تجزیہ: اشفاق اعوان
’’پُراثر لوگوں کی سات عادات‘‘ (The 7 Habits of Highly Effective People) معروف امریکی مصنف ’’سٹیفن آرکوئے‘‘ (Stephen Covey) کی مشہور ترین کتاب ہے۔ شخصیت میں مثبت تبدیلی کے موضوع پر لکھی یہ کتاب 1989ء میں انگریزی زبان میں شایع ہوئی، جو اب تک اُردو سمیت مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ انگریزی پر مکمل عبور نہ ہونے کی وجہ سے مَیں نے یہ کتاب اُردو زبان میں پڑھی ہے۔ پڑھنے کے بعد جو سمجھ آیا، اس پر تبصرہ کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔
کتاب کو 20ویں صدی کی اہم ترین کتابوں میں قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی تعریف میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ مَیں اُس طرف جائے بغیر کتاب کے موضوع کی طرف آتا ہوں۔ مصنف کے نزدیک انسان کی کامیابی میں اس کی اخلاقیات اور مثبت کردار سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہماری اقدار اور رویے ہی ہم پر حکم رانی کرتے ہیں۔
’’امراؤ جان ادا‘‘ کا تنقیدی جایزہ:
https://lafzuna.com/prose/s-30276/
مصنف کے نزدیک دنیا خوب صورت یا بدصورت نہیں، یہ دیکھنے والے انسان پر منحصر ہے کہ وہ دنیا کو کیسے دیکھتا ہے؟ کسی کو آدھا گلاس خالی، تو دوسرے کو آدھا بھرا ہوا نظر آتا ہے۔ ایک ہی چیز کو مختلف لوگ مختلف نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہی سوچنے کا انداز انسان کی شخصیت کو بیان کرتا ہے۔
’’سٹیفن کوے‘‘ کہتا ہے کہ ہم سوچ کے بیج سے عادت کی فصل کو کاٹتے ہیں، عادت سے عمل کی، اسی مسلسل عمل سے ہمارا کردار تشکیل پاتا ہے۔ مثبت اور منفی کردار کا بیج بونے پر ہی انسانی قسمت بنتی اور خراب ہوتی ہے۔ بیرونی کامیابی سے قبل انسان کو اپنا اندر فتح کرنا ہوتا ہے، جس کو مصنف نے کچھ عادتوں میں تقسیم کیا ہے۔کتاب میں پہلی تین عادتوں کا تعلق اندرونی ترقی اور فتح کے ساتھ ہے۔
٭ پہلی عادت، ’’متحرک اور فعال بنیں‘‘:۔ سٹیفن آر کوے کہتا ہے کہ زندگی میں غور وفکر کرنا ضروری ہے، مگر سوچتے ہی نہ رہیں بلکہ عمل کرنا شروع کریں۔ مثبت چیزوں پر کام کرنا شروع کریں۔ مختلف معاملات پر ردِ عمل دینے کی بجائے خود ایک لایحۂ عمل کے ساتھ شروعات کریں۔ کیوں کہ انسان کو شعور کی طاقت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی گئی ہے۔ کسی بھی واقعے پر فوری ردِ عمل دینے اور سوچ سمجھ کر ردِ عمل میں فرق ہوتا ہے۔ کیوں کہ بہت سے معاملات ہمارے اختیار میں نہیں، مگر ان پر ردِ عمل ہمارے اختیار میں ہے۔ ’’پرو ایکٹو‘‘ (Proactive) لوگ ہمیشہ سوچ سمجھ کر عمل کرتے ہیں۔ مصنف کہتا ہے کہ پہل کرنا سیکھیں۔ ٹھنڈے دماغ سے پیش آنے والی صورتِ حال کا جایزہ لیں، پھر ردِ عمل دیں۔ مصنف کہتا ہے کہ اپنا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیں۔ جذباتی ہونے کی بجائے جذبات پر کنٹرول کرنا سیکھیں۔ اپنی ترجیحات کو مستقبل کے ہداف کے حساب سے ترتیب دیں، پھر عمل کریں۔
ارسطو، دنیا کا پہلا فلسفی:
https://lafzuna.com/prose/s-30170/
٭ دوسری عادت، ’’شروعات سے قبل انجام کو مدنظر رکھیں‘‘:۔ مصنف کہتا ہے کہ ہم کچھ بھی کرتے ہیں، اس کا ایک انجام ہے۔ جو لوگ نتایج کو مدِنظر رکھ کر عمل کرتے ہیں، اُن کی کارکردگی بہتر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ وقتی فایدے کی بجائے مستقبل پر نظر رکھیں۔ ہمارے حال میں کیے گئے اقدام ہی ہمارے مستقبل کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ آپ کیا نتایج حاصل کرنا چاہتے ہیں، کون نسی منزل پر پہنچنا چاہتے ہیں، آپ مستقبل میں کیا چاہتے ہیں؟ اس کے لیے آپ کو آج ہی منصوبہ بندی اور سوچ بچار کرنا پڑے گی۔ سوچ سمجھ کر قدم اُٹھانے والے اپنی راہ نہیں بھولتے، وہ منزل پر پہنچ کر ہی رہتے ہیں۔
٭ تیسری عادت، ’’ترجیحات کا تعین‘‘:۔ ترجیح سے مراد یہ ہے کہ ہم کسی چیز یا کام کو دوسری چیز یا کام سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ ہر انسان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں۔کوئی پیسے کو، کوئی رشتوں کو، کوئی زندگی کو بہتر کرنے کے لیے محنت کو اہم سمجھتا ہے۔ امتحان میں اچھے نتایج حاصل کرنے کا خواہش مند طالب علم دیگر سرگرمیوں کی بجائے اپنی پڑھائی پر توجہ دے گا۔ مصنف کہتا ہے کہ مسایل تب پیدا ہوتے ہیں جب ’’کیا اہم ہے اور کیا اہم نہیں‘‘ کا تعین کیے بغیر عمل کرتے ہیں، تو نتایج بھی وہ نہیں ملتے، جو ہم چاہتے ہیں۔ زندگی میں بہت سے کام ہم نے محدود وقت میں کرنے ہیں۔ ان میں کچھ کام اہم ہیں اور کچھ غیر اہم۔ اگر ہم اہم کاموں کی فہرست بنا کر ان کو پہلے کریں، وقت بچ جانے پر دیگر غیر اہم کاموں پر کام کریں، تو قوی امکان ہے کہ ہم وہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں، جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ مصنف کہتا ہے کہ وقت کا بہتر استعمال وہی کر سکتا ہے جس کو اپنی ترجیحات کا علم ہو۔ وقت کا بہتر استعمال کرنا سیکھیں، چیزوں کو آپس میں مکس نہ کریں۔کام کو رشتوں پر اور رشتوں کو کام پر اثر انداز نہ ہونے دیں۔
ملتان کا بانکا (شخصی خاکہ):
https://lafzuna.com/prose/s-29998/
٭ چوتھی عادت، ’’جیتیں اور جیتنے دیں‘‘:۔ مصنف کا کہنا ہے کہ ہمیں شروع ہی سے یہ سکھایا گیا ہے کہ کسی دوسرے کی ہار میں ہی تمھاری جیت ہے، کوئی ناکام ہوگا، تو تم کامیاب ہوسکوگے۔ مسابقت کی سوچ کی وجہ سے صورتِ حال یہ پیدا ہو گئی ہے کہ ہر جگہ مقابلہ بازی ہو رہی ہے۔ ہم ہر وقت دوسروں کے ساتھ مقابلے میں رہتے ہیں۔ یہ سوچ اور ایپروچ ہماری بہت ساری انرجی ضایع کر رہی ہے۔ مصنف کہتا ہے کہ ہمیشہ اپنی اور دوسروں کی جیت اور کامیابی کے بارے میں سوچیں۔ کوشش کریں کہ آپ جیت کی وجہ سے کسی کی ہار نہ ہو۔ مصنف کے مطابق بہترین انسان وہی ہوتا ہے جو اپنی جیت کے ساتھ دوسروں کی بھی جیت چاہتا ہے۔ کیوں کہ یہ زندگی کوئی کھیل نہیں کہ جس میں دوسرے کا ہارنا ضروری ہے…… بلکہ زندگی میں بہت سارے لوگ اکٹھے بھی وکٹری حاصل کر سکتے ہیں۔ سٹیفن آر کوے واضح کرتا ہے کہ جو لوگ دوسرے کو روند کر کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ وہ کامیاب ہو جائیں، مگر وہ کامیابی دیر پا نہیں ہوسکتی۔
قارئین! انسانی تاریخ عروج و زوال کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے جس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ پُراثر لوگوں میں یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے علاوہ باقیوں کو بھی ترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، ان کو اپنی کامیابی کا راز بھی بتاتے ہیں اور ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔
٭ پانچویں عادت، ’’پہلے سمجھیں پھر دوسروں کو سمجھانے کی کوشش کریں‘‘:۔ مصنف نے بڑے خوب صورت طریقے سے اس عادت کو بیان کیا ہے۔ اپنے گھر، اپنی بیوی کے ساتھ معاملات، دفتر کی مثالیں دی ہیں کہ کیسے ہم ناسمجھی میں اپنی اور دوسروں کی زندگی جہنم بنا دیتے ہیں۔ ہم صرف سنانا چاہتے ہیں…… مگر سننا نہیں چاہتے۔ دوسروں کو سمجھے بغیر ان کو سمجھانا چاہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمارے آپسی معاملات خراب ہوتے ہیں۔ لکھاری زور دیتا ہے کہ زندگی اور معاملات سہل بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ پہلے دوسروں کو سمجھیں۔ کیوں کہ دوسروں کو کوسنے اور سمجھے بغیر آپ اپنی بات منوا سکتے ہیں، نہ اپنا موقف ہی موثر طریقے سے پیش کرسکتے ہیں۔ دوسروں کی بات کو غور سننا ضروری ہے۔ دوسرے کے موقف اور حالات کو سمجھیں۔ وہ کس ’’فریم آف ریفرنس‘‘ میں بات کررہا ہے، جاننے کی کوشش کریں۔ دھیان دینے سے آپسی غلط فہمیاں کم اور ختم ہوسکتی ہیں۔ معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔ کیوں کہ ضروری نہیں کہ ہمارا علم ہی درست اور پورا ہو۔ دوسرے ہم سے بہتر ہوسکتے ہیں۔ ان کے موقف میں زیادہ وزن ہو سکتا ہے…… مگر یہ توجہ دینے سے ہی پتا چل سکتا ہے۔
دو بیٹے (جرمن افسانہ):
https://lafzuna.com/prose/s-29963/
٭ چھٹی عادت، ’’اتحادی بن کے مل جل کے مقاصد کا حصول یقینی بنائیں‘‘:۔ سٹیفین آر کوے کہتا ہے کہ انسان کی تربیت ایسی ہوئی ہے کہ وہ معاشرے میں سب کے ساتھ مل کر رہتا ہے۔ دوسروں کے شامل ہونے سے زندگی بہتر ہوتی ہے۔ اپنی صلاحیت کو دوسروں کی صلاحیتوں کے ساتھ ملا کر کام کرنے سے مقاصد حاصل کرنے میں آسانی رہتی ہے……جو لوگ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرسکتے ہیں، ان کی صلاحیتوں کے مطابق کام لے سکتے ہیں، وہی لوگ ترقی کرتے ہیں اور رہنما بنتے ہیں۔ مل جل کر اتحاد باہمی سے کام کرنا بہت بڑی حقیقت ہے۔ اسی طرح سے گھر چلتے ہیں، ادارے اور ملک چلتے ہیں۔ کوئی اکیلا کچھ نہیں کرسکتا۔ مرد اور عورت میں کوئی ایک گھر نہیں چلا سکتا۔ دونوں کو مل کر ذمے داریاں شیئر کرنا ہوتی ہیں، تبھی گھر چلتے ہیں۔ باہمی تعاون سے مقصد کا حصول آسان ہوجاتا ہے۔ جو لوگ دوسروں کی صلاحیتوں سے فایدہ اُٹھاتے ہیں اور ان کو اس کا فایدہ دیتے ہیں، وہی لوگ پُراثر اور کامیاب ہوتے ہیں۔
٭ ساتویں عادت، ’’ذاتی ترقی کے لیے خود کو آری کی طرح تیز کریں‘‘:۔ اس عادت میں مصنف زور دیتا ہے کہ انسان کو اپنے مقاصد کے ساتھ اپنے اوپر بھی بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ ذہنی اور جسمانی فٹ انسان ہی کامیابی کو انجوائے کرسکتا ہے۔ انسان جسم اور روح کا مجموعہ ہے۔ دونوں پر توجہ دینے سے ہی انسان بہتر ہوسکتا ہے۔ وہ لوگ جو خود پر توجہ نہیں دیتے، جسمانی طور پر فٹ رہنے کے لیے ورزش اور محنت نہیں کرتے، اپنی روح کی تازگی برقرار نہیں رکھتے، وہ کامیاب ہو کر بھی ناکام ہو جائیں گے۔ روح کی تازگی تبھی برقرار رہ سکتی ہے، جب ہمارے ضمیر پر بوجھ نہ ہو۔ ہمارا اپنے خالق اور اس کی مخلوق کے ساتھ معاملہ ٹھیک ہو۔ پُراثر لوگوں کی شخصیت میں یہ بات لازمی ہوتی ہے کہ وہ جسمانی اور روحانی سطح پر دوسروں سے بہتر ہوتے ہیں۔
قارئین! مصنف کا خود کو آری کی طرح تیز کرنے سے مراد ہے کہ پُراثر بننے کے لیے خود کو جسمانی طور پر فٹ رکھیں، ورزش کریں، کھانے میں اعتدال رکھیں۔ معاشرے میں دوسروں کے کام آئیں۔ دوستوں، رشتے داروں کی مدد کریں اور ان کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھیں اور انجوائے کریں۔
اس طرح جسم کی طرح اپنے ذہن کو بھی فٹ رکھیں۔ نئی چیزیں اور علوم سیکھیں۔ کتاب سے اپنا رشتہ مضبوط کریں۔ دماغ کی ترقی نئی معلومات میں ہے۔ یہ کتاب پڑھے بنا ممکن نہیں۔
اس طرح روحانی طور پر خود کو بہتر کریں۔ کوئی بھی مذہب دوسرے انسان کو تکلیف دینے کا نہیں کہتا۔ جھوٹ، بہتان بازی، دھوکا دہی، منافقت، حق تلفی اور ناانصافی کا درس کوئی مذہب نہیں دیتا۔ محبت، اخلاص، انصاف، دوستی اور مدد کا سبق ہمیں ملتا ہے۔ ہمیں ان چیزوں پر عمل کرنا چاہیے۔ تبھی ایک انسان بہتر اور پُراثر ہو سکتا ہے۔
بکر پرائز کیا ہے؟:
https://lafzuna.com/prose/s-29953/
مصنف یہ بھی کہتا ہے کہ جب ہم خود کو عصری تقاضوں کے مطابق ہمہ وقت تیار رکھتے ہیں، تو موقع ملنے پر ہم بہتر پرفارم کرسکتے ہیں۔ اس سے خود کو تیار رکھیں اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر کرتے رہیں۔ کند آرے سے کام کرنے میں آپ کا وقت بھی ضایع ہو گا اور مطلوبہ نتایج بھی نہیں ملیں گے۔ اگر انسان اپنے آرے کو تیز کرلے، تو وہی کام آسانی سے ہوجائے گا۔
سٹیفن آر کوے کہتا ہے کہ ان سات عادات کو اگر ہم اپنی زندگی میں نافذ کر لیں، تو ہمیں اس کے حیرت انگیز نتایج ملنا شروع جائیں گے اور ہم معاشرے میں دوسرے لوگوں کی نسبت نمایاں نظر آئیں گے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔