تبصرہ: علی رضا کوثر 
مَیں جتنے بھی مصنفوں سے ابھی تک بہت زیادہ متاثر ہوا ہوں، ان میں خلیل جبران بھی ایک ہیں۔ لبنان کی سرزمین مجھے اسی وجہ سے عزیز ہے کہ وہاں پر جبران پیدا ہوئے۔ جبران کے پانچ ناولیٹ مطالعے کے لیے کل جناب عبدالباسط آزاد نے دیے جن کے عنوان ہیں: ’’ پیغامبر‘‘(The Prophet)، ’’ مرشد کا پیغام‘‘ (Voice of the Master)، ’’ٹوٹے ہوئے پر‘‘(Broken Wings)، ’’بغاوت‘‘، ’’مسیح اور لوگ‘‘(Jesus, the son of man)
ان میں سے ایک "Broken Wings” مَیں پہلے ہی سے انگریزی زبان میں پڑھ چکا ہوں۔ باقی چار سندھی ترجمے کے ساتھ پڑھ رہا ہوں۔ ان چاروں میں سے بھی ایک ناولٹ ’’پیغامبر‘‘ ابھی پڑھ کر پورا کیا۔
پیغامبر میں ایک شہر (دمشق) کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ سمندر کنارے ہے۔ وہاں پر بارہ برسوں سے ایک بزرگ ہستی قیام پذیر ہے…… مگر بارہ برس بعد وہ بزرگ ان سے جدا ہوکر اپنے آبائی وطن جانے والا ہوتا ہے کہ سارے شہر والے اسے روکنے کی کوش کرتے ہیں۔ ان میں ایک عورت جس کا نام ’’عارفہ‘‘ ہوتا ہے، اس بزرگ سے کہتی ہے: ’’آپ کی نگاہوں نے برسوں اس گھڑی کا انتظار کیا ہے۔ آپ سمندر کی جانب دیکھ کر جس جہاز کے منتظر رہے ہیں، وہ آچکا ہے۔ آپ کو جانا بھی ہے۔ ہماری محبت آپ کو روک نہیں سکتی۔ بس، ہماری ایک ہی خواہش ہے کہ جاتے جاتے ہم سے آخری گفتار کرتے جائیں۔ ہم پر کچھ ہمارے راز عیاں کریں۔ ہم وہ راز پشت در پشت آنے والی اپنی نسلوں کو سونپیں گے۔ ہمیں وہ سب بتائیں جو موت اور زندگی کہ بیچ میں ہے۔‘‘
سارا ناولٹ ان نصیحتوں پر مشتمل ہے جو لوگوں کے اصرار پر بزرگ نے انھیں کیں۔ ہر شخص نے اپنے اپنے کاروبار، کام، پسند، خواہش اور مرضی سے سوال کیا اور نصیحت پائی۔ لوگوں نے بزرگ سے محبت، نکاح، اولاد، خیرات، خوراک، محنت، سکھ دکھ، عمارتوں کی تعمیر، لباس، واپار، گناہ و سزا، قانون، آزادی، عقل و جذبات، درد، چند دن کی زندگی، تمیزِ نیک و بد، خودی، تعلیم، دوستی، دعا، عیش، حسن، مذہب اور موت کے متعلق نصیحت طلب کی۔ ان نصیحتوں کے بعد اختتامی الفاظ ہیں اور پھر جدائی۔
لکھنے کے لیے درجِ بالا عنوان ہوں اور قلم جبران کے ہاتھ میں ہو، تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیسے کیسے رنگ ہر پیراگراف میں بھرے ہوئے گئے ہوں گے۔ کئی ایسے جملے ہیں جنھیں پڑھتے وقت گلاب کی سی مہک محسوس ہوتی ہے ۔
جبران اپنے وقت کے بڑے مفکروں اور ادیبوں میں شمار کیے جاتے ہیں اور اب بھی ان کی کتب بڑی چاہ سے پڑھی جاتی ہیں۔
میری رائے ہے کہ کتابوں کی دنیا میں قدم رکھنے والے نئے باشندے کو دیگر کمال مصنفوں سے پہلے آسان اور ادبی رس سے بھرے مصنف پائیلو کویلھو، عبدالواحد آریسر اور جبران کی کتب پڑھانی چاہئیں…… تاکہ وہ کتب کی لت میں مبتلا ہوں اور اس دنیا میں وہ مستقل رہایش اختیار کرلیں۔
جبران کی سبھی کتب کمال درجہ کی ہیں م مگر سب سے مشہور کتاب ’’پیغامبر‘‘ ہی ہے۔ مجھ سے اگر ’’پیغامبر‘‘ اور ’’ٹوٹے ہوئے پر‘‘ کے متعلق پوچھا جائے، تو میرا ووٹ ’’ٹوٹے ہوئے پر‘‘ کو جائے گا۔ خیر، اب ہم چلتے ہیں پیغامبر کے کچھ جادوئی جملوں کی طرف جن کو لکھنے کا ہنر فقط جبران ہی جانتے ہیں۔ ملاحظہ کریں چند جملے :
٭ محبت اپنی گہرائی سے تب تک ناآشنا رہتی ہے جب تک فراق کی گھڑی اس پر حملہ آور نہ ہو۔
٭ آپ کی روح دراصل جنگ کا میدان ہے، جو آپ کی عقل اور آپ کے جذبات و خواہشات کے پیچ میں ہے۔
٭ آپ کی آتما ایک کشتی کی مانند ہے جو اس دنیا کے ساغر پر تیر رہی ہے جس کے دو بادبان ہیں۔ ایک عقل دوسرا جذبات۔
٭ آپ کا ہر عمل کسی جذبے کا نتیجہ ہے۔
٭ کیا پشیمانی بذاتِ خود ایک سزا نہیں؟ یہ سزا تو اول اول قدرت کی طرف سے گنہگار کی طرف آتی ہے جیسے وہ بیدار ہو اور بیدار ہو کر اپنے نفس کو ملامت کرے۔یہ ندامت ضمیر کی شمع کو روشن کرتی ہے، تاکہ اس کی روشنی میں گنہگار اپنے گناہ دیکھ سکے۔
٭ جب آپ محنت کرتے ہیں، تو آپ کاینات کے اس اعلا آدرش کو پورا کرتے ہو، جس کی خاطر یہ کاینات وجود میں آئی۔ زندگی محنت سے بنتی ہے۔ زندگی کے راز محنت سے ہی کھلتے ہیں…… مگر جب آپ تکلیف کے وقت زندگی کو لعنت سمجھتے ہیں، جو آپ کی پیشانی پر لکھی جاچکی ہے، تو پھر میں کہوں گا کہ اس لعنت کو آپ کی پیشانی کے پسینے کے سوا دوسری کوئی چیز نہیں دھو سکتی۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔