ایک دماغ تو وہ ہے جو ہم سب کے پاس ہے اور دوسرا دماغ آپ کو ’’ٹیاگو فورٹ‘‘ بنانا سکھاتے ہیں جو کتاب ’’بلڈنگ آ سیکنڈ برین‘‘ (Building a Second Brain) کے لکھاری ہیں۔
دوسرے دماغ سے ٹیاگو فورٹ کی کیا مراد ہے؟ یہ تو ہم آگے چل کر پڑھیں گے، لیکن کتاب میں سب سے دلچسپ اس لکھاری کی اپنی کہانی ہے جو اس نے کتاب کے شروع میں بیان کی ہے۔ اسے دوسرے دماغ کو بنانے اور اس پر کتاب لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟اس کے پیچھے ایک بہت ہی متاثر کن کہانی ہے۔ اس کہانی میں کافی کچھ سیکھنے کو ہے۔ کتاب ہر کسی کے لیے نہیں۔ یہ ایک ٹیکنیکل کتاب ہے ’’ٹولز‘‘ اور تکنیک سے بھرپور……وہ لوگ جو ’’کریٹوٹی‘‘ اور ’’پروڈکٹوٹی‘‘ کے دل دادہ ہیں، ان کے لیے کافی کار آمد ہے…… لیکن عام مطالعہ کرنے والوں کے لیے ان کی کہانی اور اس میں موجود ’’وزڈم‘‘ کسی حد تک متاثر کن ہوسکتا ہے۔
کتاب کے ’’ریویو‘‘ کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہوں گی، پہلا حصہ ٹیاگو کی کہانی، جس کی آڑ میں کچھ ایسی باتیں زیرِ بحث لاؤں گی جن کو اکثر ہم نظر انداز کرتے ہیں اور پھر سوچتے ہیں کہ ہماری حالت میں کوئی سدھار کیوں نہیں آرہا؟ دوسرے حصے میں بتلانا چاہوں گی کہ کتاب کن لوگوں کو پڑھنی چاہیے اور اس سے انہیں کیا سیکھنے کو مل سکتا ہے؟
٭ پہلا حصہ(لکھاری کی اپنی کہانی): ٹیاگو فورٹ کالج میں تھا جب اس کے گلے میں تکلیف ہونا شروع ہوئی۔ اسے لگا کہ شاید کوئی موسمی نزلہ زکام ہے، لیکن تکلیف بڑھتی جارہی تھی۔ اس قدر بڑھنے لگی کہ اسے بات کرنے، کھانا کھانے اور باقی کے روز مرہ کے کاموں کو کرنے میں تکلیف ہونے لگی۔ ایک نوجوان لڑکا جس کے آگے زندگی پڑی تھی، مستقبل بنانا تھا، زندگی کو انجوائے کرنا تھا، نئی چیزوں کو تجربہ کرنا تھا، وہ ایک کمرے کی حد تک محدود رہ گیا۔ گلے میں ہونے والی تکلیف کی وجہ سے ٹیاگو کسی سے بات نہیں کر سکتا تھا۔ہیوی پین کلر لینے کی وجہ سے اس کی یاد داشت بہت کم زور ہوتی جا رہی تھی۔ ٹیاگو، ڈاکٹروں کے کلینک کے چکر لگا لگا کر تھک چکا تھا۔ ایک دن ڈاکٹر کے پاس اپوائنٹمنٹ تھی۔ بیٹھا اپنی باری کا انتظار کررہا تھا۔ ذہن ناامیدی کی حدوں کو چھو چکا تھا کہ اچانک اسے خیال آیا کہ وہ اپنی پوری میڈیکل ہسٹری نکال کر اپنی بیماری کو خود سمجھے گا۔ وہ کاؤنٹر پر جاکر اپنی میڈیکل ہسٹری طلب کرتا ہے اور پرنٹ آؤٹ کیے ہوئے سارے صفحے گھر لے جاتا ہے۔ وہ نوجوان ان پرنٹ کیے ہوئے صفحوں کو پڑھ کر اپنی بیماری کو سمجھنے لگتا ہے اور ان صفحوں سے نوٹس بنا کر ان کو اپنے کمپیوٹر کی فائل میں سیو کرنے لگتا ہے۔ یوں اس کا پورا میڈیکل ریکارڈ اس کے کمپیوٹر میں ہوتا ہے اور اپنی بیماری کے متعلق اسے معلوم ہوجاتاہے کہ اس کی بیماری کوئی انفیکشن نہیں بلکہ ایک ’’ڈس آرڈر‘‘ ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ اسے کسی دوا نہیں بلکہ ایک مختلف ’’لائف اسٹائل‘‘ کی ضرورت ہے جو اس ڈس آرڈر کو مدِنظر رکھ کر ڈیزائن کرنا ہوگا۔ آہستہ آہستہ ٹیاگو اپنے لائف اسٹائل اور پڑھائی کے اسٹائل کو بدلتا ہے۔ کیوں کہ اس ڈس آرڈر کی وجہ سے وہ عام بچوں کی طرح نہیں پڑھ سکتا تھا۔ چوں کہ ہر انسان خود کو ’’ایکسپریس‘‘ (Express)کرنا چاہتا ہے، لیکن بول نہ سکنے کی وجہ سے ٹیاگو ’’کمیونی کیشن‘‘ کے ذریعے اپنے آئیڈیاز کا اظہار نہیں کرسکتا تھا، تو اس نے بلاگز لکھنا شروع کیے جہاں وہ اپنے تجربات کو الفاظ دیتا تھا۔ درد کی شدت کو وہ پین کلر سے ہٹ کر ’’مائنڈ فلنس میڈی ٹیشن‘‘ اور مختلف تکنیک کو استعمال کرکے برداشت کرنا اور پھر آہستہ آہستہ کم کرنا سیکھ لیتا ہے۔ چوں کہ ڈس آرڈر کی وجہ سے یاد داشت پر اثر ہونے سے ٹیاگو کو باتیں اور چیزیں یاد نہیں رہتی تھیں، تبھی اس کو ہر جگہ ہر بات کو نوٹس بنا کر محفوظ کرنے کی عادت ہوگئی تھی اور اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کی یہ عادت اسے ایک ایسا سسٹم بنانا سکھائے گی جسے سیکھنے کے لیے لوگ نہ صرف اس سے اس سسٹم کو کورس کی شکل دینے کی خواہش ظاہر کریں گے، بلکہ بڑی بڑی کمپنیاں بھی اسے مدعو کریں گی اس ’’سیکنڈ برین‘‘ والے سسٹم کو اپنے امپلائیز کو سکھانے کے لیے ۔
مَیں تبھی آپ سب سے کہتی ہوں کہ آپ کا خوف، آپ پر پڑی مصیبت آپ کے لیے سب سے بڑا موقع بھی ہوسکتی ہے۔ پر اِس کے لیے کچھ اقدامات لینا ضروری ہے:
٭ پہلا قدم:۔ اپنے ساتھ پیش آنے والی مصیبت یا پرابلم کو قبول کرناہے ۔
٭ دوسرا قدم:۔ اس پرابلم کو حل کرنے کی پوری ذمے داری (خواہ وہ کسی اور کی وجہ سے ہی کیوں نہ آئی ہو) لینا۔
٭ تیسرا قدم:۔ خود کو اپنی پرابلم کے متعلق تعلیم مہیا کرنا کرنا۔
٭ چوتھا قدم:۔ جو بھی ٹولز اور تکنیک ہاتھ لگتی ہیں، ان سب پر تجربہ کرنا۔ کیوں کہ خود کو ایجوکیٹ کرکے اگر اس ایجوکیشن کو عملی جامہ نہیں پہنائیں گے، تو پھر ایسی ایجوکیشن کسی کام کی نہیں۔ آپ ہمیشہ تیسرے قدم پر ہی پھنسے رہیں گے۔ جو عمل کر گیا، غلطیاں کرکے آگے بڑھ گیا…… وہی اگلے قدم تک پہنچتا ہے۔ زیادہ تر لوگ تو پہلے قدم ہی تک آ نہیں پاتے۔ اس لیے دوسروں پر منحصر رہتے ہیں کہ شاید ڈاکٹر صاحب یا حکومتِ پاکستان یا فُلاں انسان کچھ کردے، تو ٹھیک…… ورنہ میں تو ہاتھ پہ ہاتھ دہرے بیٹھا رہوں گا۔ مجھے نظر لگ گئی ہے، مجھ پر عذاب نازل ہوا ہے، میری غلطی نہیں،دوسرے قصوروار ہیں، سب فضول ہے، یہ عدمیت (Nihilism) کسی اور کے لیے نہیں ہمارے اپنے لیے نقصان دہ ہے۔ آپ دوسروں کو نہیں بلکہ خود کو تسلی دے کر اپنے لیے تکلیف بن رہے ہیں۔
ہمارے دشمن اکثر ہمارے رشتے دار نہیں ہوتے، بلکہ ہمیں ذلیل کرنے کے لیے ہمارا اپنا دماغ ہی کافی ہے۔ اسے بس دوسروں کو الزام دے کر خود کو بری الذمہ کرنے میں مزا آتا ہے۔ اسے اپنا دوست بنانا اور اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے۔ اپنی ہیلنگ (Healing) کی ذمے داری خود لیں اور اپنے ’’سلف امپروومنٹ‘‘ کے سفر میں جو سیکھ لیں، اسے دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔ ہم انسان تعاون، نالج اور تجربات شیئر کرنے سے ہی اس مقام تک پہنچے ہیں۔ تجربات، ٹیلنٹ اور نالج قبر میں ساتھ نہیں لے کر جانا!
٭ دوسرا حصہ (کتاب کا موضوع اور مقصد):۔ یہ کتاب پڑھ کر مجھے خوشی بھی ہوئی اور افسوس بھی ہوا کہ کاش! یہ تین سال پہلے پڑھی ہوتی، تو آج کتنی ہی ایسی کتابیں، بلاگز، قول، چھوٹی اسٹوریز، انفارمیشن، ریسرچ پیپر اور اعلا قسم کی ویب سائٹ کے لنک میرے پاس محفوظ ہوتے اور آپ سب کے طلب کرنے پر میں شیئر کرتی…… لیکن چوں کہ مَیں محض اپنی ’’سلف امپروومنٹ‘‘ کے لیے پڑھتی تھی، اس لیے پڑھ کر بھول جاتی اور کبھی نوٹس لینے کی زحمت نہیں کی۔ معلوم نہیں تھا کہ کسی دن میں بھی بورنگ لمبی اسٹوریاں شیئر کروں گی لوگوں کے ساتھ۔
چوں کہ ہمارا دماغ زیادہ دیر آئیڈیاز یا انفارمیشن کو یاد نہیں رکھ سکتا، اسے لیے ہمیں اس دوسرے دماغ کو تشکیل دینے کی ضرورت ہے، اپنی پروڈکٹوٹی اور کریٹوٹی بڑھانے کے لیے (بقول لکھاری کے)۔ چوں کہ ٹیاگو کو ہر ضروری بات نوٹ کرنے کی عادت تھی، تو ٹیاگو اپنے آفس میں وہ ایک خاص بندہ بن گیا جس کے پاس تین ہفتے پہلے ہوئی میٹنگ کے دوران میں کلائنٹ کے کہے ہوئے الفاظ بھی نوٹ ہوتے تھے۔ ٹیاگو نے یہ بات نوٹ کی کہ اس کے وہ کولیگ جو نارمل ہیں، ان کا دماغ بھی زیادہ عرصہ انفارمیشن اور آئیڈیاز کویاد نہیں رکھ سکتا۔ کیوں کہ انسانی دماغ آئیڈیاز سوچنے اور انفارمیشن پڑھنے کے لیے بنا ہے، اسے سالوں یاد رکھنے کے لیے نہیں۔ مطلب یہ کہ دوسرا دماغ یعنی اپنے لیے انفارمیشن، نالج اور آئیڈیاز کو محفوظ کرکے ایک سسٹم ڈیزائن کرنے کی ضرورت سب کو ہے، ساری ذمے داری ایک ہی بیالوجیکل دماغ پر ڈالنا آپ کو نقصان دے سکتا ہے۔ یوں اس نے اپنے کولیگز، پھر سیمینار اور پھرمختلف کمپنیوں کو اس سسٹم سے متعارف کروایا۔
نوٹس لینا اور انکو ترتیب دینا ایک آرٹ ہے۔ وہ لوگ جو طالب علم ہیں، کسی کمپٹیٹیو ٹیسٹ (CSS یا کوئی بھی ٹیسٹ) کی تیاری کررہے ہیں، وہ جو کسی پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں، دفتر میں مزید پروڈکٹو امپلائی بننا چاہتے ہیں، ٹیچر ہیں، کانٹینٹ کرئیٹر ، میوزک، آرٹ، یو ٹیوبر…… خواہ ہر وہ انسان جس کا تعلق انفارمیشن اور نالج سے ہے، وہ اس کتاب کو ضرور پڑھے۔ ایسے افراد کے لیے یہ کتاب بہترین انفارمیشن کا ذریعہ ہوسکتی ہے کہ کیسے آپ نے انفارمیشن، نالج اور آئیڈیاز کا ایک سسٹم تشکیل دینا ہے اپنے فون یا کمپیوٹر پر…… کہ آپ جب چاہیں اپنے کام کے لیے اپنے دوسرے دماغ کی جانب رُخ کرسکتے ہیں۔ آپ کو ہر بات یا ہر چیز یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی…… اور نہ آپ زیادہ عرصہ یاد رکھ ہی سکتے ہیں۔ کتاب صرف اتنی سی نہیں بلکہ کافی تفصیل سے دوسرے دماغ والے سسٹم اور اس کے ہر اسٹیپ کو بیان کرتی ہے۔ کتاب میں تاریخ کی مشہور شخصیات کے نوٹس لینے کے طریقے بھی شیئر کیے گئے ہیں۔ پڑھنے میں میرے آرٹیکلز کی طرح تھوڑی بورنگ لگ سکتی ہے۔ انٹرٹینمنٹ کے لیے ڈرامے، فلمیں اور سیزن سیریز موجود ہیں، جنہیں بوریت ہو…… وہ اُدھر کا رُخ کرسکتے ہیں۔
چوں کہ انفارمیشن اور نالج محض پروفیشنل لوگوں تک محدود نہیں آج کے دور میں، ہم سب کو ہماری سکت سے زیادہ انفارمیشن مل رہی ہے آج کل۔ آپ چاہیں تو ملنے والی انفارمیشن کو الفاظ، تصاویر یا وڈیوز کی شکل میں دوسروں کے ساتھ شیئر کرسکتے ہیں۔ دماغ کو جمع ہونے والی انفارمیشن سے خالی کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر نوٹس نہ سہی تو ’’جرنلنگ‘‘ کی عادت ڈالیں۔ ہمیں جرنلنگ کرنا یا اپنے گولز اور مقاصد صفحوں پر لکھنا نہیں سکھایا جاتا، لیکن یہ سیکھا جاسکتا ہے، محض صفحے نہیں بلکہ اپنے موبائل کے نوٹس میں بھی یقینا یہ سب کیا جاسکتا ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔