تحریر: انور مسعود 
بیسویں صدی کے آغاز کے انقلابی ایرانی شاعر ’’محمد رضا عشقی‘‘ کی سرفروشانہ روح نے شعر کے پیرائے میں اپنے بارے میں یہ پیشین گوئی کی تھی کہ ’’مَیں وہ نہیں جو طبعی موت مر جاؤں اور اپنا یہ کاسہ بھر لہو بسترِ راحت پر ضایع کر دوں۔‘‘اُس نے للکار کر کہا تھا: ’’اے عروسِ مرگ! تو بوڑھوں کو کیوں پسند کرتی ہے ؟
بول…… میری جوانی میں تجھے کیا عیب دکھائی دیتا ہے ……؟ ‘‘
اس طرح قید خانے میں اس نے کہا: ’’یہ جیل میرے لیے انتظارِ مرگ کی چار دیواری ہے۔ خدا مجھے موت دے دے، تاکہ مَیں اس ملک سے بھی اور اس کے زِنداں سے بھی رہائی پا جاؤں۔‘‘
عشقیؔ نے 32 سال سے بھی کم عمر پائی۔ اس کی جوانی میں مرنے کی خواہش اور غیر طبعی موت کی پیشین گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ اس کے تند و تیز انقلابی لہجے کا جواب گولی کی آواز سے دیا گیا۔ حکومتِ وقت کے اشارے پر اُسے دن دہاڑے قتل کر دیا گیا۔ ایران میں اس وقت رضا شاہ کبیر کی آمرانہ حکومت کا دور تھا۔ ظالم، مظلوم کا ہم نام تھا۔ محمد رضا عشقیؔ کو محمد رضا شاہ نے مروایا۔
عشقیؔ کہتا ہے: ’’اگر میرے آب و گِل کا تجزیہ کیا جائے، تو ایک ذرہ بھی ایسا نظر نہیں آئے گا، جو عشق و جنون زدہ نہ ہو!‘‘
اس کا دعوا ہے : ’’مَیں عاشق ہوں اور میرا گواہ دل چاک چاک ہے۔ میرے ہاتھ میں اس پارہ پارہ سند کے سوا اور کچھ نہیں۔ اے میرے وطن! اے میرے عشق کے گہوارے! تو عشقی کا معشوق ہے، تو وہی ہے جس کے عشق کا ذکر میں صبح و شام کرتا ہوں!‘‘
اپنے خیالات اور جذبات کے اظہار کے لیے عشقیؔ نے ہمدان سے 1324ہجری میں نامۂ عشقیؔ شایع کیا۔ اس کے پانچ سال بعد اس نے رونامہ ’’قرن بیستم‘‘ شایع کیا۔ اس کے 17 شمارے نکلے تھے کہ حکومت نے اس کی اشاعت پر پابندی عاید کر دی۔ عشقیؔ کی زندگی کی طرح اس روزنامے کی زندگی بھی مختصر تھی۔ رضا خان اس زمانے میں عہدے کے اعتبار سے سپہ سالار تھا اور اقتدار کے اعتبار سے رضا شاہ، اکثر شعرا رضا خان کے سیاسی مسلک کے خلاف تھے۔ ان کی مخالفت بے جا نہیں تھی۔ اس میں کیا شک ہے کہ اس دور میں سب سے خطرناک حکم ران وہ ثابت ہوتا ہے، جو جمہوریت کا راگ الاپے اور آمرانہ ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔
’’قرن بیستم‘‘ کے آخری شمارے میں عشقیؔ نے رضا شاہ کی آمرانہ جمہوریت کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ اس شمارے کے پہلے صفحے پر اس نے ایک کارٹون شایع کیا۔ ایک آدمی گدھے پر سوار ہوکر شیرے سے بھرے ہوئے مٹکے کی جانب بڑھ کر اس کا ڈھکنا اُٹھا کر شیرہ نکال کر کھا رہا ہے ۔ نیچے لکھا تھا: ’’ایک شخص ( اس سے رضا شاہ مراد تھی) جمہوریت کے نام پر عوام کو بے وقوف بنا رہا ہے۔
اسی شمارے میں عشقیؔ نے جمہوری سوار کے عنوان سے طنز سے بھرپور نظم لکھی۔ اس قسم کی اور بھی کئی باتیں اس پرچے میں شایع ہوئیں۔ رضا شاہ نے اس گستاخی کا بڑی سختی سے نوٹس لیا۔ عشقیؔ کسی سے دبنے والا نہیں تھا، اس کا مسلک یہ تھا: ’’اے طاقت ور دشمن! تیرے بس میں جو کچھ ہے کرلے۔ کل میں طاقت ور ہوگیا، تو تیرے ساتھ اس سے بھی بڑا سلوک کروں گا۔‘‘
رضا شاہ نے بڑی تحقیر کے ساتھ کہا: ’’یہ بھوکے ننگے شاعر ہمارے منھ کو آتے ہیں!‘‘
دوسرے دن عشقیؔ نے رضا شاہ کو ان الفاظ میں خبردار کیا: ’’ہاں! مَیں بھوکا ہوں…… لیکن شیر کی طرح بھوکا ہوں…… ہاں! مَیں ننگا ہوں…… لیکن تلوار کی طرح ننگا ہوں۔‘‘
اس واقعے سے ایک رات پہلے اُس نے ملک الشعرا بہارؔ کو بتایا کہ اس نے ایک وہشت ناک خواب دیکھا ہے۔ اُس نے خواب میں دیکھا کہ مکان کی چھت اس پر آن گری ہے۔ اس رات وہ ایک بجے کے قریب بہارؔ سے مل کر آیا تھا۔
اگلی صبح رضا شاہ نے اس کی طرف دو آدمی بھیجے۔ انھوں نے اُس کے مکان کا دروازا کھٹکھٹایا۔ عشقیؔ نے دروازا کھولا۔ ایک آدمی نے اُسے ایک خط دیا اور دوسرے نے اُس پر گولیاں چلا دیں۔
قاتل بھاگا، تو گلی میں عشقیؔ کے ایک دوست نے اُسے پکڑلیا اور تھانے لے گیا۔ تھانے میں اُلٹا عشقی کے دوست کو دھر لیا گیا اور قاتل کو چھوڑ دیا گیا۔ اس اثنا میں عشقیؔ کو ہسپتال پہنچایا گیا۔ گولی بائیں طرف دل کے نیچے لگی تھی۔ زخم بڑا کاری تھا۔ اس کا بہت سا خون بہہ چکا تھا۔ اس زخم سے وہ جاں بر نہ ہوسکا۔ ظہر کے وقت اس نے انتقال کیا۔
ملک الشعرا بہارؔ ہسپتال میں اسے دیکھنے کے لیے پہنچے، تو وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا۔ بہار کا بیان ہے: ’’اس نے مجھے دیکھا، تو اسے کچھ چین آگیا۔ وہ آرام سے لیٹ گیا اور مسکرایا۔ اس کی یہ مسکراہٹ بڑی معنی خیز تھی۔ اس نے درست کہا تھا:
من آن نیم بی مرگ طبعی شوم ہلاک
دین کاسہ خون بہ بستر راحت ہدرکنم
’’مَیں وہ نہیں جو طبعی موت مر جاؤں اور اپنا یہ کاسہ بھر لہو بسترِ راحت پر ضایع کر دوں۔‘‘
(حوالہ: ادبیات،بین الاقوامی ادب شمارہ 6)
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔