تجزیہ نگار: محمد محمود (اسلام آباد)
یہ ناول دراصل ایک طرف تو پندرھویں صدی عیسوی کے فرانسیسی معاشرے کا عکاس ہے، جب وہاں کا عدالتی نظام ابھی معصوم اور مجرم کی شناخت سے نابلد تھا، تو دوسری طرف وکٹر ہیوگو نے انسانی معاشرے میں ازل سے پائی جانے والی ہوس اور محبت کے درمیان کشمکش کو بڑی خوب صورتی سے اجاگر کیا ہے۔ اُردو میں کہانی کاعنوان ’’زہریلا عشق‘‘ زیادہ بہتر لگتا ہے۔ منیر نیازی کا وہ مصرع ہے کہ
مَیں جس سے پیار کرتا ہوں اسی کو مار دیتا ہوں
کہانی کے مطالعہ کے دوران یاد آتا ہے۔ دوسری طرف مصنف نے اپنے دو کرداروں، خوب صورت جپسی لڑکی (ایمرالڈا) اور بدصورت کبڑا عاشق (قاسمیڈو)، کے ذریعے دنیا میں پائی جانے والی مادہ پرستی کو واضح کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا کو انسان کی معصومانہ خواہش اور نیک نیتی سے کوئی غرض نہیں۔ وہ تو بس ظاہر کو دیکھ کر اپنا فیصلہ سناتی رہے گی۔
قاسمیڈو کا ایمرالڈا کے ساتھ مکالمہ کا ایک ٹکڑا پیشِ خدمت ہے :
’’تم یہی سوچ رہی تھیں ناکہ قدرت نے مجھے کتنی محرومیاں دی ہیں۔ ہاں! مَیں بہرہ ہوں۔ مجھے اسی طرح بنایا گیا ہے۔ کتنی دہشت ناک بات ہے لیکن میں کیا کروں۔ میرا قصور……؟ تم کتنی خوب صورت ہو! آج سے پہلے مجھے کبھی محسوس نہیں ہوا تھا کہ میں کتنا بدصورت ہوں۔ مَیں جب تمہیں دیکھتا ہوں، تو مجھے اپنے اوپر افسوس ہونے لگتا ہے۔‘‘
وکٹر ہیوگو (Victor Hugo) کا مشہور فرانسیسی ناول "Notre-Dame de Paris” جسے انگریزی ترجمے "The Hunchback of Notre-Dame” کے توسط سے ’’نوٹرے ڈیم کا کبڑا‘‘ کے نام سے ستار طاہر نے اُردو ترجمہ و تلخیص کیا ہے۔ یہی ترجمہ فکشن ہاؤس لاہور نے ’’کبڑا عاشق‘‘ کے عنوان سے شایع کیا ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔