اُردو زبان ماسکو کے تین اعلا اداروں میں سکھائی جاتی ہے یعنی ’’ماسکو ریاستی یونیورسٹی‘‘ کے تحت ایشیائی اور افریقی ملکوں کے انسٹی ٹیوٹ، بین الاقوامی تعلقات کے انسٹی ٹیوٹ اور روسی ہیومینٹیرین یونیورسٹی میں جہاں اُردو 2007ء میں پڑھائی جانے لگی۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ خواہش مند نوجوان سینٹ پیٹرزبرگ کی یونیورسٹی، سائبریا اور مشرق بعید کے چند اعلا تعلیمی اداروں سے بھی اُردو سیکھ سکتے ہیں، تاہم علمِ شرقیات کا سب سے مشہور اور باوقار روسی اعلا تعلیمی ادارہ ماسکو ریاستی یونیورسٹی کے تحت ایشیا اور افریقہ کے ملکوں کا انسٹی ٹیوٹ ہے۔ ویسے تو ریڈیو ’’صدائے روس‘‘ کے شعبۂ اردو کے زیادہ تر آناؤنسر اور مترجم اسی انسٹی ٹیوٹ کے فارغ التحصیل ہیں۔ مطلب یہ کہ اس کے پروگرام سنتے ہوئے اس انسٹی ٹیوٹ کی تعلیم کے معیار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
نوبل انعامِ یافتہ ناول ’’ڈاکٹر زواگو‘‘ کا تجزیہ:
https://lafzuna.com/prose/s-30029/
ایشیائی اور افریقی ملکوں کا انسٹی ٹیوٹ 50 سے زیادہ سال پہلے قایم کیا گیا۔ یہ ایک انوکھا تعلیمی ادارہ ہے، جہاں اسلام شناسی، ہندوستان شناسی، چین شناسی اور دوسرے علوم کے مطالعہ کی روسی روایات برقرار رکھی جاتی ہیں۔ ایشیائی اور افریقی ملکوں کا انسٹی ٹیوٹ ماسکو یونیورسٹی کا ایک شعبہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے وہاں طلبہ کو ہمہ گیر معلومات فراہم کی جاتی ہیں، مگر اہم ترین مقام ’’علمِ شرقیات‘‘ کو حاصل ہے یعنی مشرقی ممالک کی تاریخ، زبانوں، ادب، فلسفہ اور مذاہب کے مطالعہ کو…… لیکن ساتھ ہی ساتھ انسٹی ٹیوٹ میں ایسے مضامین بھی سکھائے جاتے ہیں جو کوئی 15 سال قبل تک توجہ سے باہر رہے تھے۔ مراد علمِ سیاسیات، عمرانیات وغیرہ سے ہے۔ علاوہ از یں ایشیائی اور افریقی ملکوں کے انسٹی ٹیوٹ کو ہندوستانی، چینی، کوریائی اور جاپانی کے اعلا تعلیمی اداروں کے ساتھ گہرے روابط ملاتے ہیں۔
اس انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ کو شروع سے ہی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس شعبہ میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کے تین شعبہ جات ہیں: شعبۂ تاریخ، شعبۂ لسانیات اور شعبۂ اقتصادیات۔ اس تعلیمی ادارے میں 40 سے زیادہ مشرقی زبانیں پڑھائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کو ایشیا اور افریقہ کے ممالک میں ہونے والے سیاسی اعمال، سرکاری اداروں اور سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیوں وغیرہ سے واقف کرایا جاتا ہے۔ انھیں ان ملکوں کے سماجی حلقوں اور مذاہب سے بھی آگاہ کرایا جاتا ہے۔
کلیلہ و دِمنہ (مختصر سا تعارف):
https://lafzuna.com/prose/s-29399/
ایشیائی اور افریقی ملکوں کے انسٹی ٹیوٹ کے فارغ التحصیل وسیع النظر تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ وہ سب کم سے کم ایک مشرقی اور ایک مغربی زبان جانتے ہیں۔ کئی افراد دو دو مشرقی اور مغربی زبانیں سیکھ لیتے ہیں۔ اکثر طلبہ جس مشرقی ملک کا مطالعہ کرتے ہیں، وہ پریکٹس کے لیے اسی ملک جاتے ہیں جس کی بدولت ان کو بہت ہی مفید تجربہ حاصل ہوتا ہے۔
ایسے ماہرین کی بڑی مانگ ہوتی ہے۔ ان کے لیے نوکری تلاش کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ وہ روسی وزارتِ خارجہ اور دوسرے سرکاری اداروں میں کام کرتے ہیں۔ تجارتی، سیاحتی اور اشتہار بازی کی کمپنیاں اور بینک بھی خوشی سے ایسے ماہرین کو نوکری پر رکھتے ہیں۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے فارغ التحصیل مترجم یا آناؤنسر بھی بن سکتے ہیں۔ ہمارے شعبہ کے آناؤنسروں کی طرح ایشیائی اور افریقی ملکوں کے انسٹی ٹیوٹ کے فارغ التحصیل افراد میں سے کئی افراد خبر رساں ایجنسیوں اور ٹی وی پر بھی صحافیوں کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔
(فیس بُک صفحہ ’’جانئے روس کے بارے میں‘‘ سے انتخاب)
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔