ترجمہ: فردوس جمال
دو عورتیں قاضی ابن ابی لیلیٰ کی عدالت میں پہنچ گئیں۔ یہ اپنے زمانے کے مشہور و معروف قاضی تھے۔
قاضی نے پوچھا: ’’تم دونوں میں سے کس نے بات پہلے کرنی ہے؟‘‘
ان میں سے بڑھی عمر والی خاتون نے دوسری سے کہا: ’’تم اپنی بات قاضی صاحب کے آگے رکھو!‘‘
وہ کہنے لگی: ’’قاضی صاحب! یہ میری پھوپھی ہے۔ میں اسے امی کہتی ہوں۔ چوں کہ میرے والد کے انتقال کے بعد اسی نے میری پرورش کی ہے۔ یہاں تک کہ میں جوان ہو گئی۔‘‘
قاضی نے پوچھا: ’’اس کے بعد…… ؟‘‘
وہ کہنے لگی، پھر میرے چچا کے بیٹے نے منگنی کا پیغام بھیجا۔ انہوں نے ان سے میری شادی کر دی۔ میری شادی کو کئی سال گزر گئے۔ ازدواجی زندگی خوب گزر رہی تھی۔ ایک دن میری یہ پھوپھی میرے گھر آئی اور میرے شوہر کو اپنی بیٹی سے دوسری شادی کی آفر کی۔ ساتھ یہ شرط رکھ دی کہ پہلی بیوی(یعنی میں) کا معاملہ پھوپھی کے ہاتھ میں سونپ دے۔ میرے شوہر نے کنواری دوشیزہ سے شادی کے چکر میں شرط مان لی۔ میرے شوہر کی دوسری شادی ہوئی۔ شادی کی رات کو میری پھوپھی میرے پاس آئی اور مجھ سے کہا، تمہارے شوہر کے ساتھ مَیں نے اپنی بیٹی بیاہ دی ہے۔ تمہارے شوہر نے تمہارا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیا ہے۔ مَیں تجھے تیرے شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دیتی ہوں۔ جج صاحب میری طلاق ہو گئی۔
کچھ عرصے بعد میری پھوپھی کے شوہر سفر سے تھکے ہارے پہنچ گئے۔ وہ ایک شاعر اور حسن پرست انسان تھے۔ مَیں بن سنور کر ان کے آگے بیٹھ گئی اور ان سے کہا، کیا آپ مجھ سے شادی کریں گے؟ ان کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ انہوں نے فوری ہاں کر دی۔ مَیں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ آپ کی پہلی بیوی (یعنی میری پھوپھی) کا معاملہ میرے ہاتھ سونپ دیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ مَیں نے پھوپھی کے شوہر سے شادی کرلی اور اس کے شوہر کی وکالت کرتے ہوئے اسے طلاق دے ڈالی۔
قاضی حیرت سے: ’’پھر…… ؟‘‘
وہ کہنے لگی: ’’قاضی صاحب! کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد میرے اس شاعر شوہر کا انتقال ہوا۔ میری یہ پھوپھی وراثت کا مطالبہ کرتے پہنچ گئی۔ مَیں نے ان سے کہا کہ میرے شوہر نے تمہیں اپنی زندگی میں طلاق دی تھی۔ اب وراثت میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے۔ جھگڑا طول پکڑ گیا۔ اس دوران میں میری عدت بھی گزر گئی۔ ایک دن میری یہ پھوپھی اپنی بیٹی اور داماد (میرا سابقہ شوہر) کو لے کر میرے گھر آئی اور وراثت کے جھگڑے میں میرے اسی سابق شوہر کو ثالث بنایا۔ اس نے مجھے کئی سالوں بعد دیکھا تھا۔ مرد اپنی پہلی محبت نہیں بھولتا ہے۔ چناں چہ مجھ سے یوں مل کر اس کی پہلی محبت نے انگڑائی لی۔ مَیں نے ان سے کہا: ’’کیا پھر مجھ سے شادی کرو گے؟‘‘ اس نے ہاں کر دی۔ مَیں نے ان کے سامنے شرط رکھ لی کہ اپنی پہلی بیوی (میری پھوپھی کی بیٹی) کا معاملہ میرے ہاتھ میں دیں۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ مَیں نے اپنے سابق شوہر سے شادی کرلی اور اس کی بیوی کو شوہر کی وکالت کرتے ہوئے طلاق دے دی۔ـ‘‘
قاضی ابن ابی لیلیٰ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
کچھ وقت بعد پھر پوچھا:
’’اس کیس میں اب مسئلہ کیا ہے……؟‘‘ میری پھوپھی کہنے لگی : ’’قاضی صاحب…… کیا یہ حرام نہیں کہ مَیں اور میری بیٹی دونوں کی یہ لڑکی طلاق کروا چکی۔ پھر میرا شوہر اور میری بیٹی کا شوہر بھی لے اُڑی۔ اسی پر بس نہیں…… دونوں شوہروں کی وراثت بھی اپنے نام کر لیا۔‘‘
قاضی ابن ابی لیلیٰ کہنے لگے : ’’مجھے تو اس کیس میں حرام کہیں نظر نہیں آیا۔ طلاق بھی جایز ہے۔ وکالت بھی جایز ہے۔ طلاق کے بعد بیوی سابقہ شوہر کے پاس دوبارہ جاسکتی ہے۔ بشرط یہ کہ درمیان میں کسی اور سے اس کی شادی ہو کر طلاق یا شوہر فوت ہوا ہو…… تمہاری کہانی میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔‘‘
اس کے بعد قاضی نے خلیفہ منصور کو یہ واقعہ سنایا۔ خلیفہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے اور کہا کہ جو کوئی اپنے بھائی کے لیے گڑھا کھودے گا…… خود اس گڑھے میں گرے گا۔ یہ بڑھیا تو گڑھے کی بجائے گہرے سمندر میں گر گئی۔
(کتاب ’’جمع الجواہر فی الحُصری‘‘ سے انتخاب)
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔