تبصرہ: میم الف عباس 
ناول ’’کافکا بر لبِ ساحل‘‘ کو پڑھنا میرے لیے کئی لحاظ سے اولین اور نہایت شان دار تجربہ رہا۔
کسی جاپانی ناول کو، بالخصوص ’’ہاروکی موراکامی‘‘ کو پہلی بار پڑھا۔ ’’فنطاسی ژانرا‘‘ کو بھی بس بچپن ہی میں کچھ کہانیوں کی صورت پڑھا تھا۔ اس لیے یہ بھی ایک طرح سے پہلا ہی تجربہ رہا اور نجم الدین احمد کے ترجمے سے بھی پہلی بار ہی شناسائی ہوئی۔
چوں کہ فنطاسیہ میری پسندیدہ اصناف میں شامل نہیں، لہٰذا جب اس ناول کے بارے میں چند ایسی باتیں پڑھیں کہ اس میں بلیاں انسانوں سے محوِ کلام ہوتی ہیں، آسمان سے جونکیں برستی ہیں، ایک ایسا کردار ہے جس کا کوئی جسمانی وجود نہیں اور وہ مختلف شکلیں بدل لیتا ہے۔ اس میں برزخ ہے، جہاں لوگ زندہ ہیں اور وقت مرچکا ہے اور ایک پندرہ سالہ لڑکے کا پچاس سالہ عورت سے رومان ہے، تو مجھے لگا کہ یہ میرے مطلب کی کتاب نہیں ہوگی……! لیکن ایک بار ناول پڑھنا شروع کیا، تو موراکامی کا قوتِ متخیلہ، عمدہ کہانی، رواں اسلوب، خوب صورت کردار نگاری اور جان دار منظر نگاری رگ و پے میں سرائیت کرتی چلی گئی…… اور اس میں موجود حقیقی اور طلسماتی دنیاؤں کا ایک دوسرے میں مدغم ہوجانا بالکل بھی غیر یقینی محسوس نہ ہوا۔
’’طاقت کے اڑتالیس اُصول‘‘ تبصرہ پڑھنے کے لیے نیچے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/prose/s-29551/

جیسے شفاف پانی ہو اور اس میں ہر رنگ کا ایک ایک قطرہ ڈالا جائے اور تمام رنگ دھیرے دھیرے ایک دوسرے میں مل کر بالآخر ایک ہی رنگ میں ڈھل جائیں۔ یہ پُراسرار دنیائیں جو بظاہر ایک سی بھی ہیں اور مختلف بھی، ایک دوسرے میں مل کر ایک بھرپور قسم کا تجسس پیدا کردیتی ہیں۔ ایسا کہ جن میں جا کر کھو جانے کا جی چاہتا ہے۔
ہر صاحبِ مطالعہ ادیب کی طرح موراکامی کے پاس بھی معلومات کی فراوانی ہے۔ یونانی دیو مالاوں کی، ادب کی، موسیقی کی اور تاریخ کی معلومات…… لیکن یہ کسی تقریر یا وعظ کے انداز میں اپنے نظریات کی بوچھاڑ نہیں کرتے، بلکہ مناسب موقع پر ناپ تول کر اپنے کرداروں کے ذریعے اس علم کو آشکار کرتے ہیں۔ ہاں……! اگر کسی کو فلسفے، موسیقی اور نفسیات پر مبنی مضامین میں دلچسپی نہ ہو، تو کہیں کہیں بوریت ہوسکتی ہے، لیکن مجھے کہیں بھی بے زاری محسوس نہ ہوئی۔
کہانی میں کئی کردار ہیں…… لیکن میرا پسندیدہ کردار ’’ناکاتا‘‘ ہے، ایک ایسا معصوم بڈھا جو بچپن میں کسی عجیب حادثے کی وجہ سے اپنی یادداشت کھو بیٹھتا ہے اور کچھ بھی پڑھنے لکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو کر ایک خالی تختی بن جاتا ہے۔ جہاں ناکاتا کی سادہ لوحی پر مبنی معصومانہ سوال و جواب دل موہ لیتے ہیں، وہیں اس کا خالی پن اداس کردیتا ہے۔ وہ جہاں جاتا ہے، وہیں رہ جاتا ہے، جہاں بیٹھے، بیٹھا ہی رہ جاتا ہے…… کیوں کہ اسے نہ وقت کا احساس ہے، نہ کسی کا انتظار ہے اور نہ اس کے پاس کوئی یاد ہی ہے۔
محسن حامد کے ناول ’’ایگزٹ ویسٹ‘‘ پر اِک نظر:
https://lafzuna.com/prose/s-29733/ 
میرا دوسرا پسندیدہ کردار ’’آنسہ سائیکی‘‘ ہے۔ ایک پچاس سالہ عورت جو نوجوانی میں اپنے محبوب کو کھو دینے کے باعث بظاہر تو زندہ ہے، لیکن اپنے تخیل میں وہ اپنے محبوب ہی کی یادوں میں کھو چکی ہے اور وقت اس کے لیے منجمد ہوچکا ہے اور اس کی زندگی محض یادوں کی ایک پٹاری بن چکی ہے۔
کتاب سے ایک مختصر اقتباس پیش کرنا چاہوں گا جہاں یہ دونوں متضاد کردار ایک دوسرے سے ملتے ہیں: ’’بلیوں کے علاوہ میری زندگی میں کبھی کوئی ایسا شخص نہیں رہا جسے تم میرا دوست کہہ سکو۔‘‘ ناکاتا نے کہا۔
’’کچھ عرصے سے میرا بھی کوئی دوست نہیں!‘‘ آنسہ سائیکی بولی۔ ’’یادوں میں ہونے کے علاوہ۔‘‘
’’آنسہ سائیکی؟‘‘
’’ہاں……‘‘ اس نے جواباً کہا۔
’’در حقیقت، میرے پاس تو یادیں بھی نہیں۔ مَیں بے وقوف ہوں، تم دیکھ ہی رہی ہو، تو کیا تم مجھے بتاسکتی ہو کہ یادیں کس طرح کی ہوتی ہیں؟‘‘
ناول ’’گاڈ فادر‘‘ کا مختصر جایزہ پڑھنے کے لیے نیچے لنک پر کلک کیجیے: 
https://lafzuna.com/prose/s-29665/
آنسہ سائیکی نے میز پر ہاتھ دھرے اپنے ہاتھوں کو دیکھا، پھر دوبارہ سر اُٹھا کر ناکاتا کی طرف دیکھا: ’’یادیں تمھیں اندر سے حوصلہ مند رکھتی ہیں…… لیکن وہ تمھیں چیر پھاڑ کر بھی رکھ سکتی ہیں۔‘‘
ناکاتا نے اپنا سر ناں میں ہلایا: ’’یہ بہت مشکل بات ہے، ناکاتا اب بھی نہیں سمجھا۔ مَیں جو چیز سمجھتا ہوں وہ صرف حال ہے۔‘‘
’’مَیں اس کے بالکل الٹ ہوں۔‘‘ آنسہ سائیکی نے کہا۔
ایک اچھے ناول نگار کا یہی کمال ہے کہ وہ ایسے کردار تخلیق کرے جن سے محبت یا نفرت ہوجائے۔ مجھے بھی ناکاتا اور آنسہ سائیکی کے کرداروں سے محبت ہوگئی ہے اور اب وہ دیر تک میرے حافظے میں رہیں گے۔
دوستوئیفسکی کا قید ہونے سے پہلے بھائی کے نام خط، پڑھنے کے لیے نیچے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/prose/s-29636/
کہانی کا اختتام ایک لحاظ سے ’’اوپن اینڈڈ‘‘ ہے جسے ہر پڑھنے والا اپنے انداز سے سمجھے اور اخذ کرے گا۔ مجھے لگتا ہے کہ ناول کا مرکزی تھیم ’’یادیں اور نظریہ‘‘ ہے جو بتاتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں اور انسان خود "Fluid” ہے۔ ہر چیز اپنا آپ بدلتی ہے اور جو نہیں بدلتا، جو ٹھہر جاتا ہے، وہ فطری بہاو میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔
آخر میں نجم الدین احمد کے ترجمے کی تعریف کرنا ضروری سمجھتا ہوں، ماسوائے چند غیر ضروری لفظی تراجم (جیسے ’’بیلی ڈانسر‘‘ کو ’’پیٹ کی رقاصہ‘‘ یا ’’بیٹری‘‘ کو ’’برقی مورچہ‘‘ لکھنے کے) یہ ایک شان دار ترجمہ تھا۔ کیوں کہ جتنی رواں کہانی تھی، ترجمہ اس کی راہ میں حایل نہیں ہوا بلکہ اس کی خوب صورتی کو مزید نکھارتا ہی رہا۔
(یہ ناول جاپانی زبان سے نجم الدین احمد نے ترجمہ کیا ہے!)
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔