کوئی کام ہو یا نہ ہو…… سوشل میڈیا تو سب سے اہم کام ہوتا ہے۔ جس طرح لوگ چائے کافی کے عادی ہوتے ہیں اور وقفے وقفے سے طلب محسوس کرتے ہیں…… عین اس طرح سوشل میڈیا کی طلب بھی محسوس ہوتی ہے۔
جب سوشل میڈیا کا پہلا باضابطہ پلیٹ فارم متعارف ہوا، تو ہمیں بھی ایک دوست نے امریکہ سے فون کرکے بتایا کہ اس طرح کا ایک پلیٹ فارم لانچ ہوا ہے…… آپ بھی رجسٹر ہو جائیں۔ یوں ہم بقولِ شاعر
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
شروع میں تو بہت مزہ آتا تھا۔ نئے نئے دوست مل گئے۔ دنیا کے ہر خطے سے لوگوں سے روشناس ہوگئے۔ ان کے خیالات اور افکار جاننے کا موقع بھی ملا اور ہم اپنے خیالات ان تک بھی پہنچا نے لگے۔ یوں ایک عالم گیر برادری کے ساتھ تعلق بن گیا۔ بہت پڑھے لکھے عالموں کی باتیں سننے اور سمجھنے کا موقع بھی ملا…… اور بہت سے پڑھے لکھے جاہلوں کے افکار جاننے کا بھی شرف حاصل ہوا۔
یقین کریں کہ شروع میں سب کچھ بہت اچھا لگنے لگا…… اور تھا بھی اچھا۔ لیکن پھر اچانک فیس بک نے پاکستانی معاشرے کو لپیٹ میں لے لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل فون آگیا اور ہمیں دھڑا دھڑ ’’فرینڈز ریکویسٹ‘‘ آنے لگے۔ کچھ سکول کالج کے پرانے دوست…… کچھ نئے دوست بھی بن گئے۔ پھر پڑوسیوں کی جانب سے ریکویسٹ آنے شروع ہوگئے۔ ایڈ تو کرنا تھا…… سو ان کو بھی ایڈ کرلیا۔ اس کا یہ فایدہ ہوا کہ ہمیں پڑوسیوں کے ’’مینیو‘‘ کا روزانہ پتا چلنے لگا کہ آج کیا بنا ہے؟
ناشتے میں کیا کھایا؟ ؂
ویک اینڈ کون سے پارک میں گزاری؟
سسرال والوں کا ٹرپ کب لگا؟
الغرض…… عام سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’فیس بک‘‘، جامِ جہاں نما بن گئی۔
زیادہ تر پوسٹس تو کاپی پیسٹ والی ہوتی ہیں۔ کبھی کبھار کچھ تخلیقی پوسٹس بھی دیکھنے کو ملتی ہیں…… جن سے کچھ سیکھنے کو مل جاتا ہے۔
کچھ دوستوں کو اپنی تصویریں بہت اچھی لگتی ہیں۔ روزانہ اپنی تصاویر شیئر کرنا گویا فرضِ عین سمجھتے ہیں۔ ان کو لائیک کرنا ہماری قومی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے۔ سو ہم لائیک کرتے جاتے ہیں۔
کہیں کہیں جب کمنٹس کے بغیر کام نہیں چلتا…… تو کمنٹس بھی کرنے پڑتے ہیں۔ کسی کو "Super”، کسی کو شان دار اور کہیں ماشاء اللہ اور سبحان اللہ سے کام چلانا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں ’’فیس بک’’ کے "Emojis” بھی کافی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
کچھ حضرات نے تو فیس بک کو باقاعدہ ثواب کمانے کا بھی ذریعہ بنایا ہے۔ ہزاروں نیکیوں والی پوسٹس کو آگے شیئر کرنے کا بھی کہتے ہیں اور شیئر نہ کرنے پر عذاب سے ڈرانے کی دھمکیاں بھی ہوتی ہیں۔ جیسے تیسے کر کے اس سے بھی گزر جاتے ہیں۔
اصل مسئلہ تب آتا ہے…… جب معاملہ کسی فوتگی کے بارے میں ہو۔ روزانہ کسی نہ کسی فوتگی کی خبریں تھوک کی حساب سے لگی رہتی ہیں۔ کسی علاقے میں اگر کوئی فوت ہو جائے، تو ہمارے سارے فیس بکی بھائیوں میں ایدھی صاحب کی روح حلول کر جاتی ہے۔ ہر ٹائم لائن پر باقاعدہ فاتحہ خوانی کا اہتمام ہوتا ہے۔ اکثر اس چکر میں اصلی سوگواران رہ جاتے ہیں اور ہم کہیں اور فاتحہ پڑھ لیتے ہیں۔ جب سے فیس بک پر آیا ہوں، سب سے زیادہ کمنٹس میتوں کو دعائیں دینے کے بارے میں کیے ہیں۔
اب تو میرے فون کا "Auto Suggest” والا سسٹم بھی گڑ بڑ کرنے لگا ہے۔ کوئی بھی کمنٹ لکھنے کے ساتھ ہی ’’خدائے دی اوبخی‘‘ یا ’’اللہ مغفرت نصیب کرے‘‘ یا "Rest in Peace” جیسے جملے سامنے آتے ہیں۔
اپنے فون کو دیکھ کر ’’طالبان کا بیل‘‘ یاد آتا ہے۔ پرانے زمانے کی بات ہے کسی مسجد میں طالب رہتے تھے (اصلی یعنی دینی طالب جو پڑھتے تھے…… لڑتے نہیں تھے) عیدِ قرباں آئی، تو انہوں نے بھی قربانی دینے کا فیصلہ کیا۔ آپس میں پیسے جمع کرکے بیل خرید لیا اور مسجد کے باہر باندھ لیا۔ اب جو بھی طالب آتا، وہ بیل کا منھ کھول کے اس کے دانت چیک کرتا…… اور مطمئن ہوکے دوسرے کو موقع دیتا۔ اتنے میں نماز کا وقت ہوا۔ اب گاؤں کے لوگ مسجد آنا شروع ہوگئے۔ اب جو بھی بیل کے پاس سے گزرے، وہ بے چارہ خود ہی منھ کھول دے۔
یہی حال ہمارے فون کا ہوا ہے۔ پوسٹ کیسی بھی ہو، اس کو فاتحہ پڑھنے کی عادت ہوگئی ہے۔
دنیا کی تمام یونیورسٹیوں نے ابھی تک اتنے دانش ور پیدا نہیں کیے ہوں گے…… جتنے سوشل میڈیا نے ان چند سالوں میں پیدا کیے ہیں۔ سکول، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنا پڑتا ہے، تب جا کے کہیں پڑھانے کی باری آتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی کوئی قید نہیں۔ کوئی بھی بغیر پڑھے لکھے دانش ور بن سکتا ہے…… ماہرِ تعلیم بن سکتا ہے…… ماہرِ اقتصادیات…… دفاع…… غرض دنیا میں جتنے بھی شعبے ہیں اور جو مستقبل میں آنے والے ہیں…… ان سب کے ماہرین چٹکیوں میں حاضر ہیں۔
آپ غلطی سے کہیں اپنی کسی فرضی بیماری کا ذکر کرکے دیکھ لیں۔ اچانک ڈاکٹروں کا ایک جم غفیر آپ کو نظر آئے گا۔ آپ دنیا کے اس دعوے کو فوراً رد کردیں گے کہ پاکستان میں ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ آپ کو چند منٹ کے اندر ایسے ایسے نسخے اور گھریلو ٹوٹکے مل جائیں گے کہ آپ اپنی بیماری بھول کر ڈاکٹر بننے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے لگیں گے۔
کہیں کسی نے مکان بنانے کا ذکر چھیڑ دیا، تو آپ کو لگے گا کہ وطنِ عزیز میں تو 90 فیصد انجینئر ہیں…… اور ہم ویسے تعلیم کی کمی کا رونا روتے ہیں۔
سیاست اور اُمورِ مملکت چلانے کی بات ہو، تو آپ اس دعوے میں حق بجانب ہوسکتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگ تو ہمارے پاس ہیں…… اور اس میدان میں ہم 100 فی صد خود کفیل ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کسی تعلیمی ڈگری کی کوئی ضرورت نہیں۔ دو چار چیزیں ہیں جن کے کرنے سے بندہ فل ٹائم سپیشلسٹ بن سکتا ہے۔ سب سے اہم کام ’’کاپی پیسٹ‘‘ کرنا جس میں ہماری قوم سب سے زیادہ ماہر ہے۔ کسی کی بھی پوسٹ اٹھا کر کاپی کرلیں۔ اپنے ٹائم لائن پر لگائیں، وہ پوسٹ آپ کی۔ بس یہ خیال رہے کہ جس کی پوسٹ ہو اس کا نام غلطی سے بھی نہ آئے۔
دوسری بات یہ کہ بندے کو ڈھیٹ ہونا چاہیے۔ جب ایک بات کسی کی نقل کردی، تو کردی۔ بس اب اسی بات پر قائم رہنا ضروری ہے۔
تیسری بات یہ کہ اگر کچھ نہیں آتا، تو اپنے سیاسی مخالفین کے ٹائم لائن پر جائیں…… اور وہاں پر بلا سوچے سمجھے گالیاں لکھتے جائیں۔ یقین کریں…… جلد ہی کوئی سیاسی جماعت آپ کو گود لے کر اپنے خصوصی ہراول دستے میں شامل کرکے آپ کے نان نفقے کا بھی بندوبست کرلے گی۔ یوں گھر والوں کے طعنوں سے بھی نجات مل جائے گی…… اور آپ گالیاں دینے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لے کر ڈاکٹر بن جائیں گے۔
اس طرح مستقبلِ قریب میں پارٹی ٹکٹ ملنے کے چانسز (Chances) بھی ہوں گے۔
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔