تحقیق و تحریر: احمد سہیل
خدیجہ بیسکری (Khadija Besikri) کی ولادت 12 جنوری 1962ء کو بن غازی، لیبیا میں ہوئی۔ وہ لیبیا کی ایک شاعرہ، مصنفہ اور انسانی حقوق کے کارکن کی حیثیت سے جانی جاتی ہیں۔
خدیجہ بیسکری نے 2017ء میں ایک مہم شروع کی تھی جب انھوں نے بن غازی اور اس کے ماحول کے نوجوانوں میں پڑھنے کو فروغ دینے کے لیے اپنی تجویز بن غازی کے ثقافتی دفتر میں جمع کرائی۔ ان کا پروگرام 4 سے 18 سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے تھا۔
خدیجہ نے بن غازی میں ’’شارٹ اسٹوری لیب ایونٹ‘‘ میں بھی شرکت کی…… جس میں ایسی نظمیں پیش کی گئیں جن کے موضوعات لیبیا میں خانہ جنگی سے متعلق تھے…… جس میں ان کی حساس مزاج اور فطرت بہت گہری تھی۔ ان نظموں میں لیبیا کی خانہ جنگی اور نظریات کے تصادم کا بڑا منطقی اور حساس اظہار دکھائی دیتا ہے…… جس میں اُسلوب کا جداگانہ تجربہ اور ابلاغ کی تکنیک اُفقی اور عمودی سمتوں میں سفر کرکے کیا…… جو جدید حسیت کی شاعرانہ اُفق کی تذئین کرتی ہے۔ ان کی شاعری کا بنیادی نکتہ عقل کا قبل از ادراکِ زندگی ہے۔
خدیجہ کی نظموں میں تخلیق کی گہرائیوں میں وہ بڑی مہارت سے اترتی ہیں…… جو اصل میں انکشاف ہوتا ہے۔ ان کی نظموں میں وجدان کی مسرت اور اداسی بیک وقت حاوی ملتی ہیں…… جو خالصتاً معنوی اور ماورائی حواس سے متعلق ہے، جس میں معاشرتی حرکتِ کار ایک معروضی جمالیات کو خلق کرتی ہے…… جس میں ان کے شاعرانہ مفاہیم (عقلی اور منطقی) کا عنصر موجود ہوتا ہے۔
خدیجہ کا شاعرانہ لسانی اظہار اپنا انفرادی اور منفرد طرز تخلیق کرتا ہے۔ ان کی نظموں میں فلسطینی کرب، اسرائیلی کا جابرانہ تسلط، اپنے ملک کے آمرانی حاکمیت کے خلاف احتجاج اور مزاحمت کے علاوہ غلامی اور عورتوں کی بے حرمتی کا شدید احساس نمایاں ہے۔
خدیجہ بیسکری نے ’’نیشنل آرگنائزیشن آف دی ویمن آف دی ایمیزون‘‘ کی بنیاد رکھی…… جو خواتین کے حقوق سے متعلق ایک غیر منافع بخش اور غیر سرکاری تنظیم ہے۔ اس نے بہت سی خیراتی سرگرمیاں شروع کیں…… اور 2011ء کی خانہ جنگی کے دوران میں انقلابیوں کی جانب سے چندہ اکٹھا کیا۔ اس کی تنظیم نے بے گھر خاندانوں کی بحالی میں بھی مدد کی۔ مارچ 2016ء میں اس نے ’’بن غازی میڈیکل سینٹر‘‘ کا دورہ کیا…… اور عبوری حکومت اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بن غازی میں طبی سہولیات فراہم کرنے میں مدد کریں اور زخمیوں اور بیماروں کے علاج میں مدد کے لیے طبی خدمات کی فراہمی کو تیز کریں۔
خدیجہ بیسکری کا نام دنیا کی چند بااثر تعلیمی اُمور، انسانی صحت و بہبود اور پُرجوش خاتون کی فہرست میں گنا جاتا ہے۔ معاشرتی ذرایع ابلاغ پر وسیع پیمانے پر رسائی کے ساتھ خدیجہ ایک غیر معمولی اور مشہور متاثر کن شخصیت ہیں۔ وہ اکثر اپنے ڈھیر سارے مداحوں کے حلقے کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے بات چیت کرتی ہیں۔ ساتھ ہی بہت سی ذاتی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کرتی ہیں۔
اب تحریر کے اس حصے میں خدیجہ کی دو نظمیں ملاحظہ ہوں، پہلی نظم کا عنوان ہے:’’آزادی کا رنگ‘‘
انہوں نے ہمیں دہشت گردی کے بارے میں بتایا
اور انہوں نے ہمیں آزادی کے بارے میں بتایا
انہوں نے ہمیں بتایا کہ اگر ہم اپنے لیے کھڑے نہ ہوں
ہم برباد ہو جائیں گے
ہم مارے جائیں گے
تو ہم کھڑے ہو گئے
ہم نے پیروی کی
جیسے ریڈار کے بغیر جہاز
آزادی کے لیے بے مقصد بھاگا
لیکن طریقے…… اوہ بہت مختلف
ہم نے امن کے حصول کے لیے ہتھیاروں کا استعمال کیا
اور محبت حاصل کرنے کے لیے نفرت
خود کو محفوظ رکھنے کے لیے اذیت
اور یہ فیصلہ کرنے کے لیے شیڈ کارڈ جو عظیم ہے
…………
اب ان کی دوسری نظم ملاحظہ ہو، جس کا عنوان ہے: ’’کیا یہی آزادی ہے؟‘‘
چلو آزادی کی بات کرتے ہیں
صرف ایک لفظ بنایا گیا ہے
سفید بادشاہی کے لیے
مجھے غلط مت سمجھو
لیکن ہر کوئی گہری دلچسپی لیتا ہے
مرگِ انبوہ (ہولوکاسٹ)کے متاثرین میں
لیکن آزادی کہاں ہے جب افریقی امریکی
اب بھی ختم شدہ غلامانہ نظام کا شکار ہیں
نازیوں نے یہودیوں پر تشدد کیا
اور ہاں……!
یہ پوری انسانیت کے لیے ذلت آمیز تھا
لیکن کالے بِک گئے
ایک ڈالر، ایک پیسا، ایک پیسا……؟
خواتین کی عصمت دری کی
اور بچوں کو غلام بنایا
انہیں افریقی سرزمین سے درآمد کرنا
جیسے وہ چیزیں محفوظ کر رہے تھے؟
لیکن ارے، انسانی حقوق اور آزادی کہاں ہے؟
صیہون روزانہ سیکڑوں فلسطینیوں کو قتل کرتے ہیں
مَیں دیکھ رہا ہوں کہ کوئی ہوائی جہاز مدد کے لیے جلدی نہیں کرتا
اب آپ دیکھتے ہیں کہ جب میں کہتا ہوں کہ میرا کیا مطلب ہے ،
آزادی صرف ایک سفید استحقاق ہے……!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔