بحیثیتِ ناول نگار، ترجمہ کار اور مدیر،خالد فتح محمد اپنے فن پہ داد پا چکے ہیں۔ وہ اکیسویں صدی کے ناول نگاروں میں اپنے کام کے عمودی و افقی پھیلاو میں نمایاں تر ہیں۔ ان کے فکشن کی موضوعی زمرہ بندی کی جائے، تو انھیں بائیں بازو کے لکھاریوں میں شمار کیا جائے گا۔ عام آدمی کے مسایل، عام آدمی کی محبتیں، عام آدمی کی نفسیات، عام آدمی کی جدوجہد، ’’خاص‘‘ آدمی کی درندہ صفتی، اس سے پھوٹنے والی ناانصافی اور سماج پر اس کے گھناونے اثرات ان کے خاص موضوعات ہیں…… مگر یہ مصنف ان مسئلوں کو، بائیں بازو کے بہت سے دوسرے معمولی کہانی کاروں کی طرح، نعرہ یا پروپیگنڈا محض بنانے کے رسیا نہیں۔ وہ ہر بڑے فن کار کی مانند فن کارانہ پیش کش کے قایل ہیں۔ یہی چیز انھیں اپنے چند ہم عصر بڑوں کے برابر بٹھائے ہوئے ہے۔
مصنف کے اب تک شایع ہونے والے آٹھ ناول، پانچ ناولوں کے تراجم اورپانچ افسانی مجموعے رواں صدی کے کسی فکشن نویس کی نظر سے اوجھل نہیں!
’’مَیں‘‘ خالد فتح محمد کا چھٹا افسانی مجموعہ ہے ! اس میں کل 18 افسانے ہیں۔ زیادہ تر ملک کے ادبی جراید میں پچھلے چھے سات برسوں کے دوران میں چھپ چکے۔ دیکھا جائے، تو یہ افسانے ایک منجھے ہوے فکشن نگار کے قلم سے تب وجود پزیر ہوئے ہیں، جب اس کا فکشنی وقت اپنے جوبن پہ ہے۔ اس لحاظ سے مصنف کے پڑھنے والوں کاان افسانوں سے جہازی توقعات باندھند لینا ایسا بے جا نہ ہوگا۔
کتاب کے پہلے دس افسانے، بالخصوص ’’خلا‘‘، ’’دھنک‘‘،’’ہم وہاں ہیں جہاں……‘‘، ’’جو چلے تو‘‘، ’’پھولوں کا تختہ اپنی فضا کاری‘‘، ’’حیران کرنے کی قوت‘‘، حقیقت پہ غیر حقیت کے اشتباہ اور تجسس انگیزی میں نئے ہیں۔ بقیہ آٹھ افسانے بھی کم یا زیادہ، ہلکے یا گہرے طور سے انھی سطور پہ تخلیق کیے گئے ہیں۔خلا کا ’’میں -راوی‘‘ محض ایک جھلک دیکھی ہوئی ایک دوشیزہ کو اپنے صحن میں لگے املی کے ’’مادہ پودے‘ ‘ میں تلاشتا ہے اور ایک حدتک اسے اس پودے میں پا بھی لیتا ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ یہ افسانہ اس ظاہری کہانی سے الگ بھی کہیں رواں ہے؛ راوی کے لاشعور میں؟ قاری کی تفہیم میں؟ قاری کی الجھن میں؟ کردار کی جھنجھٹ میں یا سب میں!
’’ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم……‘‘ کا مرکزی کردار ایک عجب سوچ میں غلطاں ہے۔ بوریت اور یکسانیت کو کندھوں پہ لادھے وہ جی ہی جی میں سوال کررہا ہے کہ وہ کون سا سوانگ بھرے جس سے وہ نامعلوم الجھن سے چھٹکارا پائے۔ وہ شرابی بن جائے؟ چرسی کا روپ دھار لے؟ سادھو بن جائے؟بھکاری بنے یا پھر ’’گے‘‘ (Gay) بن کرجینے لگ جائے؟کہانی آگے بڑھتی ہے، تو قاری پہ کھلتا ہے کہ اس پریشانی اور الجھاو کا سبب کیا تھا۔
’’مَیں‘‘ پر مفصل اظہار کا یہ محل نہیں۔اتنا عرض کرنا ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں چھپنے والے معروف لکھاریوں کے افسانوی مجموعوں میں یہ کتاب ایک نمایاں اضافہ ہے۔
کتاب کو لاہور کے عکس پبلشرز نے چھاپا ہے۔ قیمت حسبِ طمع چھے سو روپے رکھ چھوڑی ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔