ترجمہ: سعادت حسن منٹو
دوستوئیفسکی کی سزائے موت کو جب چار سال قید میں تبدیل کر دیا گیا اور اسے سائبیریا کے یخ بستہ میدانوں میں بھیج دیا گیا ، تو وہاں جانے سے پہلے اُس نے اپنے بھائی کو ایک خط لکھا :
پیارے بھائی!
مَیں بالکل افسردہ نہیں ہوں۔ مَیں نے غم کو اپنے پاس پھٹکنے تک نہیں دیا۔ زندگی ہر جگہ زندگی ہے، وہی ہے جو ہمارے اندر ہے نہ کہ وہ جو باہر ہے۔
میرے ساتھ اور بھی بہت لوگ ہوں گے۔ عوام کے درمیان معمولی انسان کی حیثیت میں رہنا، ہمیشہ اسی طرح زندگی بسر کرنا اور مصایب کی پروا نہ کرنا…… یہ ہے زندگی…… یہی زندگی کا اصلی مقصد ہے۔ مَیں اس چیز کو بخوبی سمجھ چکا ہوں۔ یہ خیال میرے گوشت پوست، رگ رگ اور نخ نخ میں سرایت کرگیا ہے اور یہ بالکل صداقت پر مبنی ہے۔
وہ سر، جو خیالات و افکار کی تخلیق کرتا تھا…… وہ سر، جو آرٹ کی بلندیوں میں اپنا آشیانا بنائے تھا…… اور جو روح کی بلند ترین ضروریات سے آگاہ اور ان کا عادی تھا…… وہ سر، اب میرے شانوں سے علاحدہ ہوچکا ہے…… وہاں ان تخیلات کے دھند لے نقوش باقی رہ گئے ہیں، جو مَیں ابھی صفحۂ قرطاس پر منتقل نہیں کرسکا۔ یہ افکار ذہنی عذاب کا باعث ضرور ہوں گے…… لیکن یہ درحقیقت ہے…… کہ میرے دل میں ابھی تک وہ خون اور گوشت موجود ہے، جو محبت بھی کر سکتا ہے…… مصیبت بھی جھیل سکتا ہے، جو خواہش بھی کر سکتا ہے اور آخر یہی تو زندگی ہے۔
اگر کوئی شخص میرے متعلق اپنے دل میں کدورت رکھتا ہے، مَیں نے کسی سے جھگڑا کیا ہے، یا مَیں نے کسی کے دل پر برا اثر چھوڑا ہے، تو اس سے ملو اور میری طرف سے التجا کرو کہ وہ مجھے معاف کر دے۔ میرے دل میں ذرّہ بھر میل نہیں۔
اِس وقت میری یہی خواہش ہے کہ مَیں اپنے احباب میں سے کسی کے گلے ملوں……! اِس سے دل کو اطمینان ہوتا ہے۔
میرا خیال تھا کہ میری موت کی خبر تمھیں ہلاک کر دے گی…… لیکن اب تمھیں کوئی فکر نہیں کرنا چاہیے۔ مَیں زندہ ہوں اور اس وقت تک زندہ رہوں گا…… جب ہم دونوں دوبارہ بغل گیر ہوں گے……!
ماضی کی طرف رُخ پھیر کر دیکھتا ہوں کہ بہت فضول وقت ضایع ہوا ہے۔ بیشتر ایام خوابوں، غلط کاریوں اور بے کار مشاغل میں گزرے ہیں۔ مَیں نے کئی بار ضمیر کے خلاف کام کیا ہے۔ یقین مانو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ زندگی نعمت ہے…… زندگی مسرت ہے…… ہر وہ لمحہ جو ضایع ہوچکا ہے…… شادمان عرصۂ زندگی ہونا چاہیے تھا……!
اَب کہ مَیں اپنی زندگی بدل رہا ہوں، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری روح نئے قالب میں داخل ہو رہی ہے……!
لیکن کیا یہ صحیح ہے کہ میرے ہاتھ قلم کو ترستے رہیں گے…… میرا خیال ہے کہ چار سال کے بعد مجھے قلم پکڑنا نصیب ہوگا۔
اے کاش……! مجھے صرف لکھنے کی اجازت دی جائے۔ کتنے افکار، کتنے خیالات جو مَیں نے تخلیق کیے تھے، تباہ ہوجائیں گے……!
میرے ذہن کی یہ چنگاریاں یا تو بجھ جائیں گی، یا میری رگوں میں ایک آتشیں زہر بن کر حلول کر جائیں گی!
(نوٹ: ’’فیودرد دوستوئیفسکی‘‘ کی کتاب ’’فکر و فن اور ادب کا مطالعہ‘‘ سے انتخاب، مرتب ’’توقیر احمد رضا‘‘)
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔