تحریر: یاسر حبیب
شوکت نواز خان نیازی پاکستان کے ممتاز مِزاح نگار، ادیب اور مترجم ہیں۔ آپ نے فرانسیسی ادب کو براہِ راست فرانسیسی زبان سے اُردو قالب دیا ہے۔
٭ مختصر تعارف:۔ شوکت نواز خان نیازی 19 نومبر 1962ء کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ لاہور میں ایف سی کالج اور اسلامیہ کالج سول لائنز سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے پولی ٹیکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ 1984ء میں فرانسیسی زبان سے دلچسپی کے باعث لاہور میں واقع فرانسیسی ثقافتی مرکز ’’آلیانس فرانسیز‘‘ سے فرانسیسی زبان کی تعلیم حاصل کی…… جو بعد ازاں 1988ء تک اسلام آباد کے ’’آلیانس فرانسیز‘‘ میں جاری رہی۔ فرانسیسی ادب سے براہ راست اُردو میں تراجم کی ابتدا 2000ء میں ہوئی، جو اَب ان کی وجہِ شہرت بن چکی ہے۔ تراجم کے علاوہ فرانس کا ایک سفرنامہ اور سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر سماجی اور معاشی موضوعات پر کڑوے کسیلے طنزیہ مضامین لکھتے اور پڑھتے ہیں۔
٭ کیریئر کا آغاز:۔ وہ گذشتہ پچیس سال سے فرانسیسی لسانی و ثقافتی اداروں سے منسلک رہے ہیں۔ 2000ء سے 2010ء تک وہ فرانسیسی ثقافتی مرکز اسلام آباد سے بطورِ مترجم منسلک رہے ہیں۔ اس دوران میں انھوں نے فرانس کے متعدد دورے کیے اور انھیں فرانسیسی معاشرے کا بہت نزدیک سے عمیق جایزہ لینے کا موقع ملا۔ غیر ملکی ادب، خصوصاً فرانسیسی ڈراموں کے تراجم میں شہرت پائی۔ فرانسیسی ڈراما نویس ’’مولئیر‘‘کے شہرہ آفاق کھیل ’’تارتوف‘‘ کا اُردو ترجمہ ’’ریا کار‘‘ کے نام سے 2011ء میں پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے سٹیج پر کامیابی سے پیش کیا گیا۔ غیر ادبی تراجم میں پاکستانی گائیک نصرت فتح علی خان کی فرانسیسی زبان میں تحریر شدہ سوانح عمری کا اُردو ترجمہ کیا۔ ان کے تمام تراجم فرانسیسی زبان سے براہِ راست اُردو میں ترجمہ شدہ ہیں۔ انھوں نے بہت سے نام ور فرانسیسی و غیر فرانسیسی ادیبوں کی شاہ کار تحاریر کا اُردو ترجمہ کیا ہے۔ دیگر متعدد فرانسیسی ڈراما نگاروں کے فن پاروں کا ترجمہ کر چکے ہیں جن میں ژاں پال سارتر، ژاں انہوئی، یوجین ایونیسکو، ژولز رومیں، آنتوان دسینت ایکسوپیری اور نوبل انعام یافتہ بلجیم نژاد فرانسیسی ڈراما نگار ماریس ماترلینک شامل ہیں۔ ژاں پال سارتر کے ڈراموں کے ایک مجموعے اورایک ناول کے تراجم زیرِ طبع ہیں۔ علاوہ ازیں انگریزی زبان میں بین الاقوامی ادب کے تراجم بھی کرچکے ہیں جن میں اینٹون چیکوف ’’انکل وانیا‘‘، ہنرک ابسن ’’اینمی آف دی پیپل‘‘،’’ اے ڈالز ہاؤس‘‘، ’’ہیڈا گابلر‘‘، روالڈ ڈاہل کی چند کہانیوں کے علاوہ ٹینیسی ولیمز ’’گلاس میناژری‘‘ بھی شامل ہیں۔
٭ طبع شدہ فرانسیسی تراجم :۔
٭ کنجوس، مولئیر کے مزاحیہ ڈرامے "L’ Avare” کا اُردو ترجمہ (پہلا ایڈیشن: اکتوبر 2005ء)، الحمرا پبلشنگ، اسلام آباد۔
٭ ریاکار، مولئیر کے مزاحیہ ڈرامے "La Tartuffe” کا اُردو ترجمہ، (پہلا ایڈیشن: اکتوبر 2005ء)، الحمرا پبلشنگ، اسلام آباد۔
٭’’ موپاساں کی شاہکار کہانیاں‘‘، ’’گی د موپاساں کے مشہور ناولٹ Boule de Suif‘‘ اور منتخب 14 افسانوں کے اُردو تراجم، (پہلا ایڈیشن: فروری 2006ء)، الحمرا پبلشنگ، اسلام آباد۔
٭ ہوئے تم دوست جس کے، گی د موپاساں کے مشہور ناول "Bel Ami” کا اُردو ترجمہ، (پہلا ایڈیشن: مارچ 2007ء)، الحمرا پبلشنگ، اسلام آباد۔
٭ پینتیس شامیں موپاساں کے ساتھ، گی دموپاساں کے مشہور ناولٹ "Boule de Suif” اور منتخب 34 افسانوں کے اُردو تراجم، (پہلا ایڈیشن: 2018ء)، پبلشر: سٹی بک پوائنٹ، کراچی۔
٭ ژاں پال سارتر کے چار شاہکار کھیل ’’بند دروازے‘‘، ’’رنڈی‘‘، ’’لتھڑے ہاتھ‘‘، ’’بے گور و کفن‘‘)، پہلا ایڈیشن: 2019ء، پبلشر: سٹی بک پوائنٹ، کراچی۔
٭ متلی (ناول) "La nause” کا اُردو ترجمہ، مصنف: ژاں پال سارتر، پہلا ایڈیشن: 2020ء، پبلشر: سٹی بک پوائنٹ، کراچی۔
ان کو ملنے والے ایوارڈز:۔ پاکستان میں فرانسیسی زبان کی ترویج میں ان کی خدمات کے اعتراف میں "Organisation Internationale de la Francophonie” اورسفارت خانہِ فرانس نے انھیں 2007ء میں "Ggrand Prix de la Francophonie”سے نوازا۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔