تبصرہ: علی عمار یاسر 
کچھ دن پہلے مَیں نے سب رنگ کہانیاں کے ’’تیسرے حصے‘‘ پر ایک تبصرہ لکھا تھا اور اس میں کہا تھا کہ اس میں کچھ کہانیاں بہت اچھی تھیں، کچھ اچھی اور کچھ ماٹھی کہانیاں تھیں۔ اس کے بعد مَیں نے دوسرا حصہ پڑھا، تو اب اس پر تبصرہ پیشِ خدمت ہے ۔
شکیل عادل زادہ اور سب رنگ کہانیاں کی جب بھی بات ہوئی…… تبصرہ لکھنے والوں نے یہی کہا کہ بطورِ مدیر شکیل عادل زادہ نے سب رنگ ڈائجسٹ کا معیار یقینی بنایا…… اور مقدار کی بجائے معیار کو اس حد تک یقینی بنایا کہ سب رنگ ڈائجسٹ کی اشاعت بھی تاخیر کا شکار ہوتی رہی۔ صرف اس لیے کہ اس معیار کی تحاریر کا حصول یقینی بنایا جائے جو سب رنگ ڈائجسٹ کا طرۂ امتیاز تھا۔ ان کی اسی شہرت سے متاثر ہو کر مَیں نے سب رنگ کہانیاں کے تین حصے خرید لیے…… مگر پڑھنے کی ترتیب یہ رکھی کہ پہلے تیسرا حصہ شروع کیا، پھر دوسرا اور آخر میں پہلا۔ کیوں کہ میرے خیال میں سب سے اچھی کہانیاں پہلے حصے میں ہونی تھیں، تو مَیں نے سوچا کہ سب سے لذیذ ڈش آخر میں کھانی چاہیے، تاکہ سواد تادیر قایم رہے ۔
مَیں نے جب سب رنگ کہانیاں کا تیسرا حصہ پڑھا، تو میری پہلی رائے یہ تھی کہ اچھا مجموعہ ہے مگر اس مجموعے میں کچھ کہانیاں کم سے کم میرے ذوق کی تسکین کرنے میں ناکام رہی تھیں…… لیکن اس کے باوجود مجموعی تاثر اچھا ہی تھا جس کا کچھ کریڈٹ رواں ترجمے اور بک کارنر کے شان دار اشاعتی معیار کو ضرور جاتا ہے۔
لیکن سب رنگ کہانیاں ’’دوسرا حصہ‘‘ پڑھنے کے بعد میں شکیل عادل زادہ کے انتخاب، کڑے معیار کا گرویدہ ہو گیا۔
جیسا کہ سب رنگ کہانیاں ’’تیسرے حصے‘‘ میں ترجمے اور اشاعت کی نفاست کے بارے میں پہلے بات کرچکا ہوں، بک کارنر جہلم نے اس سلسلے کی سبھی کتب بہت محنت اور محبت سے شایع کی ہیں۔ ترجمہ رواں تو ہے ہی، کاغذ بھی بہت دیدہ زیب ہے۔ جو معیار شکیل عادل زادہ نے ترجمے اور کہانیوں کے انتخاب میں پسند کیا، وہی معیار بک کارنر جہلم نے کتاب کی اشاعت میں برقرار رکھی۔ پروف ریڈنگ، نفاست، خوب صورتی، ہر لحاظ سے کتاب ایک شاہکار ہے۔ یہ کتاب پڑھنے کے لیے اُٹھاتے وقت ہی دل خوش ہو جاتا ہے۔
مجھے فکشن میں جو چیز سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے، وہ ہے ایک چونکا دینے والا انجام۔ سب رنگ کہانیاں ایسی کہانیوں سے بھری پڑی ہیں جن کے انجام چونکا دینے اور سوچنے پر مجبور کر دینے والے ہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ ایک باذوق قاری ہوں اور کہانی پڑھنے کے بعد کچھ لمحات کے لیے حیرت زدہ نہ رہ جائیں اور ایک دو بار اس کہانی کے بارے سوچیں نہ۔
ایسا نہیں کہ سب رنگ کہانیاں ’’دوسرا حصہ‘‘ کے موضوعات یک رخے ہوں…… بلکہ موضوعات میں ایک ایسا تنوع ہے جو کتاب اور کہانی میں دلچسپی برقرار رکھتا ہے۔ محبت کرنے والوں کی کہانیاں بھی اس میں آپ کو ملیں گی اور جرایم پیشہ لوگوں کے قصے بھی…… کہیں والدین کی قربانیاں نظر آئیں گی، تو کہیں بہنوں کے پھڈے ہوں گے۔ پریشان کر دینے والا انجام بھی ہو گا اور لبوں پہ مسکراہٹ لینے والا اختتام بھی۔ سو، یہ کہا جا سکتا ہے کہ سب رنگ کہانیاں ’’دوسرا حصہ‘‘ میں تقریباً ہر پڑھنے والے کو متاثر کر دینے والی کہانیاں موجود ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔