انتون چیخوف (Anton Chekhov) 29 جنوری 1860ء کو شہر تگان روگ میں ایک تاجر کے خاندان میں پیدا ہوئے۔ اسکول میں پڑھتے وقت چیخوف نے اپنے والد کی دکان میں کام بھی کیا تھا، لیکن 1876ء میں ان کے والد دیوالیہ ہوگئے تھے اور چیخوف خاندان کو ماسکو میں منتقل ہونا پڑا، تاہم وہ محض 3 سال بعد ماسکو آئے اور کچھ ہی دیر بعد ماسکو یونیورسٹی کے شعبۂ طب میں داخلہ لیا۔ اسی وقت ادبی تصانیف چھپوانے سے ان کو آمدنی ملنے لگی تھی۔ 1884ء میں انھوں نے یونیورسٹی سے فارغ ہوکر ماسکو کے نواح میں ڈاکٹری شروع کی، لیکن ساتھ ہی وہ اپنی تخلیقی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔
1890ء کے عشرے کے اوایل میں چیخوف روس کے مقبول ترین ادیب بن گئے تھے۔ وہ روزمرہ زندگی کی تصویر کشی کرنے والے ، نفسیاتی مسایل اور معاشرتی مشکلات پر طنز کرنے والے مصنف کے طور پر مشہور ہوئے تھے۔ 1890ء میں جزیرہ "Sakhalin” گئے، جہاں ایک بڑا جیل تھا۔ انھوں نے وہاں تین ماہ تک ایک ڈاکٹر اور ماہرِ عُمرانیات کی حیثیت سے تحقیقات کیں۔ قیدیوں کی زندگی سے گہری آگاہی حاصل کرنے کے لیے انھوں نے جزیرہ ساہالین کی آبادی کی مردم شماری بھی کی جو اُس زمانے میں دس ہزار افراد کے قریب تھی۔
1892ء میں انھوں نے روس کے مرکزی حصے میں بستی "Melikhovo” میں ایک حویلی خریدی۔ وہاں انھوں نے بہت بڑی سماجی سرگرمیاں کیں۔ چھوٹا طبی مرکز اور کسانوں کے بچوں کے لیے تین اسکولوں کی تعمیر کے اخراجات اٹھائے۔ ایک ڈاک خانہ بھی کھلوایا۔ اسی زمانے میں چیخوف نے اپنے مشہور افسانے ’’کمرہ نمبر6‘‘، ’’غلاف والا‘‘، ’’گس بری‘‘، ’’تین سال‘‘، دیہاتی کہانیوں کا سلسلہ، ڈرامے ’’انکل وانیا‘‘ اور ’’سی گل‘‘تحریر کیے ۔
1897ء میں چیخوف کی حالت، جو تپ دق میں مبتلا تھے، انتہائی خراب ہوگئی تھی اور انھوں نے موسمِ خزاں اور بہار فرانس میں گزارے اور پھر ستمبر 1898ء میں جنوبی روسی شہر یالتا میں منتقل ہوئے۔ صحت کی ناساز حالت کے باوجود اپنی سماجی سرگرمیاں بند نہیں کیں۔
مئی 1901ء میں چیخوف کی، ماسکو کے آرٹ تھیٹر کی اداکارہ "Olga Knipper” سے شادی ہوئی۔ تب تک وہ بہت کم زور ہوچکے تھے۔ 1904ء میں ان کا ڈراما ’’چیری کا باغ‘‘ اسٹیج کیا گیا جو ان کی آخری تحریر ہے۔بہت جلد چیخوف کی حالت میں انتہائی خرابی آئی۔ 15 جولائی 1904ء کی رات ان کی طبیعت بہت بد تر ہوگئی۔ جب ڈاکٹر آئے، ادیب نے ان سے کہا: ’’مَیں ابھی مرنے والا ہوں۔‘‘ اور فوراً انتقال کرگئے۔ انھیں "Novodevichiy” نامی ماسکو کی ایک مانسٹری کے قبرستان میں دفنایا گیا۔
2010ء میں روس اور باقی دنیا میں ان کی 150ویں سال گرہ منائی گئی۔
(فیس بُک گروپ ’’جانیے روس کے بارے میں‘‘ سے انتخاب)
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔