تحریر: اُسامہ رضا
یوں تو ذہنِ انسانی کوئی قابلِ تقسیم چیز نہیں، نہ اس کا کوئی طبعی وجود ہی ہوتا ہے…… لیکن فرائڈ نے ذہنِ انسانی کے افعال کی توجیہ و توضیح کے لیے اس سکو تین حصوں میں منقسم کیا ہے:
٭ شعور (Conscious Mind)
٭ تحت الشعور (Sub-conscious Mind)
٭ لاشعور (Unconscious Mind)
٭ شعور:۔ شعور سے مراد انسانی ذہن کا وہ حصہ ہے جو زمان و مکاں کی خبر فی حال مہیا کرتا ہو۔ مثال کے طور پر اگر کسی کھانا کھاتے ہوئے شخص سے استفسار کیا جائے کہ وہ اس وقت کیا کر رہا ہے؟ تو وہ فوراً کہے گا کہ کھانا کھارہا ہوں۔ کیوں کہ یہ بات اس کے خانۂ شعور کا حصہ تھی۔ اس لیے جواب ساعتوں میں سماعتوں تک پہنچ گیا۔ خانۂ شعور میں خیالات و تجربات و مشاہدات حال سے متصل ہوتے ہیں۔
٭ تحت الشعور:۔ تحت الشعور یادوں اور معلومات کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے، جو آپ کی لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم میموری میں محفوظ ہوتا ہے…… اور سوچنے پر آپ کا دماغ وہ انفارمیشن پراسس کرکے آپ کے شعور تک لاتا ہے۔ اکثر اوقات ہمیں بھولی باتیں یاد کرنا پڑتی ہیں اور اکثر بھولی بھٹکی یادوں کا گزر ہمارے خانۂ شعور میں بھی ہوتا رہتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کوئی چیز ہمیں بھولتی ہے، تو اس بھولنے سے کیا مراد ہوتا ہے؟ کیا یہ چیز ذہنِ انسانی سے نکل جاتی ہے…… یا اس کا وجود ذہنِ انسانی کی کسی گہری پرت میں ہوتا ہے؟ چوں کہ ہمیں اکثر بھولی ہوئی باتیں یاد آجاتی ہیں، تو اس کا صاف مطلب ہے کہ وہ چیزیں بہرحال ہمارے ذہن میں موجود ہوتی ہیں…… اور طلب کی صورت میں وہ ہمیں یاد بھی آجاتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ سے پوچھا جائے کہ کل آپ نے کون سے رنگ کے کپڑے پہنے تھے، تو یقینا آپ تھوڑا سا سوچ کر اس کا جواب دے لیں گے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ بھولی ہوئی بات ہمارے من میں موجود تھی…… اور طلب و حاجت کی صورت میں اس کو شعور کے خانے میں بھی منتقل کردیا جاتا ہے۔ یاد آنے سے قبل اس کا وجود تحت الشعور میں ہوتا ہے…… اور یہ خانۂ شعور کے تحت کام سر انجام دیتا ہے۔ یہ انفارمیشن آپ کی شارٹ ٹرم میموری میں موجود تھی…… یا دوسرے معنوں میں یہ تحت الشعور میں موجود تھی، جس کو آپ کے سوچنے سے شعوری احاطے میں داخلے کی اجازت ملی۔ یہ معلومات آپ کے صحنِ شعور میں نمودار ہوگئیں۔ تحت الشعور میں غیر ضروری اور غیر اہم باتوں کو شعور سے نکال کر اکٹھا کردیا جاتا ہے اور بوقتِ ضرورت ان کو طلب بھی کیا جاسکتا ہے۔
٭ لاشعور:۔ ذہن کی عمیق ترین تہہ جہاں تحت الشعور سے رد کردہ یادیں، خیالات، تجربات اور مشاہدات کو عمر قید کی سزا سنا کر لاشعور کے زِندانوں میں پابندِ سلاسل کیا جاتا ہے۔ بچپن سے لے کر مرنے تک کے تمام معاملات اس خانۂ لاشعور میں رکھے جاتے ہیں۔ ذہن کی یہ عمیق ترین تہہ شعور سے تحت الشعور اور تحت الشعور سے دھکیلی ہوئی یادوں خوف و اوہام سے لے کر انسانی ذہن سے منسلک ہر شے کو جمع رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر ہم آج سے پانچ سال پہلے شام کے چھ بجے کہاں اور کیا کر رہے تھے؟ اس سوال کا سارا جواب اور ماضی کا سارا حال احوال ہمارے شعور و تحت الشعور سے نکل کر خانۂ لاشعور میں آچکا ہوتا ہے۔ اس لیے لاکھ یاد کرنے پر بھی یہ ہمیں یاد نہیں آئے گا۔ کیوں کہ شعور کی روشنی کبھی لاشعور کے تاریک ایوانوں میں نہیں پہنچتی۔ اسی طرح کے بھولے بھٹکے واقعات اور یادیں ہمارے خانۂ لاشعور کا حصہ ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ خوابوں کا تعلق بھی لاشعور سے ہوتا ہے۔ لاشعور میں آپ کی زندگی کی ساری یادیں جو آپ کا شعور اور تحت الشعور رکھنے سے قاصر ہے، وہ اس احاطۂ شعور میں جمع ہوتی رہتی ہیں۔ لاشعور میں آپ کی ساری خواہشات، پریشانیاں اور احساسات جو کبھی کسی ساعت پے کبھی آپ کی زیست کا جز رہے تھے، جس کو آپ بھلا چکے ہیں، وہ ساری چیزیں آپ کے لاشعور میں رہتی ہیں ۔
فرائڈ ذہنِ انسانی کی تقسیم کے بعد انسانی شخصیت کو بھی تین حصوں کا مجموعہ قرار دیتا ہے…… اور انسانی شخصیت بنیادی طور پہ تین اجزا کا مجموعہ ہے جسے فرائڈ ’’اڈ‘‘ (ID)، ’’ایغو‘‘ (Ego) اور ’’سپر ایغو‘‘ (Super Ego) کہتے ہیں۔
انسانی شخصیت کی ساخت کی تشکیل انہی اجزا کی مرہونِ منت ہے…… جب کہ شخصیت کے توازن کے لیے ان تینوں اجزا میں ایک مخصوص توازن ہونا لازمی ہے۔ بصورتِ دیگر طبیعت و مزاج یا شخصیت، نفسیاتی عارضوں کے گرداب میں پھنس جاتی ہے…… جس سے زندگی کی مستعدی و فعالیت میں بتدریج کمی واقع ہوتی رہتی ہے ۔
٭ اڈ:۔ اڈ (ID) کا تعلق لاشعور سے ہے۔ یوں تو روزمرہ کے معاملات و تجربات و خیالات کا حصہ شعور سے تحت الشعور یا لاشعور کے زِندانوں میں چلا جاتا ہے، جسے مخصوص طریقے سے شعور کی سطح پر لایا جاسکتا ہے، جب کہ لاشعور کا ایک ایسا جبلی اور سرشتی حصہ ہوتا ہے جسے فرائڈ "Primary Unconsciouss Mind” کہتا ہے، جس کا اظہار کسی طور بھی شعور کی سرزمین پر نہیں ہوتا۔ اسی کو فرائڈ ’’اڈ‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ ’’اڈ‘‘ بنیادی طور پر لذت و انبساط، خوشی و مسرت اور سکون و راحت کے حصول کے لیے انسان کو محرک کرتی ہے۔ ’’اڈ‘‘ کے اجزائے ترکیبی طبعی رجحانات، جنسی و جبلی معاملات کے ساتھ ساتھ لذتوں اور راحتوں کا حصول ہوتا ہے۔ ’’اڈ‘‘ کی دنیا میں نہ تو کوئی اخلاقیات کی روک تھام کا گزر ہوتا ہے، نہ کوئی منطق، نہ اصول اس سرزمین پر قدم رکھنے کی جسارت کرسکتا ہے۔ یہ گہری وادی ذہنِ انسانی کی عمیق ترین اور تاریک ترین تہوں میں پنہاں ہوتی ہے…… جہاں نہ شعور کی روشنی پہنچتی ہے، نہ ہدایات کا نور ۔ اس خطۂ ظلمت میں اخلاقیات و قوانین سے لے کر کسی شے کی تمیز و تخصیص کا نظام موجود ہوتا ہے۔ اس سرزمین پر صرف ایک ہی قانون ہے اور وہ ہے لذت و راحت کا حصول…… وہ بھی فوری۔ اس کے علاوہ دکھ، درد اور تکلیف سے احتراز اور وہ بھی ہر قیمت پر۔ ’’اڈ‘‘ کو یہ پروا نہیں کہ لذت و راحت کا ذریعہ صحیح ہے یا غلط…… اس کو بس لذت و راحت حاصل کرنا ہوتی ہے…… اور اگر باقی اجزا کی فعالیت کی وجہ سے لذت و راحت کا حصول ممکن نہ ہو، تو ’’اڈ‘‘ لاشعوری تحریک کے تحت اس لذت کو خوابوں میں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے…… اور عجب سپنوں کا سنسار تخلیق کر کے ایک برم (Illusion) کی دنیا تخلیق کرکے اپنے مقاصد کی تکمیل ضرور کرلیتا ہے۔
ماہرِ نفسیات سگمنڈ فرائڈ کے مطابق خواب مخفی آسودہ خواہشات کی جزوی تکمیل کام کرتے ہیں۔ خواب ہزاروں رنگ کی مختلف خواہشوں کی قبا اوڑھ کے خوابوں کے روپ میں ڈھلتے ہیں۔ یہ ہماری خواہشات کی ایک غیر حقیقی دنیا کو حقیقت کا رنگ دے کر اس سے لذتیں اور مقاصد جزوی طور پر اخذ کرکے انسان کو سکون و قرار کی پُرمسرت فضاؤں میں محوِ رقص رکھتے ہیں، تو دوسری طرف انسان کے خوف و گھبراہٹ کے احساسات اور مخفی پریشانیوں کو اصلیت کا لبادہ پہنا کر خوابوں کی دنیا میں نمودار کرواتے ہیں، تو کسی نہ کسی طرح انسان کے اندر مخفی اور مضمر ارمانوں کی تکمیل کرتے ہیں…… جیسے کنوارے کو شادی کے خواب اور بلوغت کی عمر میں پہنچے ہوئے نوجوانوں کو جنسی عمل کے خواب آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جوان لڑکے کو جب جنسی میلان کی ضرورت ہوتی ہے، تو اس کی وجہ لاشعور میں سرگرم عمل قوت ’’اڈ‘‘ ہوتی ہے، جسے حصولِ لذت سے سروکار ہوتا ہے۔ اگر ذرایع لذت یا جنسی میلان وقت کے دایرے میں ممکن نہ ہوں، تو اس لاشعوری جذبے کا اظہار خوابوں میں جنسی میلان کی صورت میں ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جوان لوگوں کی راتیں اکثر جنسی میلانات کے سپنوں سے مزین ہوتی ہیں۔ اسی طرح بہت سے ایسے جذبات کا اظہار خوابوں کی بجائے حقیقی زندگی میں ہوجاتا ہے، جو انتہائی لغو اور بے بنیاد اور بے معنی سے لگتے ہیں…… لیکن اگر انہیں لاشعور یا ’’اڈ‘‘ کے تناظر میں دیکھا جائے، تو بات منطقی اور صاف ہوجاتی ہے۔ نفسیاتی عارضے بھی دراصل اسی لاشعوری قوتوں کی دین ہوتے ہیں۔ ماہرِ نفسیات ذہنی عارضوں سے نبٹنے کے لیے عموماً تحلیل النفسی کا اطلاق کرکے بیماری کے پس منظر کو کھنگالتے ہیں۔ اسی طرح بھوکوں کو کھانے کا خواب آنا بھی لاشعوری قوتوں کے تحت ہوتا ہے۔ یوں تو لاشعور کا خارجی دنیا سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا، لیکن عضویہ کا لاشعور سے ایک خاص رشتہ ہوتا ہے جو خالصتاً نیوروسائنسی موضوع ہے۔ جیسا کہ اگر کسی کے پاؤں میں کوئی کانٹا چبھ جائے، یا کوئی گرم چیز لگ جائے، تو یک دم پاؤں کا اُٹھ جانا یا ہاتھ کا پیچھے آجانا لاشعوری قوتوں کے تحت ہوتا ہے، جس میں سوچ کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ ’’اڈ‘‘کے زیرِ اثر تشکیل پانے والی شخصیات جن میں ’’اڈ‘‘ زیادہ فعال اور مستعد ہوتی ہے…… عموماً غیر اخلاقی اور عصمت گری کے واقعات میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ وہ اپنے جذبۂ لاشعوری کے تحت جنسی میلانات کے لیے کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔ اسی طرح مجرموں میں ’’اڈ‘‘ کی قوت زیادہ متحرک ہوتی ہے، جو ان سے مختلف غیر قانونی اور غیر اخلاقی اعمال کروا لیتی ہے…… یا اس بات کو لکھنے کا درست طریقہ یہ ہوگا کہ یہ ’’اڈ‘‘ ہی کی سرکش قوتیں ہوتی ہیں، جو انسانوں کو مجرموں کے روپ میں بدل دیتی ہیں۔
٭ ایغو:۔ ’’اڈ‘‘ کی سرکش قوتیں اگرچہ حصولِ راحت و لذت اور درد و الم سے احتراز و رفع کے لیے سرگرمِ عمل ہوکر عضو کو حصولِ مقاصد کے لیے محرک کرتی رہتی ہیں، لیکن یہ انسانی بقا کی ضمانت کسی طور نہیں۔ فطرت نے ’’اڈ‘‘ جیسی غیرمتغیر اور اندھی قوتوں کے سوا ’’ایغو‘‘ (Ego) جیسی عرفانی قوتیں بھی مرکب ذہنِ انسانی میں مضمر رکھی ہیں۔ ’’ایغو‘‘ حالات و واقعات اور علم و عرفان سے لیس قوت ہوتی ہے…… جو ہر چیز کا فیصلہ سوچ بچار اور تفکر و تعقل سے کرتی ہے…… جب کہ ’’اڈ‘‘ کا کام صرف حصولِ مقصد ہوتا ہے۔
’’ایغو‘‘ ذہنِ انسانی میں ’’قوتِ اڈ‘‘ کے تحت تشکیل پانے والی خواہشات کو تھامنے اور موخر کرنے کا کام کرتی ہے۔ مثال کے طور پر ’’اڈ‘‘ کا کام فطرتی خواہشات کا اظہار ہے، جیسے کسی کو بھوک کا لگنا ہے…… اور وہ بھوکا شخص بھوک کو مٹانے کے لیے ہوٹل کی طرف چل پڑتا ہے…… جب ہوٹل پر پہنچتا ہے، تو کیا دیکھتا ہے کہ ہوٹل ابھی بند ہے…… جب کہ اس کو بھوک بھی مٹانی ہے…… اور حصولِ سکون کے لیے لاشعور میں چھپی ’’اڈ‘‘ اس کو مجبور کرے گی کہ بس کھانے کا انتظام ہو۔ اگر صرف یہی قوت غالب رہے، تو بھوکا شخص ہوٹل توڑ کے اس کے اندر موجود کھانے سے حصولِ لذت و راحت حاصل کرے…… یا کسی سے خوراک چھین کر اپنی بھوک مٹالے۔ یہی وہ مجرمانہ رویہ ہے جس کو تحریک ’’اڈ‘‘ دیتی ہے…… جب کہ یہاں ذہنِ انسانی میں موجود اعتدال پسند قوت اس کی بھوک کو موخر کردے گی…… اور خیالات کو جنم دے گی کہ کچھ دیر انتظار کرلو یا کسی اور ہوٹل کا رُخ کر لو…… یعنی ’’ایغو‘‘ توقف و موخر کرکے معاملات کو پیچیدہ ہونے سے بچاتی ہے۔ ’’ایغو‘‘ منصوبہ بندی اور علم و حکمت کے ساتھ ساتھ مصلحت پسندانہ رویوں کا سرچشمہ ہوتی ہے۔ یہ جبلی خواہشات کو اس احسن طریقے سے ترویج و تکمیل کے ادوار سے گزارتی ہے کہ اخلاقی ضابطے بھی پامال نہیں ہوتے…… اور خواہشات بھی مکمل ہوجاتی ہیں۔ جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے ’’ایغو‘‘ محبت کی چال چلتا ہے…… اور اس خوب صورتی سے نہ صرف محبوب کو دھوکا دیتا ہے…… بلکہ از خود اس شخص کو بھی دھوکے میں رکھ کر جنسی خواہشات کی تکمیل کرتا ہے ( محبت کے نظریے کا تفصیلی ذکر آگے کیا جائے گا )۔ ’’ایغو‘‘ ہمیشہ ’’اڈ‘‘ کے سرکش و باغی گھوڑوں پر لگام کا کام کرتی ہے، اور ’’اڈ‘‘ کی اندھی خواہشات کا رُخ متعین کرنے کے ساتھ ساتھ منصوبہ بندی اور معاملہ فہمی سے خواہشات کی تکمیل کا کام کرتی ہے۔ ’’اڈ‘‘ جنم سے لے کر موت تک غیر متبدل اور غیر متغیر رہتی ہے…… جب کہ ایغو میں بتدریج ارتقا ہوتا رہتا ہے۔
’’اڈ‘‘ اور ’’ایغو‘‘ جیسی قوتوں کے ساتھ ساتھ ذہنِ انسانی میں نشوو نما پانے والی تیسری بڑی قوت جس کا کام اخلاقی اصولوں کو متعین کر کے اس پر عمل پیرا ہونا ہوتا ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو بچپن سے ذہنِ انسانی میں تشکیل پانا شروع کردیتی ہے جس کی تشکیل میں بڑا کردار اردگرد کے ماحول اور معاشرے کی روایات کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک مذہب کا ہوتا ہے۔ان دو قوتوں کی لڑائی میں ’’ایغو‘‘ ثالثی کا کردار ادا کر کے معاملات کو تعقل و تفہیم سے حل کرتی ہے۔ جزا و سزا کے معاشرتی و مذہبی تصورات اور صحیح و غلط کے نظریات ’’سپر ایغو‘‘ (Super Ego) کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
بچپن میں والدین سے منتقل ہونے والا اچھائی و برائی کا تصور ذہنِ انسانی کا حصہ بن جاتا ہے۔ نومولود گزرتی زندگی کے ساتھ ساتھ اچھائی برائی کے ان تصورات کو ذہن پر وارد کرلیتا ہے۔ یہ وہ تصورات و نظریات ہوتے ہیں جو عموماً برے کاموں سے منع اور اچھائی کی طرف راغب کرتے ہیں۔ قطعِ نظر اس کے کہ اچھائی و برائی کی تعریف ہر معاشرے اور ہر مذہب کی اپنی طے کردہ ہوتی ہے۔ سپر ایغو اصل میں وہ آواز اور قوت ہوتی ہے، جسے ضمیر کی آواز کہا جاتا ہے۔ جیسے درجِ بالا مثال میں بھوکے کو اپنی بھوک مٹانے کے لیے اگر کسی شخص سے روٹی چھین کر کھانی پڑ جائے، تو ’’اڈ‘‘ کو اس سے کوئی سروکار نہیں…… جب کہ ’’سپر ایغو‘‘ اس کو اس مکروہ کام سے روکے گی…… اور کہے گی کہ بھوک برداشت کرلو…… لیکن کسی سے چھیننا اچھی بات نہیں۔ یہ قوت ہمیشہ ’’اڈ‘‘ کے متضاد سرگرمِ عمل رہتی ہے۔ ’’اڈ‘‘ اور ’’سپر ایغو‘‘ کے درمیان ہمیشہ جنگ و جدل کا ماحول رہتا ہے۔
’’سپر ایغو‘‘ کی تشکیل میں ہر وہ فرد جس کے زیرِ تحکم اور زیرِ اثر بچہ کسی نہ کسی دور میں رہا ہو، کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اچھائی اور برائی کا جو تصور والدین، ماحول یا معاشرے سے ذہنِ انسانی میں راسخ ہوتا ہے…… اور والدین جن کاموں سے بچوں کو ٹوکتے ہیں…… یا عقاید سے پیوستہ تصورات جن چیزوں سے منع کرتے ہیں…… وہ تصورات و نظریات ذہنِ انسانی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اب اگر والدین مختلف معاملات سے ٹوکنے کے لیے موجود ہیں…… یا نھیں، اس کے ذہن میں موجود ’’سپر ایغو‘‘ کی قوت اسے برائی سے روکنے کے لیے پیش پیش رہے گی…… اور جب کبھی ’’اڈ‘‘ اسے برے کاموں کی طرف حصولِ لذت و راحت یا احتراز درد و الم کے لیے مجبور کرے گی۔ ’’سپر ایغو‘‘ کی قوت اسے برے کام سے روکنے کے لیے فعال ہوجائے گی۔ ’’اڈ‘‘ خواہشات کی فی الفور تکمیل اور اچھائی و برائی کی تمیز و تخصیص کے بغیر کرنے پر اصرار کرتی ہے، جب کہ ’’سپر ایغو‘‘ ایسی جبلی خواہشات کی نفی کرتی ہے اور ایسے جذبات کو دبانے پر اکتفا کرتی ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔