بقولِ احمد فراز
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں
سر شاہد عزیز کے ساتھ شام چار بجے کا وقت طے ہوا تھا۔ ان کی مہربانی کہ ہم جیسے عام لوگوں کے لیے اپنا سونے جیسا قیمتی وقت نکال لیتے ہیں۔ ورنہ ان کا شیڈیول ہمیشہ بہت ٹائٹ ہوتا ہے۔ لاہور تو کبھی اسلام آباد، تو کبھی کراچی…… پیشے کے لحاظ سے ایک اعلا پائے کے وکیل ہیں۔ فکرِ روزگار کی ریشہ دوانیاں انھیں کشاں کشاں کھینچ لے جاتی ہیں۔
ابھی ہم برادر فرید گجر، میاں یاسین، منیب شیخ اور ڈاکٹر قاسم نقوی صاحب کے ساتھ لبرٹی کے ’’بندو خاں ہوٹل‘‘ میں کھابا گردی میں مصروف تھے کہ ان کی کال آگئی۔ یوں پتا چلا کہ وہ اسلام آباد سے یہاں لاہور میں اپنے نعمت کدے پر پہنچ چکے ہیں۔
سر شاہد عزیز صاحب کو ٹورازم اور ٹریکنگ کی دنیا میں کون نہیں جانتا۔ ان کا تعارف ان کی شخصیت ہی ہے۔ ان کا نام نامی ہی ان کا تعارف ہے۔ ’’سفرِ آوارگی‘‘ میں سر مستنصر حسین تارڑ کے دیرینہ ساتھی، ایک پیشہ ور اور اعلا پائے کے وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین لکھاری بھی ہیں۔ گرچہ ابھی تک ان کی کوئی باقاعدہ کتاب مارکیٹ میں نہیں آئی…… مگر جب وہ لکھنے بیٹھتے ہیں، تو موتی پرو دیتے ہیں۔
میرے سفر نامہ ’’سفرِ عشق و جنوں‘‘ کا دیباچہ بھی انھوں نے ہی لکھا ہے…… جس کا لفظ لفظ میرے لیے بہت قیمتی اور اَن مول ہے۔
پچھلی بار دورانِ ملاقات مَیں نے ان سے اپنی یادداشتوں پر مشتمل کسی سفر نامہ کو کتابی شکل میں لکھنے کی درخواست کی تھی۔ ان کی مہربانی کہ وہ مختلف اخبارات میں مختلف مواقع پر چھپنے والے مضامین کو اکٹھا کر کے چھپوانے کی سعی کر رہے ہیں…… اور یہی سعی یقینا ٹورازم کی دنیا کے لیے معلوماتی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت قیمتی اور اَن مول خزانہ ثابت ہوگی۔ امیدِ واثق ہے کہ وہ بہت جلد اپنے کسی یادگار سفر کو لفظوں کا جامہ پہنا کر اور اسے ایک کتابی شکل دے کر ہمیشہ کے لیے امر کر دیں گے۔
ساڑھے چار بجے ہم یعنی مَیں، ڈاکٹر شاہد اقبال صاحب، سر محمد نواز صاحب اور سر محمد اشفاق صاحب اُن کے درِ اقدس پر جا پہنچے۔ حسبِ عادت اپنے گھر کے باہر کھڑے وہ ہمارے منتظر تھے۔ سلام دعا کے بعد اُن کے گھر پر اُن سے ایک معلوماتی نشست کا آغاز ہوا۔
سر شاہد عزیز صاحب جب بولتے ہیں، تو وقت تھم سا جاتا ہے۔ اُن کا لفظ لفظ برمحل، قیمتی اور بامعنی ہوتا ہے۔ خاص طور پر ٹورازم اور ٹریکنگ کمیونٹی کے لیے اُن کی ہر ہر بات اقوالِ زریں کا درجہ رکھتی ہے۔ ان کے ہر ہر لفظ کے پیچھے کئی ’’ہڈ بیتیوں‘‘ کی لازوال داستانیں پنہاں ہوتی ہیں۔ کئی قصے کہانیاں اور کئی اہم واقعات رقص کناں ہوکر حاضرینِ محفل کو مدہوش کیے جاتے ہیں۔ لفظ لفظ میں صداقت کے سچے موتی چمکتے ہیں۔ وادیِ غیر ذی زرع ہو، جنگل ہو، بیاباں ہو، پہاڑوں کے مشکل ترین راستوں کے جان جوکھم میں ڈالنے والے اسفار ہوں، بڑے بڑے بولڈرز سے نبرد آزمائی ہو، جان لیوا ’’کروسز‘‘ (Crevasses) سے جان بخشائی ہو، تند و تیز ہواؤں سے یوجنا ہو یا دریا کی تیز لہروں سے پنجہ آزمائی ہو، برفیلی بلندیوں کے خوف کے سائے کی ہیبت ناکی ہو یا خارِ مغیلاؤں سے پاؤں شل ہونے کی خطرناکی ہو، جان لیوا سردیوں میں جان کے لالے پڑنے کا شور ہو یا اُوبڑ کھابڑ راستوں کی سختیوں کا زور ہو، جنگلی اود بلاؤں کی وحشت ہو یا پلِ صراط جیسے راستوں کی دہشت ہو، یہ تمام ان کی ہڈبیتیوں کے قصوں کا حصہ ہیں۔ ان کی ہر بات میں صدیوں کے اسفار کی بھرمار کی داستانوں کے خفیہ راز ہیں۔ ان کے ہر لفظ میں ہمارے بہت سے اہم سوالات کے جواب ہیں۔ وہ وقت کو اپنی مٹھی میں قید کر کے چلتے ہیں۔ کیا مجال کہ وقت ذرا سا ہل بھی سکے۔ وہ مٹھی بھینچ لیں، تو وقت بھی ٹھہر جاتا ہے، وہ مٹھی وا کریں، تو ہی وقت حرکت کر پاتا ہے۔ ان کی جادوئی شخصیت کو قدرت نے ڈھیر سارے اوصافِ حمیدہ سے بھی نواز رکھا ہے۔
ہماری خوش بختی ہے کہ انھوں نے اپنا نہایت قیمتی وقت دے کر اپنے اَن مول قیمتی خزانوں سے اپنی یادوں کا پرساد ہمیں بھی عطا فرمایا۔ وقت گزرنے کا پتا ہی نہ چلا۔ یوں لگا جیسے تین گھنٹے تین منٹ میں گزر گئے ہوں۔ چائے، نمکو، پیزا، بسکٹ، فروٹ کیک اور پیٹیز میز پر پڑی رہیں۔ ہم ان کی ساحرانہ گفت گو اور اندازِ تخاطب میں اتنے کھوئے کہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر اپنا آپ بھی بھول گئے۔
جب چائے پڑی پڑی ٹھنڈی ہوگئی، تو شاہد صاحب اُٹھے اور دوبارہ گرما گرم چائے لا کر ہمارے سامنے رکھ دی اور پہلے اسے نوش کرنے کا حکم صادر فرمایا۔
بہت بہت شکریہ سر شاہد عزیز صاحب، آپ نے اپنا قیمتی وقت دے کر اپنی باتوں سے مہمیز کیا، جو ہمیں رہتی زندگی تک یاد رہیں گی۔ پیتل کی انگوٹھی میں جڑا قیمتی نگینہ، پیتل کو بھی قیمتی بنا دیتا ہے۔
آپ کی صحبتِ اولیٰ میں گزارے قیمتی لمحات نے ہماری اور ہمارے وقت کی قیمت بھی بڑھا دی۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔