تحریر: سید خیال مہدی 
پرانے وقتوں میں جب کوئی مشکل کام شروع کرتا، تو اپنے فرضی خدا سے مدد مانگتا۔ آج مَیں نے بھی خود سے بڑا معما شروع کیا ہے۔ اب بڑھتے ہیں پروردگار کے نام سے اور سورج کو چراغ دکھانے کی حماقت کرتے ہیں۔
رجنیش کہتا ہے، میری لائبریری میں ہزاروں کتابیں تھی…… مگر جب میرا اپنا آپ مجھ پہ آشکار ہوا، تو سب کی سب بے سود تھیں مگر "The book of mirdad” (کتاب میر داد) نے اپنا مقام قایم رکھا ۔
وہ کہتا ہے کہ اس کتاب کو ہزار سے زاید مرتبہ پڑھنا چاہیے۔
یہ کتاب 1948ء میں چھپی…… مگر کچھ پابندیوں کا سامنا ہوا اور پھر بعد میں اسے دوبارہ مارکیٹ میں لایا گیا۔ 1973ء میں اس کا عربی میں ترجمہ ہوا ۔
جن دوستوں کی انگریزی اچھی ہے، وہ قطعاً اُردو ٹیکسٹ کی طرف نہ بڑھیں، وہ اس کے اصل ٹیکسٹ کی طرف جائیں…… مگر جو اُردو ترجمہ دیکھنا چاہتے ہیں، وہ بھی موجود ہے۔
قارئین! مَیں ہر گز تبصرہ نہیں لکھ رہا اور نہ اس کے قابل ہی ہوں کہ جس کا مصنف اتنی جرات کرکے کہتا ہے کہ اس کتاب کا وہ حصہ ختم ہوا جس کی اشاعت کی مجھے اجازت ہے…… جہاں تک باقی کا تعلق ہے، اس کا وقت ابھی نہیں آیا۔
اب کتاب سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو: ’’زماں کا پہیہ مکاں کی خلاں میں گھومتا ہے۔ وہ سبھی چیزیں جنہیں حواسِ خمسہ محسوس کرسکتے ہیں…… زماں کے محیط پر قام ہیں۔ حواسِ خمسہ ایسی کسی بھی چیز کو محسوس کرنے کے ناقابل ہیں جو زماں و مکاں کے کسی مخصوص نقطہ پر معدوم ہوتی رہتی ہے…… جو کسی ایک کے لیے زماں اور مکاں کے کسی مخصوص نقطہ پر معدوم ہو جاتا ہے۔ دوسرے کے لیے کسی خاص نقطہ پر ظاہر۔‘‘
میخال نعیمی کا یہ ناول 2015ء میں محبوب تابش نے ترجمہ کیا۔ مَیں صرف یہی رائے دیتا ہوں کہ واحد کتاب جو میں تب بھی پڑھتا ہوں…… جب زیادہ خوش ہوتا ہوں اور اداس ہوں تب بھی۔ یہ ’’میرداد‘‘ اور اس کے چند ساتھیوں کی کہانی ہے جو کہ حضرت نوحؑ کی کشتی پہ پروان چڑھتی ہے اور روحانیت کے بابوں میں ایک بہترین باب ہے۔ یہ ان 9 لوگوں کا مکالمہ ہے جو کشتی کے رہنے والے ہیں۔ اگر آپ خود سے دور ہیں، تو اسے دیکھیں۔ یہ بے چین دل اور پیچیدہ دماغ رکھنے والوں کے لیے آفاقی تحفہ ہے۔
قارئین! آئیے ایک اور اقتباس سے لذت لیتے ہیں:’’دعا کے لیے تمھیں کسی ہونٹ یا زبان کی ضرورت نہیں۔ہاں! اگر ضرورت ہے، تو ایک خاموش باخبر دل کی، ایک اعلا خواہش، ایک اعلا خیال کی اور سب سے اہم ایک اعلا قوتِ ارادی کی…… جو نہ تو شبہات میں الجھتی ہے…… نہ کہیں ہچکچاتی ہے۔ کیوں کہ الفاظ اگر ان کے اعراب میں دل موجود نہ ہو اور وہ دھڑک نہ رہا ہو، بے معنی ہوتے ہیں…… اور جب دل موجود ہو اور دھڑک رہا ہو، تو زبان کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ بے فکر ہوکر سو جائے…… یا مہر بستہ لبوں کے پیچھے چھپ جائے۔جس کو اپنے دل میں عبادت گاہ نہیں ملتی…… اس کو کسی بھی عبادت گاہ میں اپنا دل حاضر نھیں ملتا۔‘‘
قارئین! مَیں کی کاپیاں خرید چکا ہوں اور بڑے عرصے سے اس کی طرف راغب کرنا چاہتا تھا، مگر الفاظ نہیں کہ تبصرہ لکھتا۔ سوچا ان سطور کی شکل میں مشورہ تو دے دوں۔
وقت نکالیے…… اور میرداد سے ملیے!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔