تحریر: حنظلۃ الخلیق 
اہلِ علم کے قریب سیبویہ رحمہ اللہ کا نام غیر معروف نہیں۔ عربی لغت کے سب سے بڑے امام اور فاضل مانے جاتے ہیں۔
سیبویہ کا لقب ’’امام النحاۃ‘‘ ہے یعنی تمام نحویوں کا امام۔ ان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ سب سے پہلے علمِ نحو کو بسیط درجے پر قلم بند کیا اور اس عظیم علم کو اپنی مختصر زندگی میں نشر کیا۔ ان کا عربی زبان و ادب، علومِ لغت اور اشعار کی معرفت میں مقام اتنا رفیع ہے کہ ان کے اساتذہ کا ذکر بھی اب اہلِ علم ان کے بعد ہی کرتے ہیں۔
سیبویہ، کا اصل نام عمرو بن عثمان بن قنبر تھا۔ فارسی الاصل تھے۔ خاندان شیراز میں رہتا تھا۔ نام ’’سیبویہ‘‘ کیوں پڑا ؟ اس بارے دو تین روایات ہیں۔ سب سے معتبر اور معروف روایت جو ہم نے بھی اساتذہ سے سنی ہے، وہ یہ ہے کہ جب وہ پیدا ہوئے، تو ان کے گال سیب کی طرح گول اور سرخ تھے۔ چناں چہ سیب فارسی کا لفظ ہے، اس لیے ان کا نام اس وصف سے سیبویہ پڑگیا۔
دوسری روایت جو ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایہ والنہایہ میں ذکر کی ہے، یوں ہے کہ سیبویہ کی والدہ انہیں ’’سیبویہ‘‘ کَہ کر بلاتی تھیں، چناں چہ بچپن سے ہی ان کا نام سیبویہ مشہور ہوگیا۔150 ہجری کے قریب وہ اسی فارس کے موضع شیراز میں ہی پیدا ہوئے۔ گھر والے بصرہ گئے، تو سیبویہ بھی وہاں چلے گئے اور علم کی تحصیل میں مگن ہو گئے ۔
سیبویہ نے عربی لغت کے سب سے بڑے ماہرین سے علم حاصل کیا اور عظیم اہلِ ادب و لغت کے پاس پڑھا۔ سیبویہ کے سب سے بڑے استاد احمد بن خلیل الفراہیدی رحمہ اللہ ہیں، جن کے واسطے سے عربی لغت نقل ہوئی ہے اور جنہوں نے علومِ لغت پہلی بار مدون کیے۔ الفراہیدی کا مقام لغت میں وہی ہے جو حدیث میں بخاری رحمہ اللہ کا اور فقہ میں امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمہما اللہ کا ہے۔ اس کے علاوہ سیبویہ نے لغت کے بڑے بڑے اساتذہ جیسے یونس بن حبیب، اخفش اور عیسی بن عمر کے حضور بھی زانوئے تلمذ تہ کیا۔ بصرہ میں علم حاصل کرنے کی بدولت سیبویہ نے بھی عربی گریمر کے اصولوں میں بصری انداز اختیار کیا۔
اس دور میں عربی لغت کے دو بڑے مکتب تھے ؛ ایک بصرہ میں تھا جس کے بانی سیبویہ کے عظیم استاد احمد بن خلیل الفراہیدی تھے، جب کہ دوسرا مکتب کوفہ میں تھا جو کہ امام کسائی رحمہ اللہ اور ان کے مصاحبین کے زیرِ سایہ تھا اور حکومت کا بھی منظورِ نظر تھا۔
سیبویہ کی علمی دیانت اور حصولِ علم کی محنت کے حوالے سے ایک واقعہ جان لینا کافی ہوگا کہ علمِ لغت اور ادب سیکھنے سے قبل وہ حدیث اور فقہ کے طالب علم تھے۔ ایک بار اپنے استاد حماد بن سلمہ کے پاس بیٹھے کتاب سے حدیث پڑھ رہے تھے۔ اعراب میں غلطی کی، استاد نے ڈانٹا۔ سیبویہ پر اس قدر اثر ہوا کہ شدتِ جذبات سے بولے، آپ حرج نہ رکھیے! مَیں آیندہ ہر وہ علم اور قاعدہ حاصل کر کے رہوں گا جسے سیکھ کر میں کبھی اعراب میں غلطی نہ کروں۔ یوں بچپن ہی سے علم و فضل کی تحصیل میں ڈٹ گئے۔
سیبویہ نے بصرہ میں رہتے ہی وہ مقام حاصل کرلیا تھا کہ لوگ انہیں الفراہیدی کا جانشین کہتے اور امام کا درجہ دیتے۔ حالاں کہ اس وقت عمر 25 برس کے قریب تھی۔ اس کے بعد بغداد گئے, جہاں امام کسائی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ لغت میں مناظرہ ہوا ، جو کہ عربی تصانیف میں’’مناظرہ زنبوریہ‘‘ کے نام سے رقم ہے اور مشہور ہے۔ گو کہ سیبویہ کے قواعد اور اعراب درست تھے…… لیکن منصف، امام کسائی کے دوست تھے، چناں چہ انہوں نے امام کسائی کے شاذ قول کی حمایت کی اور فیصلہ ان کے حق میں دیا۔ اس پر سیبویہ کو بہت غم ہوا اور وہ واپس بصرہ آگئے اور پھر کبھی بغداد نہ گئے۔ یہ مناظرہ کوفیوں اور بصریوں کے لغوی اختلافات کے آغاز کا سنگِ میل ہے۔ اس کے بعد اہلِ بصرہ اور اہلِ کوفہ عربی قواعد اور گریمر کے فن میں جگہ جگہ اختلاف کرتے رہے۔ اس مناظرے کی شہرت جب سیبویہ کے عزیز شاگرد اخفش الاصغر نے سنی، تو وہ علمی غیرت سے بولا کہ اگر امام کسائی اور اس کے ساتھی سچے ہیں، تو اب ہم (سیبویہ کے شاگردوں) سے مناظرہ جیت کر دکھا دیں۔
سیبویہ نے علمی ورثے میں سب سے اہم کام اپنی تصنیف ’’الکتاب‘‘ کی صورت باقی چھوڑا ہے…… لیکن اس کے علاوہ بھی علوم و فواید کا ایک دفتر سیبویہ کے تلامذہ اور آیمۂ فن نے ان سے نقل کیا ہے۔ ’’الکتاب‘‘ علومِ نحو و صرف اور لغوی قواعد کی سب سے بڑی اور جامع کتاب ہے۔ اس فن اور علم پر اسے پہلی تصنیف ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کا نام ’’الکتاب‘‘ اس وجہ سے پڑا کہ سیبویہ کو زندگی نے اتنی مہلت بھی نہ دی تھی کہ وہ اپنے علمی خزانے سے بھرے مخطوطوں کو کوئی نام دیتا۔ ہر کتاب کا کوئی نہ کوئی نام ضرور ہوتا ہے۔ چناں چہ سیبویہ کے شاگردوں اور بعد کے علما نے اس تصنیف کو ’’الکتاب‘‘ کا نام دیا۔ سیبویہ نے اپنی زندگی میں اس کتاب کو اپنے شاگردوں پر پیش بھی نہ کیا اور نہ اس کی قرات کی۔ اس کتاب میں لغت اور عربی گریمر کا سمندر موجزن ہے۔ عربی ادب کا امام جاحظ ’’الکتاب‘‘ بارے کہتا ہے کہ ’’اس جیسی کتاب نہ کبھی سیبویہ سے پہلے کسی نے لکھی اور نہ بعد میں۔‘‘ اخفش کے شاگرد اور مشہور ماہرِ نحو ابو عثمان مازنی کہتے ہیں کہ سیبویہ کی الکتاب کے بعد علمِ نحو میں کتاب لکھنے کا اراداہ کرنے والے کو شرم آنی چاہیے۔
جب کوئی شخص اس کتاب کو پڑھنے کا ارادہ کرتا، تو امام مبرد اس سے پوچھتے کیا تم نے کبھی سمندروں کی شناوری کی ہے؟ (یعنی وہ اسے سمندر سے تعبیر کرتے تھے۔)
جاحظ نے ایک بار محمد بن عبد الملک زیات کی خدمت میں کوئی ہدیہ پیش کرنا چاہا، تو اس نے اسے سیبویہ کی ’’الکتاب‘‘ ہدیہ کی۔ محمد نے کہا، قسم سے تم نے میری سب سے محبوب چیز مجھے ہدیے میں دی۔ قدیم اہلِ لغت الکتاب کو نحو کا قرآن کہتے تھے۔ علمِ لغت میں جب بھی ’’الکتاب‘‘ کا تذکرہ ہوتا ہے، تو اس سے مراد سیبویہ کی یہی کتاب ہوتی ہے۔ سیبویہ کی یہ مہتم بالشان کتاب صرف علومِ لغت کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ اس کے ابواب ہر طرح کے علوم جیسے حدیث، غریب المعانی، ادب، تاریخ، قصص، فقہ، شاعری اور حکایات و آثار سے بھرے پڑے ہیں۔ امام جرمی رحمہ اللہ جو کہ ماہر لغت اور فقیہ تھے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے 30 برس سیبویہ کی کتاب سے فقہ کے فتاوا نقل کیے ہیں۔ الکتاب آج بھی شایع ہوتی ہے اور پہلے دن سے اس کی عظمت بڑھتی جاتی ہے، معروف طباعت میں اس کی 6 یا 7 جلدیں طبع ہوتی ہیں۔
اس کتاب میں سیبویہ نے اہلِ بصرہ کے مذہب کو ترجیح دی ہے، لیکن کئی جگہوں پر اپنے اساتذہ سے اختلاف بھی کیا ہے۔ سیبویہ کے دل میں اپنے استاد امام احمد بن خلیل الفراہیدی کا احترام اور عظمت اس درجہ نقش تھا کہ ہر مسئلہ میں اول قول ان کا نقل کرتے ہیں ’’قال الاستاذ‘‘ کَہ کر…… اور پھر باقی اقوال۔ لطف کا مقام یہ ہے کہ جہاں سیبویہ نے خود امام الفراہیدی سے اختلاف کیا ہے، وہاں بھی سب سے پہلا قول ان کا لکھا ہے اور پھر کسرِ نفسی اور احترامِ استاد کا عالم دیکھیے کہ اپنا نام ذکر کیے بغیر اپنا قول یوں لکھا: ’’و قال غیرہ‘‘…… یعنی استاد کے علاوہ فُلاں فُلاں کا قول یہ ہے جس سے مراد سیبویہ خود ہوتے ہیں۔
الکتاب کی شہرت کا یہ عالم ہے کہ اس کے بعد نحو کی تمام کتابیں اس کا تتبع اور تلخیص ہیں۔ سیبویہ نے اس کتاب میں اکثر فراہیدی اور یونس بن حبیب سے نقل کیا ہے۔ امام ابو حیان الغرناطی رحمہ اللہ؛ ’’مؤلف تفسیر البحر المحیط‘‘نے سیبویہ کی تصنیف ’’الکتاب‘‘ مکمل زبانی یاد کی اور کہا کہ قرآن و حدیث کا علم سیکھنے کے لیے اس کتاب کی حفاظت ضروری ہے۔
سیبویہ کی علم دوستی اور محبت، کتب کے حوالے سے ابو علی الفارسی؛ جو کہ لغت کے امام ہیں، نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ سیبویہ پورا دن ایک کتاب پڑھنے میں مشغول رہے، ان کی بیوی کو غصہ آیا اور اس نے وہ کتاب جلانے کی ٹھان لی۔ چناں چہ وہ سیبویہ کے اٹھنے کا انتظار کرنے لگی۔ سیبویہ کتاب رکھ کر نماز کے لیے گئے، تو اس نے وہ کتاب چولہے میں جلا دی۔ جب سیبویہ واپس آئے، تو کتاب کو راکھ کی صورت پا کر بے ہوش ہو گئے۔ جب اِفاقہ ہوا، تو آپ نے غم کی حالت میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی۔
سیبویہ کے ایک خادم نے آکر انہیں اطلاع دی کہ گدھے کے گلے میں رسی اٹک گئی ہے، جلدی چل کر اتارئیے، اس نے بولنے میں عربی گریمر کی غلطی کر دی اور کہا: ’’لف الحبل في عنق حمارک‘‘، تو سیبویہ نے گدھے کی طرف جانے کی بجائے خادم کو ٹوکا اور اعراب کی تصحیح یوں کی: ’’لف الحبل حول عنق حمارک!‘‘خادم یہ ماجرا سن کر بولا: جلدی چلیے! کہیں گدھا مر نہ جائے۔ سیبویہ نے جواباً کہا:گدھے کی موت، عربی زبان کی موت سے بہتر ہے۔
علم سے شغف کا حال یہ تھا کہ آخری وقت کہنے لگے کہ ساری لغت پر میری دسترس رہی، مگر اب مَیں اس حال میں مر رہا ہوں کہ میرے دل میں ’’حتی‘‘ کے اعراب بارے تشفی نہیں، مَیں ’’حتی‘‘ کا اعراب پورا حل کیے بغیر اس جہان سے جا رہا ہوں۔ یاد رہے کہ عربی لغت میں حتی کے اعراب کا فہم مشکل ترین ہے اور اس میں گونا گوں پیچیدگی اور تنوع پایا جاتا ہے۔
’’لقط المرجان في احکام الجانّ‘‘ جو کہ جنوں اور پریوں کے احوال پر ایک شاہکار اور نادر کتاب ہے، اس میں ابن کیسان رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ مَیں ایک رات سبق یاد کرنے کے لیے دیر تک جاگتا رہا۔پھر میں سوگیا تو مَیں نے خواب میں جنوں کی ایک جماعت دیکھی جو فقہ ، حدیث ، حساب ، نحو اور شعر وشاعری میں مذاکرہ کر رہی تھی۔ مَیں نے پوچھا: کیا تم میں بھی علما ہوتے ہیں؟ انھوں نے کہا: ’’جی ہاں! ہم میں علما بھی ہوتے ہیں۔ مَیں نے پوچھا : پھر تم نحو کے مسایل میں کن علمائے نحو کے پاس جاتے ہو؟ انہوں نے کہا: سیبویہ کے پاس۔
سیبویہ کا نام لوگ صدیوں سے حوالہ کی طرح لیتے آ رہے ہیں…… اور سیبویہ کی شہرت قدیم سے ہی مسلم ہے۔ ایک لطیفہ یاد آیا؛ ابن جوزی رحمہ اللہ نے ’’اخبار الحمقی‘‘ میں لکھا کہ ایک شخص جان کنی کے عالم میں تھا، تو اس کے پاس دو لغوی عالم آگئے…… اور اسے کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنے لگے۔ ایک کہنے لگا، تو لا الہ الا اللہَ پڑھ۔ دوسرا بولا تو لا الہ الا اللہُ پڑھ۔ پہلا یہ سن کر بولا، کوئی حرج نہیں سیبویہ رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں جایز ہیں۔ قریب المرگ شخص کا ایک ساتھی یہ دیکھ کر بولا، ابے کنجری کی اولاد! وہ بے چارا مر رہا ہے اور تمہیں اپنی نحو کے مسایل کی پڑی ہے ۔
سیبویہ بڑے ملن سار اور انسان دوست تھے۔ ان کا رنگ بہت خوب صورت اور نکھرا تھا۔ لباس بھی بہت صاف رکھتے۔ جس خوب صورت وصف کے ہم راہ پیدا ہوئے اس کے سنگ ہی فوت ہوئے۔ فطرتاً کم گو تھے۔ امام ذہبی نے ’’سیر اعلام النبلاء‘‘ میں لکھا ہے کہ سیبویہ کا قلم سمندروں کا احاطہ کرتا اور قرطاس کے حضور وہ آسمانوں کی وسعت لیے بیٹھتے، مگر جب تقریر اور کلام کی باری آتی، تو گویا ان کے الفاظ محبوس ہو جاتے اور وہ بحر کی روانی جو قلم میں موج زن تھی، بولنے میں معدوم ہوجاتی۔ اپنے اساتذہ کا حد درجہ احترام کرتے اور شاگردوں کو بھائیوں بیٹوں کی طرح چاہتے۔ جب سیبویہ احمد بن خلیل الفراہیدی کی مجلس میں جاتے، تو وہ خوشی سے کھل جاتے اور کہتے: ’’ہمارے عزیز طالبِ علم! سیبویہ کو مرحبا ! جس نے کبھی ہمیں ناراض نہیں کیا!‘‘ سیبویہ نے کبھی کسی کی بات اور قول کو فراہیدی سے پہلے ذکر نہیں کیا۔ سیبویہ کے تلامذہ میں سب سے ممتاز ابو الحسن الاخفش (الاصغر ) ہیں، جنہوں نے الکتاب کی تدوین بھی کی، اور دوسرے ’’قُطرُب‘‘ ہیں۔ قطرب عربی میں رات کو نکلنے والے اس پتنگے کو کہتے ہیں جو ایک جگہ ساکن پڑا رہتا ہے اور حرکت نہیں کرتا۔ ان کا لقب قُطرُب یوں پڑا کہ یہ رات کے آخری پہر ہی سیبویہ کے دروازے کے پاس آکر بیٹھ جاتے۔ سیبویہ جب صبح دروازہ کھولتے، تو یہ بیٹھے نظر آتے۔ ان کے اس وصف پر ان کو ’’قطرب‘‘ کَہ کر بلایا۔
سیبویہ کی شخصیت میں ریا اور شہرت نہ تھی۔ انھوں نے کبھی خود کو ممتاز عالم ظاہر نہ کیا۔ کسائی کے ساتھ بیتے مناظرے اور بغداد میں پیش آمدہ حال کا آخری وقت تک غم ان کے دل میں رہا۔
سیبویہ کی عمر ابھی 40 برس بھی نہ ہوئی تھی کہ جوانی میں ہی بیمار ہوگئے۔ چند دن ضعف رہا اور پھر آخری سانسوں تک جا پہنچے۔ وفات کے قریب یہ شعر پڑھا:
یؤمل دنیا لتبقی لہ
فمات المؤمل قبل الأمل
حثیثا یروي أصول الفسیل
فعاش الفسیل ومات الرجل
(ترجمہ) ’’امید کرنے والے نے دنیا میں رہنے کی چاہت کی؛ اور پھر اپنی آرزو بر آنے سے پہلے ہی چل بسا۔ وہ تو کھجور کے نوخیز پودے کو رغبت سے سیراب کرتا رہا کہ اس کی نمو ہو، مگر کھجور کا درخت باقی رہا اور وہ شخص ہی زندگی سے دور ہو گیا۔‘‘
نزع کے قریب سیبویہ کے بھائی نے ان کا سر گود میں رکھا اور شدت سے رونے لگے…… جب آنسو سیبویہ کے چہرے پر گرے، تو سیبویہ نے آنکھیں کھول کر یہ بیت کہی: ’’وکنّا جمیعا فرّق الدہر بیننا إلی الأمد الأقصی؛ فمن یأمن الدہرا ۔‘‘ (ترجمہ): زمانے نے ہم سب کو اک لمبی مدت کے واسطے جدا کر دیا ہے، اور اس زمانے کی جدائی سے کون بچ سکا ہے۔
امام اصمعی رحمہ اللہ نے عرصے بعد سیبویہ کی قبر کی زیارت کی، تو ان کی یاد میں مرثیہ کے بیت کہے جن میں سیبویہ کی زندگی جلد ختم ہونے پر حزن و غم کا اظہار کیا۔
عربی زبان اور گریمر کے حوالے سے اسلامی تاریخ میں کئی بڑے نام ہیں، سلف و خلف کے عظیم علما ہیں لیکن سیبویہ کا مقام اور عظمت کسی کو حاصل نہیں۔ لغت کی امہات کتب میں جب اہلِ لغت کسی مسئلہ پر اختلاف کرتے ہیں، تو قولِ فصل سیبویہ کی بات ہوتی ہے۔ ’’شرح ابن عقیل‘‘ جو کہ علم نحو کی محقق کتاب ہے۔ اس میں قاضی ابن عقیل ترجیح دیے بغیر سیبویہ کی بات نقل کرکے باب ختم کر دیتے ہیں۔ گویا سیبویہ کے الفاظ ایسی سند ہیں کہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ سیبویہ نے صحیح کہا ہے۔ علمی دنیا میں سیبویہ کی عظمت کی ایک جھلک یوں بھی دیکھیے کہ ’’علومِ عربیہ‘‘ کے مکاتب میں آج بھی اگر استاد کسی کی لغوی مہارت پر داد دینا چاہے، تو طالب علم کو’’سیبویہ!‘‘کَہ کر مخاطب کرتا ہے۔
سیبویہ کی وفات 180 ہجری کے قریب ہوئی۔ اپنے آبائی وطن شیراز میں دفن ہیں جہاں آج ان کی قبر کے پاس ایک علمی مرکز ’’خانۂ فرہنگِ سیبویہ‘‘ کے نام کا قایم ہے جو کہ ان کی شخصیت اور علم و فضل پر تحقیق و اشاعت کا بیڑا اٹھائے ہے اور حکومت ایران کے زیرِ اہتمام ہے۔ جب تک عربی زبان رہے گی، تب تک سیبویہ بھی ہماری باتوں، حوالوں، لفظوں اور مشکل تراکیب کے حل میں زندہ رہے گا۔ اللہ ذوالجلال سے دعا ہے کہ وہ امام النحاۃ، حجۃ الاستدلال، بحر اللغۃ عمرو بن عثمان، سیبویہ رحمہ اللہ کو پوری امت کی جانب سے جزائے خیر سے نوازے اور جس طرح انہوں نے اپنی جوانی کے شاہکار دن علم کی دوڑ میں لگا کر علومِ نبوت کو سنوارا ہے، ویسے ہی ان کا مقام جنت میں سنوارے، آمین!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔