مترجم: اسد الاسلام
اچھا مترجم اصل اور مطلوبہ دونوں زبانوں کا ماہر تو ہوتا ہی ہے، مگر ساتھ ہی اسے کچھ دوسرے میدانوں میں مہارت کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔ ان میں سرِفہرست ابلاغ اور فنِ تحریر کی مہارتیں ہیں۔ معروف صنعتوں کے مخصوص اندازِ بیاں کا ادراک بھی اہمیت میں کسی طور کم نہیں۔ نیز ایک اچھا مترجم وقت کی منصوبہ بندی میں بھی طاق ہوتا ہے۔
تراجم کی دنیا بے حد وسیع ہے۔ اس پیشے سے منسلک ہزاروں افراد دنیا بھر میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ایسی صورت میں اچھی شہرت کا حامل مترجم کیسے بنا جا سکتا ہے؟ ذیل میں کچھ ایسے گُر بیان کیے گئے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر آپ ترجمہ کرنے کی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ کرسکتے ہیں۔
٭ اپنی مادری (اصل) زبان کا خوب مطالعہ کریں:۔ تراجم عام طور پر کسی ثانوی سے مترجم کی مادری یا روزمرہ زبان کی جانب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایسے ترجمہ نگار جن کی روزمرہ زبان اُردو ہے، یقینا کسی ثانوی زبان کی تحریر کو اُردو قالب میں ڈھالنے کی پیشہ وارانہ صلاحیت کے حامل ہوں گے۔ چناں چہ مترجم کے لیے ضروری ہے کہ وہ مادری زبان کے فنِ تحریر میں خاصی استعداد رکھتا ہو…… اور لکھنے کی استعداد بڑھانے کے سوا اس کے کوئی طریقہ نہیں کہ اپنی زبان کے مطالعہ کو وسیع تر کیا جائے۔ جس قدر وسیع مترجم کا مطالعہ ہوگا، ترجمہ شدہ تحریر اسی قدر پختہ ہو گی۔ مطالعہ کی عادت نہ صرف ذخیرۂ الفاظ میں بے انتہا اضافہ کرتی ہے بلکہ لکھاری ہونے کے ناتے آپ اس عادت سے تحریک بھی حاصل کرتے ہیں۔ پڑھنے کی عادت ہی کی بدولت لکھنے کے نت نئے طریقوں سے شناسائی ممکن ہے، اور اسی سے آپ خیالات کی غیرمانوس وادیوں کی سیر کر سکتے ہیں۔ چناں چہ کوشش کریں کہ مادری زبان میں دستیاب ہر قسم کا لٹریچر آپ کے زیرِ مطالعہ ہو۔ اچھی شہرت رکھنے والے تمام مصنفین کی تحریروں کا مطالعہ کریں۔ میگزین اور اخبارات و جراید بھی پڑھیں۔ کیوں کہ مطالعہ کے اسی تنوع سے آپ اندازِ بیان کی رنگا رنگی سے مانوس ہو پائیں گے۔ چاہے ترجمہ کی متنوع اور گوناگوں صنعت میں آپ کا مضمون مختصر ہی کیوں نہ ہو، انٹرنیٹ پر دستیاب مواد بھی آج کل کسی زبان کے لٹریچر کا لازمی جزو سمجھا جانے لگا ہے۔
٭ ثانوی (مطلوبہ) زبان کا مطالعہ بھی کریں:۔ ثانوی زبان (جس کا ترجمہ مطلوب ہو) کا وسیع تر مطالعہ بھی از حد ضروری ہے۔ مطالعہ ہی سے لسانی احساس کی پختگی حاصل ہوتی ہے۔ اور بنا اس کے آپ اہلِ زبان کے زیرِ استعمال روزمرہ کے محاوروں کا فہم کسی صورت حاصل نہیں کر پائیں گے۔ چناں چہ ثانوی زبان کا مطالعہ جس قدر وسیع ہوگا، ترجمہ شدہ تحریر بھی لغوی اعتبار سے اسی قدر اصل کے قریب تر ہو گی۔ ثانوی زبان میں متنوع مطالعہ کی عادت سے آپ کے ذہن میں اس بات کا ٹھیک ٹھیک ادراک پیدا ہوتا ہے کہ اہلِ زبان کیوں کر معلومات کا تبادلہ کر پاتے اور مختلف صورتِ حال میں خیالات کے اظہار کے لیے الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں۔ مطالعہ کو محض اپنے مختصر موضوع کی کتب تک محدود رکھ کر آپ یہ فہم حاصل نہیں کرسکتے۔
٭ تراجم کا موازنہ کریں:۔ ترجمہ شدہ مواد کا مطالعہ بھی ناگزیر ہے۔ دوسرے مترجمین کا کام دیکھنے سے آپ کی لسانی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ تراجم کا بھرپور مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ ایک زبان کے الفاظ کی ترجمانی کس طرح دوسری زبان میں کی جا سکتی ہے۔ اسے نقالی نہیں بلکہ دوسرے ترجمہ نگاروں سے رہنمائی اور پوشیدہ لغوی پہلوؤں کا ادراک حاصل کرنا کہیں گے۔ تراجم کا موازنہ یوں کریں کہ ترجمہ شدہ کتاب یا مضمون کا اصل زبان میں بھی مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ دوسرے ترجمہ نگار لفظوں، محاوروں اور فقروں کی ترجمانی کیسے کرتے ہیں۔ مترجم کے انتخاب کا خاص طور پر مطالعہ کریں اور دریافت کرنے کی کوشش کریں کہ فاضل مترجم نے کتاب یا مضمون کے کسی حصے پر کیوں خاصا زور دیا ہے جب کہ کسی حصے کو ترجمہ میں سرے سے شامل ہی نہیں کیا۔ یاد رکھیں کہ ہر ترجمہ نگار کا اپنا خاص طریقِ کار ہوتا ہے۔ فاضل مترجم بھی بعض اوقات ایسا ترجمہ کر دیتے ہیں جو غلط اور غیر ادبی تو ہوتا ہے…… مگر اصل کے مدعا کو بطریقِ احسن بیان کر رہا ہوتا ہے۔ آپ تراجم کے موازنہ سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
٭ خوب سفر کریں:۔ سفر کرنے سے اجنبی تہذیبوں کا عمیق مطالعہ کرنے کے مواقع فراہم ہوتے ہیں اور ان کے متعلق آپ کا تاثر وسعت اختیار کر جاتا ہے۔ سفر آپ کو زندگی میں متوقع کئی قسم کی صورتِ احوال سے نبٹنے کی بھی تربیت فراہم کرتا ہے۔ آپ ہر قسم کے افراد سے ملتے اور مختلف انسانی رویوں کو قریب سے دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ چناں چہ جب بھی آپ سے کہا جائے کہ اپنی تحریر کو کسی خاص طبقے یا علاقے کے قارئین کے ذوق کے مطابق ڈھالیں، تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ سفر کریں اور قارئین کے ساتھ ربط بڑھائیں۔ مزید برآں سفر آپ کی لسانی قابلیت میں بھی ازحد اضافے کا باعث بنتا ہے۔ معاشرے تہذیب و تمدن کے لحاظ سے جس قدر ایک دوسرے سے اجنبی ہوں۔ ابلاغِ عامہ کے اصول بھی ان کے یہاں اسی قدر مختلف ہوتے ہیں۔ نت نئے لسانی گروہوں سے میل آپ کو ابلاغ کے نئے نئے طریقوں سے روشناس کراتا اور آپ کی وسعتِ نظر میں اضافے کا سبب بنتا ہے ۔
٭ اپنے کلائنٹ کی بات سنیں:۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ترجمہ نگار کے طور پر آپ کی شہرت اچھی ہو، تو سننے کی صلاحیت میں بھرپور اضافہ کریں۔ یوں آپ کلائنٹ کے مدعا کو بہتر طور پر سمجھنے اور مطلوبہ نتایج برآمد کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ یاد رکھیں ترجمہ کی خدمات حاصل کرنے والا آپ کا کلائنٹ ہمیشہ اصلی قاری نہیں ہوتا۔ چناں چہ ضروری ہے کہ تحمل سے سننے کی عادت مزاج کا حصہ ہو، تاکہ آپ کے قلم سے نکلی تحریر نہ صرف کلائنٹ کے مدعا کو مدِ نظر رکھے بلکہ اصلی قاری کے لیے بھی حقیقتاً مفید ثابت ہو۔
٭ اپنے کیے گذشتہ تراجم کی یادداشت محفوظ رکھیں:۔ زمانہ تیز رفتار ہو چکا ہے۔ ترجمہ نگاری میں مددگار دورِ حاضر کے جدید آلات کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ ترجمہ آج کل یہ نہیں کہ دو چار لغات پکڑیں، اپنا علم شاملِ حال کیا اور ترجمہ تخلیق کر دیا۔ جدید ٹیکنالوجی نے ترجمہ کرنے کی استعداد میں بے حد اضافہ کر دیا ہے۔ اور اسی کی بدولت ممکن ہوا ہے کہ یادداشتوں اور گذشتہ منصوبوں کو غیر معینہ مدت تک محفوظ رکھا جا سکے۔ چناں چہ اپنے گذشتہ تراجم کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے محفوظ رکھ کر ذخیرۂ علم میں اضافہ کریں…… اور ترجمہ کے عمل میں مددگار جدید آلات سے بھرپور استفادہ کریں۔ تاکہ آپ کی رفتار تیز تر ہو جائے…… اور لاگت میں بھی حتی الامکان کمی واقع ہو۔
٭ تراجم کے حوالے سے منعقد ہونے والی تقاریب میں شرکت کریں:۔ ہم خیال اور ہم پیشہ افراد سے تعلق بنانا ہر شعبہ میں خاصا اہم ہے…… لیکن اگر آپ ترجمہ نگار ہیں، تو قوی امکان اس بات کا ہوگا کہ آپ گوشہ گیر رہ کر کام کرنے کے عادی ہیں۔ تاہم تراجم کے حوالے سے ہونے والی کانفرنسیں اور دوسری متعلقہ تقاریب آپ کے ہم پیشہ افراد کی بہترین آماج گاہ ہوسکتی ہیں۔ یہاں آپ کو ترجمہ نگاری میں استعمال ہونے والے جدید ترین آلات سے لے کر مارکیٹنگ کے اصولوں سے آگاہی تک بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا…… اور یہیں آپ کی ملاقات ممکنہ نئے کلائنٹس سے ہونے کا بھی قوی امکان رہتا ہے۔ تراجم کے حوالے سے ہونے والی کانفرنسوں میں شرکت سے آپ کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں نہ صرف اضافہ ہوگا…… بلکہ آپ اپنی کوتاہیوں کے بارے میں بھی جان پائیں گے۔ چناں چہ ایسی جگہوں پر خوب خوب شرکت کریں…… جہاں آپ کو اپنے ہم خیال افراد سے ملتے رہنے کی امید ہو۔ یوں آپ تفریح کے ساتھ ساتھ تعلیم کے بھی بے شمار مواقع سے ہم کنار ہو ں گے۔
٭ جدید ترین ٹیکنالوجی سے واقفیت یقینی بنائیں:۔ جدید ٹیکنالوجی نے لسانیات کی کایا پلٹ کر رکھ دی ہے…… اور یہ کایا پلٹ عالم گیر ہے۔ آپ اگر ترجمہ نگاری کے شعبہ میں مستعمل جدید ترین ٹیکنالوجی کے علم سے بہرہ ور نہیں ہیں، تو یاد رکھیں آپ کسی صورت مارکیٹ کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے…… اور آپ کے حریف آپ کو بہت پیچھے چھوڑ جائیں گے۔ کیوں کہ موجودہ دور کی سبک روی تقاضا کرتی ہے کہ تیز ترین کارگزاری آپ کی صلاحیت کا خاصا ہو۔ چناں چہ انٹرنیٹ کا بھرپور استعمال سیکھیں۔ متعلقہ نئی نئی ویب سائٹوں کو سبسکرائب کریں۔ نئے آنے والے سافٹ ویئر آزمائیں۔ ہمہ وقت آگاہ رہیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ۔
٭ کسرت کی عادت اپنائیں:۔ ورزش کرنے کی عادت تخلیقی صلاحیت میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ کیوں کہ ورزش نہ صرف جسمانی قوت بڑھاتی ہے…… بلکہ یہ دماغی پٹھوں کو بھی مضبوط بنا دیتی ہے۔ یوں دماغ زیادہ دباو برداشت کرنے کے قابل ہو جاتا ہے اور نتیجتاً آپ کے لیے بھی کام پر توجہ مرکوز رکھنا قدرے آسان رہتا ہے۔ سو لازم ہے کہ ہفتہ بھر کی بے انتہا مصروفیت سے کچھ وقت نکالیں اور کسرت کریں۔ تاکہ نہ صرف آپ دوسروں سے ممتاز مترجم بن جائیں…… بلکہ آپ کی جسمانی صحت بھی قابلِ رشک ہو۔
٭ ضرورت پڑنے پر ماہرین سے رہنمائی حاصل کرنے سے ہرگز گریز نہ کریں:۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ ترجمہ نگاری انفرادی کام ہے…… یعنی ایک ترجمہ نگار کو کسی دوسرے ترجمہ نگار کی ہم راہی درکار نہیں ہوتی…… مگر کئی بار دیکھنے میں آیا ہے کہ اس شعبہ میں بھی ٹیم کے طور پر کام کرنے سے کہیں بہتر نتایج برآمد کیے جا سکتے ہیں۔ چناں چہ ماہرین کی رائے ہمیشہ کارآمد رہتی ہے۔ دورانِ ترجمہ اگر آپ کسی مقام پر الجھ گئے اور آگے بڑھنے سے قاصر ہیں اور مقررہ وقت بھی سر پر ہے، تو ہرگز ہرگز دیر نہ کریں اور بلا جھجک ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں…… اور اگر یہ اقدام بھی ناکافی ہو، تو اپنے ترجمہ کے پراجیکٹ میں کسی اور ترجمہ نگار کی خدمات حاصل کرنے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔
(نوٹ:۔ یہ تحریر انگریزی سے ترجمہ شدہ ہے)
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔