڑھتی ہے، تو محسوس ہوتا ہے کہ ایک ادیب کی آگہی اور دانش وری اس کے وجود کو وحشیا کے رکھ سکتی ہے۔ اس مجموعی صورتِ حال میں ایک ادیب کو سوچنے اور لکھنے کی آزادی اور انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے۔ یہ مسئلہ اس ادیب کے تئیں اپنی گھمبیرتا کے ساتھ پورے ناول کے پلاٹ اور واقعات کے انتخاب میں پھیلا ہوا ہے۔
ناول کا تخلیقی جواز بھی اسی مسئلے سے فراہم کیا گیا ہے۔ وہ ان تمام سختیوں کے باوجود کسی قیمت پر انتخاب کی آزادی کے حق سے سمجھوتا نہیں کرتا۔ لہٰذا وہ اپنے آپ سے جنگ کرتا ہے…… اور خدا، مذہب، جنس، سماج کے متعلق نئے زوایوں سے سوچتا ہے۔ وہ ہر کلیشے تصور کی رد تشکیل کرتا اور بچپن سے سکھائے گئے مقدسات سے کھیلتا ہے؛ الٰہی احکامات کے خلاؤں کو پُر کرتا اور ان میں اپنی طرف سے اضافے کرتا ہے۔ معاصر اور کلاسیک ادیبوں، فلسفیوں کی تحریروں اور نظریات کے متعلق، دوسروں کی آرا سے ہٹ اپنی رائے قایم کرتا اور ان کے کھوکھلے پن کی توضیح کرتا ہے۔ دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کی گتھیوں کو سلجھاتا ہے۔مختلف سیاسی اور سماجی نظریات کی بنیاد پر تشکیل دیے گئے حکومتی نظاموں کا تجزیہ کرتا ہے۔ نسلی تفریق، قومیت، آمریت اورماحولیاتی انحراف پر اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کرتا ہے۔
تاہم اس سب میں وہ اپنے یہودی پس منظر سے کٹتا نہیں۔ وہ دنیا کو خود پر اور اپنی نسل پر بیتے سانحات کے تناظر میں دیکھتا اور تعبیر کرتا ہے۔ اس کی تاریخی صورتِ حال اس کی رائے میں بحال رہتی ہے…… اور اسے اپنی سچائی تخلیق کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ وہ اس یہودی پس منظر پر بھی سوال قایم کرتا ہے۔
در ایں حال، پورے ناول میں وجودی کرب کی دھیمی رو کا احساس مسلسل بحال رہتا ہے، جو ہر دانش ور کو بھگتنا پڑتا ہے۔
ناول خاصے کی چیز ہے، اسے بہرحال پڑھنا ہی چاہیے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔