تبصرہ: منیر فراز 
مَیں گذشتہ پانچ سال سے ’’عالمی ادب کے اردو تراجم‘‘ (فیس بُک گروپ) میں پیش کیے جانے والے بین الاقوامی ادب کے نثری اور شعری تراجم پڑھ رہا ہوں۔ بلاشبہ یہ سنجیدہ لکھنے اور پڑھنے والوں کا بے مثال گروپ ہے…… جسے یاسر حبیب صاحب نہایت منظم طور پر چلا رہے ہیں۔
گروپ میں اب تک ساڑھے چار سو کے قریب عالمی افسانوں کے اُردو تراجم پیش کیے جاچکے ہیں۔ دیگر شعری اور نثری ادب پاروں کے تراجم الگ ہیں۔ یہ کسی بھی ادبی گروپ کی بے مثال کارکردگی کا مظہر ہے۔
گروپ کا اگلا خوش کن مرحلہ، گروپ کے ترجمہ شدہ افسانوں کو کتابی شکل دے کر محفوظ کرنے کا ہے۔ اس ضمن میں محترمہ صہبا جمال شازلی کے تراجم کا ایک مجموعہ میری نظروں سے گزرا ہے۔ علاوہ ازیں گروپ کے ان ساڑھے چار سو افسانوں سے منتخب امریکی کہانیوں، بعنوان ’’امریکی کہانیاں‘‘ اور خواتین ترجمہ نگاروں پر مشتمل ’’عورت کتھا‘‘ کے نام سے ایک مجموعہ کی اشاعت بھی میرے علم میں ہے۔ یہ گروپ کی قابلِ تحسین کارکردگی ہے۔
اب ’’عالمی ادب کے اُردو تراجم‘‘ گروپ کی معروف مترجم عقیلہ منصور جدون صاحبہ،جن کے تراجم گروپ میں تواتر سے پیش ہورہے ہیں، کے تراجم کا اولین مجموعہ ’’خدا کے نام خط‘‘ مجھے موصول ہوا ہے۔
کتاب میں عالمی شہرت یافتہ روسی افسانہ نگار ’’چیخوف‘‘ کے پانچ اور فرانس کے ’’موپاساں‘‘ کے تین شاہ کار افسانوں کے علاوہ اسپین، اٹلی، چلی، برطانیہ، میکسیکو، چین اور ارجنٹائن کے افسانہ نگاروں کے کل 16 افسانے اور ’’کافکا‘‘ کے ناول ’’دا ٹرائل‘‘ کا تلخیص شدہ ترجمہ شامل ہے۔
کتاب کا عنوان ’’خدا کے نام خط‘‘ دراصل مجموعے میں شامل ’’گریگورو یولو‘‘ کے شہرہ آفاق افسانے کا عنوان ہے…… جو اس مجموعے کے لیے موزوں ترین ہے اور سچ پوچھیں، تو یہ ایک شاہ کار اور منفرد افسانہ ہے۔
جب آپ اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے مذکورہ کہانی پر پہنچیں گے، تو آپ خود محسوس کریں گے کہ میں اسے منفرد اور شاہ کار افسانہ کیوں کَہ رہا ہوں۔
مجموعہ میں شامل بیشتر افسانوں کے تراجم پر مَیں ’’عالمی ادب کے اُردو تراجم‘‘ گروپ ، جہاں یہ تمام افسانے پوسٹ ہوتے رہے ہیں، پر اپنے تاثرات بیان کر چکا ہوں، مکرر آنکہ مجموعہ میں شامل افسانوں کے انتخاب کسی دیدہ ور کے نمایندہ تو ہیں ہی، ان کے تراجم بھی نہایت معیاری زبان میں کیے گئے ہیں۔
آپ اگر اوپر بیان کیے گئے عالمی افسانہ نگاروں کے ممالک کی فہرست پر غور کریں گے، تو آپ پر کھلے گا کہ کتاب میں روس سمیت مغربی یورپ، ایشیا سے چین اور لاطین امریکہ کے نمایندہ ادب کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ترجمہ نگار کی دانستہ کوشش نہ ہو…… لیکن مَیں نے اس مجموعہ کو اسی تناظرمیں دیکھا ہے۔
یوں ان خطوں کے مجموعی ادبی و سماجی رجحان کی ایک جھلک ہم ایک کتاب میں دیکھ لیتے ہیں۔ اگر کتاب میں غیر ارادی طور پر ہی ایک افسانہ افریقہ کی سرزمین سے منتخب ہوتا، تو اس حوالے سے بہت دلچسپ صورتِ حال پیدا ہوتی، تاہم ان تمام مصنفین کو ایک جگہ، ایک کتاب میں اُردو ترجمہ کے ساتھ پیش کردینا ہی ایک قابلِ تحسین کارنامہ ہے۔ ترجمہ کے معیار کی داد الگ رہی۔
مجھے ان تراجم کی صحت پر کوئی سوال نہیں۔ یہ اُردو زبان کے نہایت رواں اور محنت سے کیے گئے تراجم ہیں۔
عقیلہ منصور جدون صاحبہ کیوں کہ افسانوں کے علاوہ امریکی معاشرہ کے متعدد پہلوؤں پر لکھے گئے مضامین کے تراجم پر بھی دسترس رکھتی ہیں، چناں چہ ان کے قلم میں زبان کی وسعت پیدا ہو گئی ہے…… جو ان کے تراجم میں نکھار پیدا کرنے کا سبب بنی ہے۔
کتاب میں شامل افسانوں پر حتمی رائے ہر پڑھنے والا اپنے مزاج کے مطابق دے گا…… اور یہ عمل کتاب کے مجموعی تاثر قایم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، تاہم مجھے ان تراجم اور باالخصوص کہانیوں کے انتخاب پر اطمینان ہوا ہے۔
کتاب میں ہر افسانہ نگار کے افسانوں سے پہلے ان کا مختصر تعارف پیش کیا گیا ہے۔ یہ ترکیب نئے پرھنے والوں کے لیے کار آمد ہوسکتی ہے۔
گروپ میں عقیلہ منصور جدون کے تراجم کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ ایک پختہ کار مترجم کے طور پر عالمی ادب کے مزید شاہ کار افسانے پڑھنے والوں تک پہنچائیں گی۔
نیچے لنک پر کلک کرکے سلیم اختر کے ناولٹ ’’ضبط کی دیوار‘‘ کا تنقیدی جایزہ پڑھیے:
https://lafzuna.com/prose/s-29332/
ایک اور اہم بات کا تذکرہ یہاں بہت ضروری ہے…… اور وہ یہ کہ مجھے عقیلہ منصور جدون صاحبہ کی ایک سابقہ پوسٹ سے علم ہوا کہ کتاب کی طباعت میں گروپ ایڈمن یاسر حبیب کی تحریک نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔
کچھ ایسے ہی تاثرات میں نے صہبا جمال شازلی صاحبہ کے مجموعہ کے علاوہ ’’امریکی کہانیاں‘‘ اور ’’عورت کتھا‘‘ کی اشاعت پر سن رکھے ہیں۔ مجھے ہمیشہ اس بات کی کمی محسوس ہوئی ہے کہ گروپ میں یاسر حبیب، جن پر ایک علاحدہ مضمون لکھنے کا قرض مجھ پر ہے، اس شان دار ادبی کارنامہ پر داد سمیٹنے کبھی آگے نہیں آئے۔ وہ چپ چاپ اپنے مخصوص انداز میں یہ بے مثال ادبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
مجھے گروپ کے دیگر مترجمین کی کتب کا بھی شدت سے انتظار ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یاسر حبیب حُسنِ طباعت کا یہ سلسلہ بڑھائیں گے…… اور اگلے مرحلے میں محترمہ رومانیہ نور اور شگفتہ شاہ صاحبہ جیسے گروپ کے مستند مترجمین، جن کا خاصا اور گراں قدر مواد گروپ میں محفوظ ہے، کو کتب کی تحریک دیں گے…… تاہم یاسر حبیب صاحب کو اب تک کی کارکردگی پر دل سے تحسین اور عقیلہ منصور جدون صاحبہ کو اس کتاب کی اشاعت پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
مشینی زندگی کے اس دور میں افسانے پڑھنا، ان کے تراجم کے لیے وقت نکالنا اور طباعت و تقسیم کے جان لیوا مراحل سے گزرنا کس قدر دشوار ہوسکتا ہے…… ایسے میں ستایش کی یہ چند سطریں عقیلہ منصور جدون صاحبہ کو خراجِ تحسین کے لیے واقعی بہت کم ہیں۔
مشینی زندگی کے اس دور میں افسانے پڑھنا، ان کے تراجم کے لیے وقت نکالنا اور طباعت و تقسیم کے جان لیوا مراحل سے گزرنا کس قدر دشوار ہوسکتا ہے…… ایسے میں ستایش کی یہ چند سطریں عقیلہ منصور جدون صاحبہ کو خراجِ تحسین کے لیے واقعی بہت کم ہیں۔
گروپ میں میری حاضری طویل مدت کے بعد ہورہی ہے۔ یہ چند سطور ہی لکھ سکا ہوں:
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔