تبصرہ: رومانیہ نور 
میرا میسنجر عموماً یوں ہی نظر انداز رہتا ہے…… جس طرح حکومت عوامی مسایل کو نظر انداز کرتی ہے۔ ایک بھلے سے دن کا ذکر ہے کہ مَیں فون میں موجود مختلف ایپس کے دورے کو نکلی۔ کیوں کہ غیر استعمال شدہ ایپس میموری پر ناقابلِ برداشت بوجھ ڈال رہی تھیں اور ان کے ڈیلیٹ کرنے کی تجاویز زیرِ غور تھیں۔ ایسے میں میسج ریکوئسٹ میں ایک ’’پیام‘‘ نے سر بلند کیا اور گویا ہوا: ’’کیا آپ اپنا ایڈریس انباکس کرنا پسند کریں گی، تاکہ آپ کو کتاب بھیجی جا سکے۔‘‘
واہ! اس اختصار کے صدقے! ورنہ تو اکثر لوگ حرفِ مدعا زبان تک لاتے لاتے پورا شجرۂ نسب اُگلوا لیتے ہیں اور ان کی اسی عادت کے باعث میں لوگوں کے قریب ہوتی ہوں نہ ان کی قربت پسند کرتی ہوں۔ پس ثابت ہوا کہ ’’شگفتہ شاہ‘‘ شگفتہ بھی ہیں اور ’’شایستہ‘‘ بھی۔ زہے نصیب…… کہ مجھ ناچیز کو انھوں نے اس قابل جانا۔
سرِ دست پتا روانہ کیا اور چند ایام بعد ہی ’’ینّی‘‘ میرے ہاتھوں میں تھی۔ خواب ناک ٹائٹل اور روم کی افسانوی سرزمین سے ابھرتی رومانوی داستان نے میرے شوقِ قرات کو مہمیز کیا۔ برسوں بعد کسی بھی ترجمہ شدہ کتاب کو مَیں نے ایسے اشتیاق و انہماک سے پڑھا کہ تین نشستوں میں ہی کتاب ختم کر ڈالی اور ہنوز کہانی، کہانی کار اور ترجمہ نگار کے حصار میں ہوں۔
مَیں کوئی تنقید نگار ہوں اور نہ یہ تنقیدی مضمون ہی ہے کہ مَیں کہانی کی ہیئت، بنت، اجزائے ترکیبی، موضوعات کے تنوع یا ترجمہ کے تکنیکی امور پر خامہ فرسائی کروں۔ مَیں تو بس ادنا سی قاری ہوں۔ پڑھتے سمے جن احساسات نے میری روح کو چھوا، انہیں تاثرات کو رقم کرنے کی جسارت کی ہے۔ سب سے پہلے تو یہ ترجمے کا اعجاز ہے کہ ایک پل کو بھی ارتکازِ توجہ متاثر نہیں ہوا۔
شگفتہ شاہ اُن معدودے چند اُردو ترجمہ نگاروں میں شامل ہیں…… جو بلا واسطہ اور براہِ راست اصل زبان سے ترجمہ کرتے ہیں۔ ورنہ تو ہماری سرکاری زبان کی طرح زیادہ تر تراجم بھی انگریزی کے رہینِ منت ہیں۔ خیر، ترجمہ انتہائی شان دار ، سلیس اور رواں ہے۔ زبان و بیاں بہت ادبی ہے…… اور نہایت معیاری محاورے و ترکیبات استعمال ہوئے ہیں۔ قرات میں کہیں زبان اٹکتی ہے، نہ خیال اور نہ ربط کا تانا بانا ہی ٹوٹتا ہے۔ تار سے تار جڑا ہے اور لفظ سے لفظ۔ کہیں گمان نہیں گزرتا کہ یہ ترجمہ ہے…… بلکہ یقینِ غالب ہونے لگتا ہے کہ یہ طبع زاد ناول ہے۔
جہاں تک کہانی کا تعلق ہے، تو وہ زمان و مکاں کی حدود سے ماورا ہے۔ وقت کی سوئیوں کا صدیوں کا سفر اور جغرافیے میں کھنچے خطوط پر مشرق و مغرب کا بُعد کہانی کو آج کے پس منظر سے جدا اور اجنبی نہیں کرسکا۔ کیوں کہ محبت ہمیشہ سے ہی سرشتِ آدم رہی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ہمارے آس پاس کی، اسی سماج کی، اسی دور کی کہانی ہے۔ وہی الجھنیں، وہی کشمکش، وہی خواب، وہی حسرتیں، وہی قدریں، وہی قاعدے، وہی سماجی رویے، وہی جغرافیائی حالات۔
مرکزی کردار ’’ینّی‘‘ میں مجھے مختلف افسانوی کرداروں کی جھلک نظر آئی۔ "Moral Dilemma” میں مجھے جارج ایلیٹ کی ’’میگی‘‘ کا عکس لگی، زندگی کی الم ناکیوں اور ناانصافیوں کو سہتے ہوئے تھامس ہارڈی کی ’’ٹیس‘‘ کی شبیہ نظر آئی…… مگر ٹیس کی خانماں بربادی میں تقدیر کے عوامل کار فرما تھے…… اور ’’ینّی‘‘ کا انجام اس کے اپنے فیصلوں کا ثمر…… وہ جو کہتی تھی: ’’زندگی میں جو انتہائی ناگوار دشواریاں آپ کو پیش آتی ہیں، وہ در اصل خود آپ کی اپنی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔‘‘
سو اس نے اول تا آخر اپنے قول کو خوب نبھایا اور ہینرک ابسن کی ’’نورا‘‘ کی طرح جو ٹھان لیا، اس پر ڈٹ گئی۔
352 صفحات پر مشتمل انتہائی مناسب ضخامت کی کتاب صفحۂ اول سے آپ کو گرفت میں لیتی ہے…… اور صفحۂ آخر تک وہی دلچسپی آپ کے ہم راہ رہتی ہے…… اور آپ بھی کرداروں کے خوابوں کی بھول بھلیوں میں مسلسل محوِ گردش رہتے ہیں۔ منظر کشی ایسی کہ مانو سامنے کینوس پر تصویر پینٹ کر دی گئی ہے۔ کرشن چندر کی مہارت یاد آ جاتی ہے۔
کہانی گنجلک ہے نہ دقیق، فلسفے بگھارتی ہے…… نہ بھاشن جھاڑتی ہے۔ یہ محبت میں بقا سے فنا کی کہانی ہے۔ روح کو سرور اور دل کو درد سے معمور کرتی ہے۔
مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق یہ پیرا ملاحظہ ہو: ’’گنار گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اس نے جیب سے گتے کی ایک چھوٹی سی ڈبیا نکال کر کھولی۔ اس میں ینّی کی کرسٹل کی گلابی مالا کا ایک موتی پڑا تھا…… جس وقت وہ اس کا سامان اکٹھا کر رہا تھا، تو اس کے پلنگ کے پاس والی چھوٹی میز کی دراز میں پڑی اس کی مالا دیکھی؛ جس کی ڈوری ٹوٹ چکی تھی۔ اس نے ایک موتی اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیا۔ اب اس نے قبر کی تھوڑی سی بھوری مٹی اٹھا کر ڈبیا میں ڈالی۔ موتی مٹی سے ڈھک گیا، مگر اس کا گلابی رنگ واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا اور سورج کی شعاعیں کرسٹل سے منعکس ہو رہی تھیں۔‘‘
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔