تبصرہ: ارجمند آرا 
کابل کے ایک سینئر پبلک سرونٹ کے گھر میں 26 فروری 1962ء میں جنم لینے والے عتیق رحیمی کی ابتدائی تعلیم ’’لیسے استقلال‘‘ میں ہوئی۔ افغا نستان میں سوویت روس کی مداخلت کے بعد انھیں ایک سال کے لیے پاکستان میں پناہ لینی پڑی…… اور پھر 1985ء میں انھیں فرانس میں سیاسی پناہ مل گئی۔ سوربون میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد رحیمی نے فلم نگاری، فلم سازی، فوٹوگرافی اور ہدایت کاری کو اپنے کرئیر کے طور پر چنا۔ 90ء کی دہائی میں انھوں نے لکھنا شروع کیا اور دری (فارسی) میں ان کی پہلی تخلیق ’’خاکستر و خاک‘‘ سنہ 2000ء میں شایع ہوئی…… جو جلد ہی یوروپ اور ساؤتھ امریکہ میں بیسٹ سیلر بن گئی۔
عتیق رحیمی کی ہدایت میں اس ناول پر مبنی فلم "Earth and Ashes” پچاس سے زیادہ فلمی میلوں میں دکھائی گئی اور اس نے 25 اعزازات حاصل کیے، جن میں "Cannes Film Festival 2004 کا "Prix du Regard Vers L’avenir” اور ’’زنجبار انٹرنیشنل فلم فیسٹول‘‘ کا "Golden Dhow” اعزاز بھی شامل ہے۔
2002ء میں طالبان کی شکست کے بعد عتیق رحیمی 17 سال کی جلاوطنی کے بعد اپنے وطن لوٹے اور ڈیڑھ سو سال پرانے باکس کیمرے میں کابل کی تصویریں قید کیں۔ ان میں سے چھے تصویریں لندن کے وکٹوریا اور البرٹ میوزیم نے بھی خریدیں۔
2008ء میں رحیمی کا پہلا فرانسیسی ناول "SYNGUE SABOUR” (سنگِ صبور) شایع ہوا اور اس نے فرانس کا سب سے ممتاز "Prix Goncourt Award” حاصل کیا۔ افغانستان یا اس جیسے کسی ملک کے پس منظر میں لکھے گئے اس ناول میں ایک ایسی عورت کی کہانی بیان کی گئی ہے جس کا شوہر گردن میں گولی لگنے کی وجہ سے کوما میں چلا گیا ہے اور سانس لیتے ہوئے لیکن پتھر کی طرح بے جان شوہر کی تیمارداری میں لگی بیوی اپنے سارے غم، دکھ، تکلیفیں، خواہشیں، حسرتیں، حادثے اور سانحے اس کے پاس بیٹھی اس سے بیان کرتی رہتی ہے…… اوراپنی 9 سالہ شادی شدہ زندگی میں پہلی بار وہ اپنے شوہر سے براہِ راست اس طرح مخاطب ہوتی ہے کہ اپنی ذہنی کیفیتوں اور سوانحی حالات کو ڈرتے ڈرتے اور بتدریج بیان کرتی ہے۔ اس امید میں کہ اس کا ’’سنگِ صبور‘‘ اس کی تمام تکلیفیں جذب کرلے گا اور اسے اپنے غموں سے نجات مل جائے گی۔
ناول کے انگریزی ایڈیشن کے تعارف میں ناول نگار خالد حسینی نے لکھا ہے: ’’اس ناول کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے آواز عطا کی ہے؛ ان کو آواز عطا کی ہے جو سب سے زیادہ تکلیفیں سہتی ہیں اور کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہیں لاتیں۔ رحیمی کی بے نام ہیروئن ایک وسیلہ ہے، ایک ذی حیات آلہ، جس میں اُس جیسی کروڑوں عورتوں کی مصیبتوں اور شکایتوں نے جگہ پائی ہے، یعنی ان عورتوں نے جن کو معروض میں بدل دیا گیا ہے، جو حاشیے پر جیتی ہیں، جن سے نفرت کی جاتی ہے، جنھیں مارا پیٹا جاتا ہے، جن کا تمسخر اُڑایا جاتا ہے، جن کو خاموش کر دیا جاتا ہے۔ سنگِ صبور میں بالآخر وہ اپنی بات کَہ پائی ہیں۔‘‘
ناول کا انگریزی ترجمہ پولی میک لین نے "The Patience Stone” کے عنوان سے 2012ء میں کیا۔ عتیق رحیمی کی ہدایت میں 2012ء میں اس ناول پر فلم بھی بنی جس میں مرکزی کردار ایرانی اداکارہ گل شیفتہ فراحانی نے نبھایا ہے۔ اس فلم کو "Best Foreign Language Oscar” کے زمرے میں اکادمی ایوارڈ کے لیے افغانستان کی جانب سے بھیجا گیا، لیکن اعزاز کے لیے نام زد نہیں ہوئی۔
عتیق رحیمی نے فرانسیسی ٹیلی وِژن کے لیے ڈاکومنٹری اور کمرشل فلمیں بنائی ہیں۔ وہ افغانستان کے ایک بڑے میڈیا گروپ ’’موبی گروپ‘‘ کے ساتھ سینئر تخلیقی مشیر کے طور پر وابستہ ہیں اور اس کے لیے مختلف پروگرام تیار کرنے کے علاوہ افغانستان میں فلم سازوں اور ہدایت کاروں کی نئی نسل کی تربیت میں بھی پیش پیش ہیں۔ ٹولو ٹی وی کے لیے انھوں نے افغانستان کاپہلا سوپ اوپیرا رازہاے ایں خانہ تیار کیا جو بے حد مقبول ہوا اور 2008ء میں اس نے ’’سول ڈراما ایوارڈز‘‘ کا خصوصی اعزاز حاصل کیا۔
ان کی دیگر تخلیقات میں ’’یک ہزار اتاقِ خواب وترس‘‘ 2002ء میں فارسی میں اور انگریزی میں "A Thousand Rooms of Dream and Fear” کے عنوان سے 2007ء میں شایع ہوئی۔
ان کی تیسری تخلیق "Le Retour Imaginaire 2005” تھی۔ "Snygue Sabour” ان کی چوتھی اور فرانسیسی زبان میں پہلی تخلیق تھی۔ "A Curse on Dostoevsky” فرانسیسی میں 2011ء میں اور انگریزی میں 2013ء میں اشاعت پذیر ہوئی۔
53 سالہ عتیق رحیمی اپنے وقت کا بیشتر حصہ پیرس اور کابل میں گزارتے ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔