تبصرہ: آمنہ احسن
ایک دوست نے ’’غیر ملکی ادب کے اُردو تراجم‘‘ (سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بُک‘‘ پر متحرک ادبی گروپ) پڑھنے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی ساتھ مجھے ’’ہاروکی موراکامی‘‘ (Haruki Murakami) کے افسانوں کا ایک مجموعہ ’’یک سنگھے‘‘ تھما دیا۔
موراکامی کا نام چند دوستوں سے سن رکھا تھا…… لیکن یہ کتاب موراکامی سے میرے باقاعدہ تعارف کی پہلی کڑی ثابت ہوئی۔ میرے ہاتھ میں موجود موراکامی کے افسانوں کے مترجم ’’قیصر نظیر خاور صاحب‘‘ ہیں۔ کتاب میں بارہ افسانے یا کہانیاں شامل ہیں۔ ہر افسانے پر اپنی رائے دینے سے شاید میں ابھی قاصر ہوں۔ ہاں! موراکامی سے یہ پہلی ملاقات، یہ پہلا تعارف کیسا رہا؟ یہ بتانے کے کے لیے یہ چند سطور تحریر کر رہی ہوں۔
موراکامی کے افسانوں میں ہر زبان کے ادب کی جھلکیاں ملتی ہیں اور باقاعدہ ذکر بھی،جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ادب کا کتنا بڑا مداح ہے۔ وہ ’’شیکسپیئر‘‘ سے لے کر ’’کافکا‘‘ تک اور ’’ایل فرینک بام‘‘ سے لے کر عربی داستانی ادب تک سب کا ذکر کرتا ہے۔ ادب کے ساتھ ساتھ وہ میوزک کا کتنا شوقین ہے، اس بات کا اندازہ بھی اس کے افسانے پڑھ کر بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔
موراکامی کے افسانوں کا ’’تھیم‘‘ یا پلاٹ ہمارے ادیبوں سے یکسر مختلف ہے۔ موراکامی بھی بھوک اور غربت کی بات کرتا ہے، لیکن اس کے لیے وہ ہمیں کسی غریب کی جھونپڑی میں نہیں لے کر جاتا، بلکہ وہ اپنے کسی عام سے کردار کی نارمل حالات میں بھوک کی انتہا دکھاتا ہے۔ یہ بھوک کی انتہا اتنی شدید ہوتی ہے کہ افسانہ پڑھتے پڑھتے ہم خود بھوک کی انتہا کو محسوس کرنے لگتے ہیں۔
موراکامی آج کل کی ’’اربن لائف‘‘ سے تنگ ہے۔ اسے قدرت سے پیار ہے اور وہ اسی کے قریب رہنا چاہتا ہے۔ تبھی وہ اپنے افسانوں میں جگنوؤں کا ذکر کرتا ہے۔ صبح اور رات کے سمے لمبی ’’واک‘‘ کی یاد تازہ کرتا ہے۔ گھر رہ کر ریکارڈر پے ’’اوپیرا‘‘ سننے کو ترجیح دیتا ہے۔ آج کل کی تیز رفتار الیکٹرانکس سے بھری زندگی میں جب ہم موراکامی کے کرداروں کو اس الیکٹرانک لائف سے آزاد دیکھتے ہیں، تو دل میں کہیں ایک بار یہ خواہش ضرور جنم لیتی ہے کہ کاش! ہم بھی پُرسکون زندگی کی طرف واپسی کرسکیں۔
ایک چیز جو موراکامی کے افسانے پڑھ کر شدت سے محسوس کی وہ ہے انتظار…… !
موراکامی کے ان بارہ افسانوں میں کہیں نہ کہیں، کسی ایک کردار کا ہر لمحے کے ساتھ شدید ہوتا انتظار……! کبھی محبوب کا اپنی محبوبہ کے لیے انتظار…… کبھی اربن لائف سے تنگ شخص کا اپنی پرانی زندگی میں لوٹنے کا انتظار اور کبھی بھوک سے تڑپ جانے والے کا اپنے ’’سٹیک ہیم برگر‘‘ کا انتظار ……!
پڑھنے میں شاید یہ باتیں عام سی لگی ہوں بلکہ یقینا لگی ہوں گی لیکن جیسے موراکامی ان حالات کو کاغذ پر اتارتا ہے، یہ چھوٹے چھوٹے عام سے واقعات بہت بڑے اور اہم لگنے لگتے ہیں۔ وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کو ڈیٹیل سے بتانے پر یقین رکھتا ہے۔ وہ جگنو کا ذکر کرے گا، تو وہ ضروری سمجھے گا کہ قاری کے لیے یہ معلومات فراہم کی جائیں کہ یہ جگنو اصل میں کہتے کس بلا کو ہیں؟
موراکامی اپنے افسانوں میں ہمیں یاد دلاتا رہتا ہے کہ وہ ایک جاپانی ادیب ہے۔ وہ اپنے ہر افسانے میں بار ہا جاپان کا، اس کے مختلف شہروں اور شاہراہوں کا اور جاپانی کھانوں کا ذکر کرتا نظر آتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہر ادیب کو اپنی کہانیوں، افسانوں اور ناولز میں یہ سلسلہ رکھنا چاہیے۔ یہ اپنے ملک سے محبت کا اظہار بھی ہے اور قاری کے لیے اپنے ملک سے ایک دلچسپ تعارف کا ذریعہ بھی۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔