ملتان کی پانچ ہزار سالہ ادبی، ثقافتی، سماجی اور مذہبی تاریخ کو محفوظ کرنے کے لیے ’’پانچویں ریشم دلان ملتان کانفرنس‘‘ 3 ستمبر کو ملتان ٹی ہاؤس میں منعقد ہورہی ہے، جس میں ملک بھر میں موجود، ملتان سے تعلق رکھنے والے نام ور اہلِ قلم شرکت کریں گے۔
سرزمینِ اولیا کو باری تعالا نے بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ یہاں کے مکینوں کو بھی فنی، تحقیقی اور تخلیقی صلا حیتوں سے نوازا ہے۔ قدرت نے اہلِ ملتان کو شیریں لب و لہجے سے بھی نوازا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے دوست معروف شاعر و ادبی شخصیت عامر شہزاد صدیقی نے ملتان کے مکینوں کو ’’ ریشم دلان ملتان ‘‘ کا خطاب دے رکھا ہے۔ ملتان کے لوگ جہاں سرائیکی زبان، آم اور کھجور کی طرح میٹھے و ریشم دل ہیں، وہاں ملتان کا آرٹ، کلچر اور شعر و ادب کے حوالے سے ایک بلند مقام ہے۔ ملتان کو ملکی تاریخ، معیشت، سیاست اور ثقافت میں بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ جنوبی پنجاب اور اس کے صدر مقام ملتان سے تعلق رکھنے والے شاعروں، ادیبوں سمیت اہل علم و فن نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔
تخلیق کار فن کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو، اسے اپنے قبیلۂ کشتگاں سے وابستگی اور رابطے کی ضرورت رہتی ہے، جہاں نئی تخلیقات پر بحث ہوتی ہے۔ ادب اور معاشرے کے تعلق پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ شعور، محبت، اقدار اور عصری تقاضوں پر گفتگو کی جاتی ہے…… اور صحت مند معاشرے میں ادب کے فروغ کی بحث جاری رہنی چاہیے۔ مذاکرے کی فضا قایم ہونے سے حالات بہتری کی جانب گام زن ہوتے ہیں۔
اہلِ علم و فن میں رابطے کی ضرورت کے پیشِ نظرسال 2016ء میں ’’ملتان ٹی ہاؤس‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ جہاں شعرا، ادبا، دانش وروں اور لکھاریوں کو مکالمے کے لیے بہترین جگہ میسر آئی۔ ملتان ٹی ہاؤس چار کنال کے رقبے پر تعمیر ہے، جس کا تمام فرنیچر انتہائی دیدہ زیب اور ایش وڈ سے بناہواہے…… جب کہ اس فرنیچر پر جو آرٹیسٹک کام کیا گیاہے، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایک سو ساٹھ کرسیوں پر مشتمل شاندار ہال میں دیواروں پر ادیبوں، شاعروں، صداکاروں ، ڈراما نویسوں، کہانی کاروں، محققین، مصوروں اور نقادوں کے ساتھ ساتھ علم دوست اور ادب دوست شخصیات کی آویزاں تصویریں اور ملتان کے مشاہیر کے قلمی اسکیچ اور پورٹریٹ اسے چار چاند لگاتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ تقریبات کے لیے بالائی منزل پر علاحدہ خوب صورت ہال ہے۔
بلاشبہ پورے جنوبی پنجاب کے ادیبوں اور شاعروں کو اس سے بہتر کوئی ایسی جگہ میسر نہیں آسکتی۔
آج ملتان ٹی ہاؤس روشنی پھیلانے اور محبت کادرس دینے والوں کاٹھکانا ثابت ہو رہا ہے…… بلکہ یہاں کتابوں کی تقریبات اور ادبی محافل منعقد ہوتی ہیں، جس سے فنونِ لطیفہ کی ترقی کا سفر جاری ہے۔
ملتان ٹی ہاؤس کے منیجر ارشد بخاری اپنے عمدہ اخلاق اور شیریں مزاج کی بدولت ٹی ہاؤس کے ممبروں میں محبتیں بانٹتے ہیں۔ علم و ادب سے چاہ رکھنے والے اور عام لوگ بھی یہاں بیٹھ کر چائے کا دور چلا رہے ہوتے ہیں۔
ملتان ٹی ہاؤس کے پلیٹ فارم سے نوجوانوں کو شعرا و ادبا کی رفاقت نصیب ہو رہی ہے جس سے یقینا صحت مندانہ معاشرے کی بنیاد پڑے گی۔
ملتان ٹی ہاؤس زاہد سلیم گوندل نے اس وقت تعمیر کروایا تھا، جب وہ ملتان میں ڈی سی ہوا کرتے تھے۔ ملتان کے لوگ خوش قسمت ہیں کہ انھیں ایک ایسا منتظم میسر آیا ہے…… جو حرف کی حرمت سے بھی پوری طرح واقف ہونے کے ساتھ خود اہلِ قلم اور اپنے دل میں ادیبوں اور شاعروں کا درد بھی رکھتے تھے۔
ملتان ٹی ہاؤس سے متعلق معروف شاعر اسلم انصاری کہتے ہیں: ’’جب تک اس شہر کے سینے پر ملتان ٹی ہاؤس کا تمغا سجا رہے گا، ریشم دلان ملتان کے دل میں زاہد سلیم گوندل کی محبت موج زن رہے گی۔ یہ خطہ ان کا یہ احسان کبھی چکا نہیں پائے گا۔‘‘
زاہد سلیم گوندل ایک اچھے آفیسر، محنتی انسان اورادب سے محبت کرنے والی شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی محنت سے قایم ملتان ٹی ہاؤس ادبی حوالے سے پورے ملک میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے…… اور ادب کی ترویج میں اہم ترین کردار ادا کرہا ہے۔
ملتان ٹی ہاؤس کے زیرِاہتمام پانچویں ریشم دلان کانفرنس 3 ستمبر 2022ء سے ملتان میں منعقد ہوگی۔ رواں برس ریشم دلان ملتان کانفرنس کی صدارت چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر یوسف خٹک کریں گے……جب کہ میزبان انجینئر عامر خٹک ہوں گے۔
3 ستمبر 2022ء کو پانچویں ریشم دلان ملتان کانفرنس کے موقع پر کمشنر ملتان ڈویژن عامر خٹک کی مرتب کردہ کتاب ’’مقالاتِ ملتان نمبر 5‘‘ جوکہ دوسو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں ملتان کی تاریخ، تہذیب، ثقافت، سماجی حیثیت اورسیاسی صورتِ حال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مذکورہ کتا ب میں ملتان کے معروف ادبا اور شعرائے کرام ڈاکٹر اسلم انصاری، ڈاکٹر اسد اریب، ڈاکٹر حنیف چوہدری، معمارِ ملتان ٹی ہاؤس زاہد سلیم گوندل، سابق ڈپٹی کمشنر ملتان عامر کریم خان، پروفیسر حفیظ الرحمان، ڈاکٹر مختار ظفر، پروفیسر اصغر ندیم سید، ڈاکٹر غضنفر مہدی، ڈاکٹر محمد امین، خالد مسعود خان، رضی الدین رضی، روف کلاسرا، سجاد جہانیہ، مختار پارس، عامر ہاشم خاکوانی، قمر رضا شہزاد اور شاکر حسین شاکر کے مضامین شامل ہیں۔
قارئین! یہ کتاب کانفرنس کے تمام شرکا کو بطورِ تحفہ پیش کی جائے گی۔ ہم دعا گو ہیں کہ ملتان ٹی ہاؤس میں ایسی پُروقار تقریبات کا انعقاد ہوتا رہے…… اور کلچر اور شعر و ادب کا گہوارہ اسی طرح علم کی روشنی اور محبتیں بکھیرتا رہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔