تحریر: ڈاکٹر حنا جمشید 
کسی زمانے میں جنگل میں خشک سالی کے سبب قحط پڑا، تو ہاتھیوں کے بدمست سردار نے خرگوشوں کی کچھار میں واقع واحد دستیاب ’’چاند چشمے ‘‘ سے سیراب ہونے کی چاہ میں ان کے گھر اپنے پیروں تلے روند ڈالے۔ تب اپنے مسمار گھروں کا بدلہ لینے کے لیے ایک عقل مند خرگوش نے اپنی دانائی سے ایسی چال چلی کہ خود سے کئی گنا طاقت ور حریف کو پسپا ہوکر سرنگوں ہونے اور معافی تلافی پر مجبور کرتے ہوئے یہ ثابت کر دکھایا کہ بسا اوقات طاقت کانشہ خود طاقت ور کے لیے کس طرح وبالِ جان بن جاتا ہے۔
’’کلیلہ و دِمنہ‘‘ کی حکایات ایسے ہی دلچسپ قصوں، حیرت انگیز کہانیوں اور دنگ کر دینے والے دانائی کے افکار سے پُر ہیں۔
یہ کتاب اولاً سنسکرتی زبان میں تھی، بعد میں اس کی شہرت کے باعث اسے دیگر زبانوں مثلاً تبتی، فارسی، عربی اور کئی زبانوں میں بھی نقل کیا جاتا رہا۔ چوں کہ اصل کتاب عربی زبان میں محفوظ رہی…… اس لیے اس کا عربی ترجمہ ہی سب سے اہم ہے۔ عبد اللّٰہ بن المقفع جو ابو جعفر منصور عباسی کا محرر، کاتب اور فارسی کا ماہر انشاپرداز تھا۔ اس نے اس کتاب کو عربی زبان کے قالب میں ڈھالا۔ وہ پہلوی اور یونانی زبان بھی جانتا تھا، تاہم عربی زبان میں کامل مہارت کے سبب یہ کام اس کے سپرد کیا گیا۔
عربی میں اس کتاب کی فصاحت، بلاغت اور اس کے سلیس و سہل ہونے کے سبب عربوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ رودکی جیسے کئی مشاہیر نے اس کتاب کے مشمولات کو اشعار کی شکل میں نظم کرنے کی بھی کوشش کی۔
یہ کتاب ’’سریانی‘‘، ’’یونانی‘‘، ’’فارسی‘‘، ’’عبرانی‘‘، ’’لاطینی‘‘، ’’اسبانی‘‘، ’’ملقی‘‘، ’’انگریزی‘‘، ’’روسی‘‘، ’’فرانسیسی‘‘ اور جرمن میں بھی ترجمہ ہوئی…… لیکن اس کی مرجع و اصل ابن المقفع کی ترجمہ شدہ یہ عربی کتاب ہی رہی۔
میری یہ کاوش (میری تدوین کردہ کتاب) اسی اصل عربی کتاب کا اُردو ترجمہ ہے…… جو اہلِ دانش کی بصیرت افروزی کی خاطر پیشِ خدمت ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔