تبصرہ: شکیل رشید
بہت پہلے ایک ڈینش (ڈنمارک کے) ناول نگار ’’پیٹر ہویگ‘‘(Peter Heg) کے ایک ڈینش زبان کے ناول کا انگریزی ترجمہ "Miss Smilla’s Feeling for Snow” پڑھا تھا، اور کچھ اس قدر متاثر ہوا تھا کہ اس کا ایک اور ناول "Borderliners” کہیں نظر آیا، تو اسے خرید لیا۔ دو دفعہ اُسے پڑھنے کی کوشش کی…… لیکن دونوں ہی دفعہ چند صفحات سے آگے نہیں پڑھ سکا۔ کیوں……؟ شاید اس لیے کہ اُن دنوں میرا ذہن اُس ناول کے بیانیہ کو اپنی گرفت میں نہیں لے پا رہا تھا، مگر تیسری دفعہ جب اُسے پڑھنا شروع کیا، تو پڑھتا چلا گیا۔ آج اسی ناول کا ایک مختصر سا تعارف پیشِ خدمت ہے…… لیکن تعارف سے پہلے میں یہ بتانا چاہوں گا کہ ’ ’مس سمیلا‘‘ والے ناول نے مجھے کیوں متاثر کیا تھا؟
یہ کہانی 37 سالہ سمیلا جیسپرسن کی اپنے ننھے پڑوسی کی، جسے اس نے دوست بنا لیا تھا، موت کی تفتیش کی ہے۔ وہ ایک عمارت کی چھت سے شاید برف کی وجہ سے پھسل کر فوت ہوگیا ہے۔ جب یہ ننھا بچہ کوپن ہیگن میں اپنے اپارٹمنٹ کی عمارت کی چھت سے گرتا ہے، تو برف میں اس کے قدموں کے نشانات میں کوئی ایسی بات ہوتی ہے جس کے سبب سمیلا اسے حادثاتی موت ماننے سے انکار کر دیتی ہے…… جب کہ پولیس اسے حادثاتی موت قرار دیتی ہے۔ تفتیش سمیلا کو اپنی والدہ کے آبائی وطن گرین لینڈ لے جاتی ہے۔
ناول بظاہر تو ایک مشتبہ موت کی تفتیش پر مبنی ہے…… اور تیز رفتار "Thriller” سا لگتا ہے…… لیکن اس کے باطن میں وہ ’’تھیم‘‘ ہیں…… جن پر یوروپ اور مغرب میں کم بات کی جاتی ہے۔ ’’ نگہداشت ، شفقت اور محبت سے محروم بچے ‘‘، ’’ بلا روک ٹوک کے سائنسی تجربات ‘‘ اور ’’ ٹیکنالوجی کے اثرات۔‘‘
ناول ڈنمارک کے تہذیبی مسایل بالخصوص تاریخِ مابعدنوآبادیات کے اور سماج و فرد کے رشتے میں پیدا ہونے والی دراڑوں پر روشنی ڈالتا اور سماج کے اعلا طبقات بشمول سیاست دانوں کے ہر نوع کے کرپشن کو اُجاگر کرتا ہے۔ اس ناول کا مطالعہ اس وجہ سے بھی دلچسپ ہے کہ اس میں ’’برف‘‘ کی مختلف اقسام اور ان کے اثرات پر بات کی گئی ہے۔ صرف "Ice” اور "Snow” کا فرق ہی نہیں بتایا گیا…… مزید اقسام بھی سامنے لائے گئے ہیں۔ اس میں فزکس بھی ہے، کیمسٹری بھی اور میتھی میٹکس بھی اور فلسفہ و اسطور بھی۔
یہ ناول مَیں نے رُک رُک کر پڑھا تھا…… اور پڑھنے کا لطف لیا تھا۔ یہ ناول "Heg” کا انگریزی میں ترجمہ ہونے والا پہلا ناول تھا…… اور ساری دنیا میں پسند کیا گیا تھا۔ ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ نے اس ناول کو ’’اشاعت کی دنیا میں ایک تہلکہ‘‘ قرار دیا تھا۔ اس پر 1997ء میں ایک فیچر فلم بھی بنائی گئی تھی…… جس میں برطانوی اداکارہ ’’جولیا اورمنڈ‘‘ نے سمیلا کا کردار ادا کیا تھا۔ مَیں نے وہ فلم دیکھی ہے، لیکن اُسے ناول کی طرح پسند نہیں کر سکا۔
مجھے یہاں بات "Heg” کے دوسرے ناول "Borderliners” کی کرنی ہے…… جسے چند روز قبل پڑھ کر ختم کیا ہے۔ اس ناول میں بھی تھیم وہی ہیں…… ’’نگہداشت، شفقت اور محبت سے محروم بچے‘‘، ’’ بلا روک ٹوک کے سائنسی تجربات ‘‘ اور ’’ ٹیکنالوجی کے اثرات ‘‘…… لیکن یہ ناول پہلے ناول سے قطعی مختلف ہے۔
ہیوگ کے ہر ناول کے بارے میں کہا یہی جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے اتنے مختلف ہیں جس قدر کہ نارتھ پول اور ساؤتھ پول۔
اس ناول کے تین بنیادی کردار ہیں: ’’پیٹر‘‘ ، ’’آگسٹ‘‘ اور ’’کاٹرینا۔‘‘ 14 سالہ پیٹر پیدایشی یتیم ہے۔ وہ بال گھروں اور اصلاح گھروں سے ہوتا ہوا۔ جب ایک معیاری پرائیوٹ اسکول میں پہنچتا ہے، تو اسے وہاں ایک خوب صورت سولہ سالہ متوسط طبقہ کی لڑکی ’’کاٹرینا‘‘ ملتی ہے۔ وہیں اس کی زندگی میں ایک مدقوق بچہ ’’آگسٹ‘‘ آتا ہے۔ یہ تینوں ستائے ہوئے ہیں۔ پیٹر اس لیے کہ وہ یتیم ہے اورشیر خوار بچوں کے مرکز اور مختلف اصلاح مراکز سے گزر کر آیا ہے۔ ’’کاٹرینا‘‘ اس لیے کہ اس نے اپنی والدہ کی موت کے بعد اپنے باپ کو خودکشی کرتے دیکھا ہے اور اس کا اثراپنے دل و دماغ پر لیا ہے۔ اس طرح ’’آگسٹ‘‘ اس لیے کہ وہ مریض ہے…… اور اپنی ماں اور اپنے باپ کو ان کی سخت گیری کی وجہ سے گولی مار کر قتل کر چکا ہے۔
سوال ہے کہ یہ بچے جو اخلاق، ذہن، صلاحیت اور ماحول و تربیت کے اعتبار سے "Borderliners”ہیں، حاشیے پر ہیں، اعلا معیار کے پرائیوٹ اسکول میں کیوں قبول کیے گئے یا لائے گے ہیں؟ ویسے مقصد یہ بتانا یا ثابت کرنا ہے کہ ’ ’برباد بچوں‘‘ کو بھی اچھے شہریوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
یہ سوال ان تینوں بچوں کو پریشان بھی کرتا ہے کہ وہ کیوں ایک اعلا معیاری اسکول میں لائے گئے ہیں اور انہیں ’’تفتیش‘‘ کی طرف مایل بھی کرتا ہے اور جب پتا چلتا ہے کہ اچھے بچوں کے ساتھ رکھ کر وہ ایک قسم کے تجربے سے گزارے جا رہے ہیں، تو وہ اس کی مخالفت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ پھر ہمارے سامنے انتہائی خوف زدہ بچوں کی ایک تاریک دل دہلا دینے والی کہانی آتی ہے۔ یہ بچے بالغوں کے جابرانہ اور ظالمانہ اختیارات کے خلاف بے بس ہیں۔ جس تعلیمی ادارے "Biehl’s Academy” میں یہ بچے زیرِ تعلیم ہیں، وہ لوگوں کو باہر سے روشن خیال نظر آتاہے…… لیکن یہ اکیڈمی ان بچوں کو مرکزی دھارے میں لانے اور کنٹرول کرنے کے لیے آمرانہ طریقے اپناتی ہے۔ یہ تمام انسانی رشتوں کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ اس اسکول کے ذمے داران کا بنیادی خیال ہے کہ تمام اوصاف ناپے جا سکتے ہیں۔ طلبہ کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھنے اور ان کی درجہ بندی کرنے کے لیے ماہرینِ نفسیات کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور ان کی ذہانت کے ٹیسٹوں پر انحصار کیا جاتا ہے۔ اس طرح ان بچوں کے درمیان جو آزادانہ بندھن اور تعلقات ہوتے ہیں…… وہ دانستہ تباہ کر دیے جاتے ہیں۔
راوی پیٹر اسے "Social Darwinism” کہتا ہے۔ اس کا مطلب آسان لفظوں میں ’’ سب سے بہترین یا سب سے طاقت ور کی بقا‘‘ پر یقین ہے۔ یہ تصور کہ کچھ لوگ معاشرے میں سب سے زیادہ بااثر اور طاقت ور اس وجہ سے بن جاتے ہیں کہ وہ فطری طور پر دوسروں سے بہتر ہوتے ہیں۔
"Social Darwinism” کو پچھلی ڈیڑھ صدی کے دوران میں مختلف اوقات میں سامراجیت، نسل پرستی، یوجینکس (علمِ اصلاحِ نوعِ انسانی) اور سماجی عدم مساوات کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اسے آپ ’’سماجی جبر‘‘ کَہ لیں۔
ناول میں یہ تھیم اس خوب صورتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا آسانی اور دلچسپی…… لیکن ایک ’’شاک انگیز کیفیت‘‘ کے ساتھ پڑھتا چلا جاتا ہے۔
ناول کا ایک تھیم ’’سوشل کنٹرول‘‘ بھی ہے۔ بچوں اور ان کے اہلِ خانہ کو آنکنا بھی ہے اور ’’وقت‘‘ بھی۔ اس ناول کا آغاز ہی اس جملہ سے ہوتا ہے:’’وقت کیا ہے ؟‘‘
عام طور پر قارئین اور ناقدین نے ناول میں ’ ’فلسفۂ وقت‘ ‘ پر بحث کو غیر ضروری قرار دیا ہے…… لیکن ناول کا راوی تو ’’وقت ہی کا مارا ہوا ہے۔‘‘ یہ ’ ’وقت‘‘ ہی ہے، کبھی سخت ڈسپلن کی شکل میں تو کبھی ’’پابندی‘‘ کی شکل میں، جس کے ذریعے اسے بھی آگسٹ کو بھی اور کاٹرینا کو بھی کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ان میں باقاعدگی پیدا کی جاتی ہے…… اور ان کی سوچ پر پہرا لگایا جاتا ہے۔ اور اس ’’وقت‘‘ کی جو جھریاں ہیں…… وہ ان بچوں کو موقع دیتی ہیں کہ وہ کچھ سوچ سکیں، کچھ تصور میں لاسکیں یا تعلقات بناسکیں۔ لہٰذا ’’وقت‘‘ ناول کا بہت اہم موضوع بن جاتا ہے۔
یہ ضرور ہے کہ ناول میں "Linear Time” اور "Circular Time” پر جو بحث کی گئی ہے…… وہ ناول پڑھنے کی رفتار کو سست کرتی ہے۔
دو سطروں میں اس ناول کے بارے میں اگر کہا جائے، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس ناول میں محبت کی تڑپ بھی ہے۔ آزادی کی چاہ بھی ہے، وقت اور خلا کا فلسفہ بھی اور برباد بچوں کے تاریک، غم زدہ دلوں کی آہ بھی ہے۔ یہ ناول اس تعلیمی نظام پر جو ڈسپلن، ذہانت، صلاحیت اور پابندیِ وقت کو ہی سب کچھ سمجھتے ہیں، ایک تبصرہ بھی ہے …… سخت تبصرہ!
اب آخر میں ناول کے 65 سالہ مصنف "Peter Heg” کا مختصر تعارف کراتا چلوں۔ وہ گرین لینڈ میں پیدا ہوئے۔ جٹ لینڈ میں رہتے ہیں۔ چار بچوں کے باپ ہیں۔ اب تک سات ناول اور کہانیوں کا ایک مجموعہ دے چکے ہیں۔ ان کا ایک فاؤنڈیشن ہے جو تیسری دنیا بالخصوص افریقہ اور تبت کے پناہ گزین خواتین اور بچوں کی مالی مدد کرتا ہے۔ 2014ء میں ان کا آخری ناول "The Susan Effect” شایع ہوا تھا۔ لوگ منتظر ہیں کہ اب وہ کیا لکھتے ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔