یہ ایک بہت ہی ضروری کتاب ہے۔ ہمارا دماغ ہی وہ اوزار ہے جس کے ذریعے ہم خود کو اور دنیا کو دیکھتے ہیں۔ اس کی ساخت اور اس کے کام کرنے کے طریقے کو سمجھنا نہایت اہم ہے۔
دماغ کی سائنس (Neuroscience) نے پچھلے کئی سالوں میں بہت ترقی کی ہے جس سے کئی روایتی باتوں کا بھید کھلا ہے۔ اس کتاب میں لت (Addiction) اور اس کا دماغ پر اثر بیان کیا گیا ہے۔ اس میں ’’انزائٹی‘‘ کا بھی ذکر ہے۔ چوں کہ کتاب لکھنے والی ’’اینا لمبکی‘‘ (Anna Lembke) سائیکاٹرسٹ اور ’’اسٹین فارڈ یونیورسٹی‘‘ کی لت سے منسلک کلینک (Addiction Clinic) کی سربراہ ہیں، تبھی ان کے پاس آنے والے افراد جن کا کتاب میں ذکر کیا گیا ہے، وہ زیادہ تر امیر اور پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ مثلاً کمپیوٹر سائنس دان، سرجن اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اعلا تعلیم یافتہ لوگ…… لیکن اینا نے غربت اور اس سے منسلک مختلف لت کا شکار ہونے کا بھی کتاب میں ذکر کیا ہے۔ جو بات مجھے اینا کی اچھی لگی، وہ یہ کہ انہوں نے اپنی ذاتی زندگی میں لت اور اس لت سے جان چھڑانے کے سفر کو بھی کتاب میں بیان کیا ہے۔ یہ یقینا ہمت کا کام ہے۔ کتاب میں بے شک بہت ’’انفارمیشن‘‘ ہے جس میں سے کچھ آسان الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کروں گی۔
انسان نے بہت وقت تنگی اور افلاس میں گزارا ہے، لیکن اچانک سائنس نامی ایک جادو کا چراغ ہاتھ لگ جانے کے بعد انسان کا تو جیسے ’’اسٹیٹس‘‘ ہی تبدیل ہوگیا۔ وہ بھوک اور افلاس کی دنیا سے ایسی دنیا میں آگیا، جہاں اب فراوانی ہے۔ انسان نے سوچا کہ فراوانی آجانے سے اس کے مسئلے حل ہوجائیں گے…… لیکن ہمیشہ کی طرح مستقبل کی پیشین گوئی میں ہم ناکام ہی رہے ہیں۔
مذکورہ فراوانی کے اگر فواید ہوئے، تو نقصانات بھی ناقابلِ تلافی ہیں۔ ہم وقت میں پیچھے کی جانب نہیں جاسکتے۔ ہم اب چاہ کر بھی اس فراوانی کو اور اس سے پیدا ہونے والے مسایل کو الٹ نہیں سکتے…… لیکن اس سے نمٹنے کے مختلف طریقے ضرور ڈھونڈ سکتے ہیں۔ کسی وقت میں تفریح کے لیے لوگ ترس جاتے، آج نظر دوڑائیں، تو ہر جگہ تفریح ہی تفریح ہے۔
اور اس تفریح اور پلیژر سے بھری دنیا میں آپ اپنے افکار میں اعتدال کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں……؟ یہ آپ کو ڈاکٹر اینا لمبکی بتاتی ہیں جو اس کتاب ڈوپامین نیشن کی لکھاری میں۔
’’درد پلیژر کی نیوروسائنس اور ڈوپامین‘‘ (Pain-pleasure and Dopamine):۔ لفظ ’’ڈوپامین‘‘ آج کل بہت ٹرینڈنگ میں ہے۔ یہ کیا ہے؟ دراصل ڈوپامین دماغ میں خارج ہونے والے بہت سارے کیمیکل جن کا کام آپ کو پلیژر دینا ہے، میں سب سے اہم ہارمون ہے۔ اسے خوشی کا ہارمون بھی کہتے ہیں۔ یہ مزا دیتا ہے…… لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مزا آخر سزا میں کب اور کیوں تبدیل ہوجاتا ہے اور ہم لت میں کیوں مبتلا ہوتے ہیں؟ آئیے، اس لت کو سمجھنے کے لیے دماغ کے سسٹم ہومیو سٹیسس (Homeostasis) کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آپ سب نے سنا ہوگا کہ کاینات میں ہر چیز خود کو توازن میں لے کر آتی ہے، اور یہی نظام، فطرت نے ہمارے دماغ میں بھی تشکیل دیا ہے۔ ڈاکٹر اینا کہتی ہیں کہ یوں تصور کیجیے کہ ہمارے دماغ میں ایک ترازو ہے، جس پر ایک طرف پلیژر تو دوسری جانب درد موجود ہے۔ یہ ترازو ہمیشہ خود کو توازن میں لانے کی کوشش کرتا ہے اور اس عمل کو ’’ہومیوسٹیسس‘‘ کہتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر لت کیسے پڑتی ہے اور توازن کہاں بگڑتا ہے؟
جب آپ کوئی پلیژر والا تجربہ کرتے ہیں، تو ترازو میں پلیژر والا کانٹا بھاری ہوجاتا ہے۔ اب چوں کہ توازن لانا ہے، تو اب وقت ہوا چاہتا ہے درد کو برداشت کرنے کا…… لیکن مسئلہ وہاں جنم لیتا ہے جب آپ درد کو توازن میں آنے ہی نہیں دیتے…… اور اس سے بھاگنے کے لیے مسلسل پلیژر حاصل کیا جاتا ہے۔ مسلسل پلیژر لینے پر اس مخصوص چیز سے ایک وقت میں پلیژر ملنا بند ہوجاتا ہے جسے ڈاکٹر اینا ’’نیورو ایڈپیٹیشن‘‘ (Neuro Adaptation) کہتی ہیں۔ مطلب کہ وقت کے ساتھ وہ شے جس سے آپ پلیژر حاصل کرتے رہے ہیں، اس کا پلیژر کم ہوتا جائے گا اور پلیژر محسوس کرنے کے لیے اب اس شے کی زیادہ سے زیادہ مقدار لینی پڑے گی۔ اس سے آپ کی درد والی ’’سائیڈ‘‘ اور بھی زیادہ تکلیف دینے لگے گی۔ یہی وہ حالت ہوتی ہے جب آپ نہ صرف لت میں مبتلا ہوتے ہیں…… بلکہ اب آپ کو لت بہت زیادہ تکلیف دینے لگتی ہے۔ کیوں کہ اب لت آپ کے کیریئر، رشتوں ، اخلاقیات اور صحت کے بیچ آکر نقصان پہنچا رہی ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں نشئی یا لت کا شکار انسان اچھا نہیں لگتا…… مگر صحت کی جانب مایل ہونا بھی تو ہم انسانوں کی فطرت ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔