تجزیہ: عبدالمعین انصاری
اُردو زبان جب تک زندہ رہے گی، ’’مرزا ہادی حسن رسوا‘‘ اور ’’امراؤ جان ادا‘‘ کا نام زندہ رہے گا ۔
امراؤ جان ادا اگرچہ اُردو کے اولین ناولوں میں سے ہے ، مگر اس ناول کی زبان آج کی زبان معلوم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقبولیت آج بھی برقرار ہے۔
اس ناول کو یہ شرف حاصل ہے کہ پاکستان اور بھارت میں اس پر کئی فلمیں بن چکی ہیں اور انھیں مقبولیت بھی حاصل ہوئی ۔
امراؤ جان ادا کو ہم اگرچہ اُردو کے اولین ناولوں میں گردانتے ہیں، لیکن اس میں اختلاف ہے کہ اُردو کا اولین ناول کون سا ہے…… یہ مرزا ہادی حسین رسوا کا ’’امراؤ جان ادا‘‘ ہے یا ڈپٹی نذیر احمد کا ناول ’’توبۃ النصوح‘‘ ہے؟ تاہم ڈپٹی نذیر احمد کے ناول ’’توبۃ النصوح‘‘ کو وہ شہرت اور زندگی حاصل نہیں ہوئی جو ’’امراؤ جان ادا‘‘ کو حاصل ہوئی۔
اس کی وجہ اول وجہ تو یہ ہے کہ’’توبۃ النصوح‘‘ کی زبان بہت ثقیل ہے اور اس میں خاص کر عربی اور فارسی کے موٹے موٹے ثقیل الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اس کو پڑھ کر قاری کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی مولوی کا ’’نصیحت نامہ‘‘ ہے اور اس میں روزمرہ کی زبان استعمال نہیں ہوئی۔
’’توبۃ النصوح‘‘ کو پڑھ کر نصیحت تو حاصل کی جاسکتی ہے، مگر اس میں زبان کا چٹخارا اور لطف اندوز نہیں ہوا جاسکتا ہے۔ بقول عظیم سرور کے اس ناول کا قاری عربی اور فارسی کے موٹے موٹے الفاظ بھرمار اور نصیحتوں سے گھبرا جاتا ہے…… اور اس لیے اس کو ایک ہی نشست میں پڑھنا دشوار ہوجاتا ہے۔
لیکن جب کوئی ’’امراؤ جان ادا‘‘ کو پڑھتا ہے، تو اس کو ایک ہی نشست میں پڑھنا پسند کرتا ہے اور آج بھی لوگ اس کی زبان کے چٹخارے لیتے ہیں۔ یہ زبان اس قدر عمدہ ہے کہ اس کے بہت بعد کے لکھے ہوئے سرشار کی ’’فسانۂ آزاد‘‘ کی زبان بھی اس سے کہیں زیادہ قدیم معلوم ہوتی ہے۔
’’امراؤ جان ادا‘‘ کے محاورے اگرچہ آج کل سے تھوڑے سے مختلف ہیں، لیکن روز مرہ کی زبان ہے، اس لیے اس ناول کے کردار ناول کو پڑھنے والے کے سامنے گھومتے رہتے ہیں۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ناول ’’امراؤ جان ادا‘‘ کے کردار مافوق الفطرت نہیں اور نہ حقایق کے خلاف ہی ہیں۔ اُن کی کم زوریاں اُس وقت کے ماحول کے مطابق ہیں ، جس کو پڑھنے والا اُس وقت کی دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ ناول میں اُس وقت کے لوگوں کی عام کم زوریاں، رویوں اور خودداریوں کی نشان دہی ہوتی ہے۔
’’امراؤ جان ادا‘‘ میں کوئی نصیحت ہے اور نہ کسی پشیمانی کا اظہار ہی کیا گیا ہے۔ ناول کی ہیروئن جو پہلے ’’امیرن‘‘ تھی، پھر ’’امراؤ‘‘ اور اس کے بعد ’’امراؤ جان‘‘ اور اس کے بعد ’’امراؤ جان ادا‘‘ بنی…… اور وہ اپنے کو حالات کے مطابق درست سمجھتی ہے۔ حتیٰ کے اُسے گھر والوں سے مل کر بھی حسرت یا پشیمانی نہیں ہوتی……کہ حالات نے اُس کو کس نہج پر ڈالا۔
’’امراؤ جان ادا‘‘ کا یہی کہنا ہے کہ اُس نے جو کچھ بھی کیا، حالات کے مطابق کیا اور اُس پر اُسے کوئی پشیمانی نہیں۔
اس لیے تو کہا جاتا ہے کہ ’’امراؤ جان ادا‘‘ ایک نفسیاتی ناول ہے۔ یہ اصلاح میری سمجھ میں نہیں آتی۔
قارئین! ’’امراؤ جان ادا‘‘ پر ’’توبۃ النصوح‘‘ کو یہ فضیلت ضرور حاصل ہے کہ اس میں باقاعدہ پلاٹ ہے…… اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ’’توبۃ النصوح‘‘ میں ناول کے تمام لوازمات یا شرایط پوری ہیں۔
جب کہ اس کی نسبت ’’امراؤ جان ادا‘‘ میں کوئی پلاٹ نہیں۔ یہی وجہ کہ ڈھیر سارے تنقید نگار’’امراؤ جان ادا‘‘ کو ناول تسلیم نہیں کرتے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔