ناولٹ ’’پے انگ گیسٹ‘‘ کا آغاز ایک اجنبی کے کراچی ایئرپورٹ پر اُترنے سے ہوتا ہے جو نیروبی سے آیا ہے۔ اُس کا نام زین العابدین ہے۔ اس کی میزبان مسز معروف اپنی چار بیٹیوں کے ساتھ اُسے ایئرپورٹ پر لینے آتی ہے۔ ساتھ اُن کا دس سالہ بھائی ٹونی بھی ہے۔
’’ماں بیٹیاں شاید اس مسئلے کو حل کر رہی تھیں۔ زین کو اُردو سمجھ میں آتی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں آتی تو بہتر ہے۔ ایک لڑکی کَہ رہی تھی۔ اس سے بڑا فایدہ رہے گا۔ زین کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ نادانستہ طور پر اُس نے یہ فقرہ سُن لیا تھا۔ وہ دل ہی دل میں ہنسا۔ غالباً خواتین اُسے افریقی نژاد سمجھ رہی تھیں۔ وہ کیا جانتی تھیں کہ وہ بھی اس شجر کا شاخسانہ ہے۔‘‘
ناولٹ کا ہیرو زین ایک قدامت پسند مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ امریکہ سے گریجویشن کرچکا ہے مگر اُس کا باپ چاہتا ہے کہ وہ پاکستان سے اسلامیات میں ایم اے کرے اور پاکستان کی طرزِ معاشرت میں رچ بس جائے، چوں کہ اُن کا پاکستان میں کوئی عزیز یا رشتہ دار نہیں…… اس لیے وہ اشتہار دیتے ہیں پے انگ گیسٹ کے لیے۔ دو چار لوگ رابطہ کرتے ہیں اور حتمی بات مسز معروف کے ساتھ ہوتی ہے۔
’’السلام علیکم! زین نے آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا۔ ’’وعلیکم السلام! مزاج تو اچھے ہیں!‘‘ مسٹر معروف نے پوچھا۔ ’’جی بالکل! آپ کی نوازش ہے۔‘‘ زین کے منھ سے اُردو کا صحیح فقرہ سن کر ماں بیٹیوں کی تقریباً چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ ہائے وہ تو سمجھ رہی تھیں کہ اجنبی کو اُردو بالکل نہیں آتی ہوگی اور وہ اپنی انگریزی کا رُعب جما جما کر اُس کو اُلو بنائیں گی۔ اور پھر شرمندہ بھی تھیں کہ کس طرح و ہ کار میں اس کے متعلق آزادی سے تبصرہ کرتی آئی ہیں۔ ضرور اُس نے وہ ساری باتیں سمجھ لی ہوں گی۔‘‘
زین، مسز معروف کے گھر میں پہنچ چکا ہے جہاں اُسے بڑی اپنائیت ملی ہے جو وہ چاہتا تھا۔ کیوں کہ اُس نے پاکستان کے اندر خاصا وقت گزارنا ہے۔
’’ضرورت کی ہر شے آپ کو ملے گی۔ اگر کسی اور چیز کی ضرورت ہو، تو یہ گھنٹی بجا دیں۔ یہ ملازمہ کے کمرے میں بجتی ہے۔ وہ ضرورت کے وقت آپ کی مدد کر سکتی ہے۔‘‘
’’کوئی بٹن ایسا بھی ہے یہاں جس کی گھنٹی آپ کے کمرے میں بجتی ہو!‘‘ لولو نے حیرت سے زین کی طرف دیکھا۔ پھر اُس کی آنکھوں میں شرارت دیکھ کر ایک دم کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ ’’بہت شریر ہیں آپ! ویسے آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میرا کمرہ بالکل آپ کے کمرے کے نیچے سیڑھیوں کے ساتھ ہے۔ کوئی تکلیف ہو، تو بلاجھجھک کَہ سکتے ہیں۔ ہم اپنے مہمانوں کو بہت آرام اور محبت سے رکھتے ہیں۔‘‘
زین، مسز معروف کو سال بھر کا خرچہ ایڈوانس دے دیتا ہے او رباقی ساری رقم بنک میں جمع کروا دیتا ہے۔ اُس کا بنک اکاؤنٹ کھلوانے سے لے کر اُس کو یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے تک،ہر جگہ اُس کی بھرپور مدد کی جاتی ہے۔ زین کو اور کیا چاہیے۔ وہ کچھ دن اُن کی کار میں گھومتا پھرتا ہے اور پھر اپنا نیا سکوٹر لے لیتا ہے۔
’’لولو سے تو اُس کی اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی۔ دونوں نے ایک ساتھ کئی فلمیں دیکھ لی تھیں۔ باقی لڑکیاں صورتِ حال سمجھ کر خود ہی الگ تھلگ ہو گئی تھیں۔ لولو بڑی دلچسپ لڑکی تھی۔ زین نے محسوس کیا کہ صرف وہ مذہب کے نام پر پھڑکتی تھی۔ مذہب کے بارے میں نہ کچھ سننے کو تیار تھی نہ ماننے کو۔ زندگی کو وقت کے پیمانے میں ناپنے پر یقین رکھتی تھی۔ اُس کی زندگی کا ہر لمحہ آج…… زندہ اور بے مثال تھا۔ کل پر وہ بات کرنا نہیں چاہتی تھی اور آج سے پوری طرح فایدہ اُٹھانے کی قایل تھی۔‘‘
یہ ناولٹ ایک روایتی زنانہ ناولٹ کی طرح شروع تو ہوتا ہے مگر ناولٹ کے اختتام تک کہانی کی اون کا گولا قاری کے آگے گھومنے اور تیزی سے کھلنے لگتا ہے۔ یہی بڑی کہانی کار کا آرٹ ہوتا ہے کہ وہ لاحاصل سے حاصل کی طرف، اُداسی سے خوشی کی طرف لے جاتا ہے۔
’’تم…… تم عید کی رات میرے پاس آئی تھیں؟‘‘ اُس نے نظریں جھکا کر کہا۔ ’’ہاں‘‘ زینی چلتی ہوئی میز کے قریب آکر کھڑی ہو گئی۔‘‘ مجھے افسوس ہے۔ یہ غلطی مجھ سے دانستہ سرزد نہیں ہوئی۔ مَیں اگر یہ جانتی کہ آپ……!‘‘، ’’بس چپ ہو جاؤ زینی!‘‘ زین نے ندامت بھرے لہجے میں کہا۔ ’’آگے کچھ نہ کہنا!‘‘، ’’مَیں پہلے ہی بہت شرمسار ہوں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ تمہارا شکرگزار بھی۔ ایسے لمحے میں نمودار ہو کر تم نے مجھے ذلت کے گھڑے میں گرنے سے بچا لیا اور نہ جانے کس کس مصیبت سے بچا لیا۔‘‘ زینی طنزیہ انداز میں ہنسنے لگی۔‘‘
پے انگ گیسٹ کے نام سے بشرا رحمان نے ناولٹ کا ایسا چست منظر نامہ تشکیل دیا ہے کہ قاری ہر لمحہ کوئی انہونی ہو جانے کا منتظر رہتا ہے۔
’’اُن دنوں عجیب اتفاق ہوا تھا کہ ’’معروف گیسٹ ہاؤس‘‘ میں صرف زین ہی اکیلا مہمان تھا۔ پہلے بھی کئی بار ایسا ہوا تھا بلکہ بعض اوقات تو کئی کئی مہینے ’’معروف گیسٹ ہاؤس‘‘ بالکل خالی پڑا رہتا تھا۔ زینی خوش تھی اُسے صرف زین کا کمرہ صاف کرنا پڑتا تھا۔
’’اُس کی اِک اِک چیز جھاڑ پونچھ کر رکھتی اور بار بار اُلٹ پُلٹ کر دیکھتی، مگر اُس کے کمرے سے اسے کبھی کوئی انوکھی نرالی شے نہ ملی۔ نہ لڑکیوں کی تصویریں، نہ خوشبو دار خطوط۔ بس یوں زاہد، خشک سا، سیدھا سادا لڑکا لگتا تھا وہ۔ پھر پتا نہیں یہ لولو، بونی اور جینی اُس پر کیوں مرنے لگی تھیں۔ اُسے اپنے دل میں ایک حسد سا محسوس ہوتا۔ اب اس حسد نے جلن کی شکل اختیار کرلی…… جب ایک دن اُس نے محسوس کیا کہ آج کل ٹوٹو صاحبہ زین کے گلے کا ہار بنی ہوئی ہیں۔‘‘
قاری اسے ایک عام سی کہانی سمجھ کر پڑھتا چلا جا رہا ہے مگریہ کہانی اپنے اختتام پر بڑی مضبوط ہے۔ زین، مسز معروف کے ہاں جس خاص مقصد کے لیے آیا ہے، اُس کے لیے احمق ٹوٹو کو پھانسنا ازحد ضروری ہے۔ وہ بڑی بہنوں کی طرح چالاک نہیں۔ وہ زین کویہ راز بتا دیتی ہے کہ ’’پے انگ گیسٹ ہاؤس‘‘ اصل میں زینی کے باپ ہی کی جائیداد ہے جس پر اُس کی ماں نے قبضہ کر رکھا ہے اور اپنا اصل مکان جو سوسائٹی میں ہے کرایہ پر چڑھا رکھا ہے۔ زین اصل میں زینی کا تایا زاد بھائی ہے۔ وہ اسی قبضے کی اصل صورتِ حال معلوم کرنے یہاں مہمان بن کر آیا ہے۔
’’اے لڑکیو! لڑکیاں جہاں جہاں تھیں وہی ٹھٹھک کر کھڑی ہوگئیں اور اُس کی طرف التجائیہ نظروں سے دیکھنے لگیں۔ ’’تم لوگوں کو معلوم ہے میں پانچ بجے بیڈ ٹی لینے کا عادی ہوں، کمرے میں پہنچ جانی چاہیے اور ٹھیک سات بجے زینی کے لیے ناشتہ او رجتنے دن تک زینی نے تم لوگوں کی خدمت کی ہے، اُتنے دن تک تمہیں اس کی نوکری کرنی پڑے گی۔ صرف یہ سزا میری طرف سے ہے۔ باقی چچا میاں کل آ جائیں گے او رجو سزا وہ مناسب سمجھیں گے آپ کو دیں گے۔ شب بخیر!‘‘
’’چلو ڈارلنگ اوپر چلیں‘‘ اور چاروں لڑکیوں نے جن کے رنگ لچھے کی طرح سفید ہو رہے تھے،ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر اپنی کراہتی ہوئی ماں پر جا کر اُن کی نظریں رُک گئیں۔‘‘
بشرا رحمان نے ’’پے انگ گیسٹ‘‘ کا اختتام یہاں پر کیا ہے مگر اس ناولٹ کے آفٹر شاکس سے قاری خاصی دیر تک نکل نہیں پاتا۔ کیوں کہ اس میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کا بھی ذکر موجود ہے…… جہاں حالات خراب کرنے کے ذمے داران فوجی حکم ران تھے۔ پے درپے غلطیاں کرتے رہے اور نتیجہ علاحدگی کی صورت میں پایا۔ صوبہ بہار کے رہنے والوں کو دو مرتبہ ہجرت کے جان لیوا عذاب اور آزمایش سے گزرنا پڑا۔ بنگالی انقلابی لوگ تھے، وہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو 25 سال سے اوپر برداشت نہ کرسکے اور علاحدہ ہوگئے۔ ہم نے مشرقی پاکستان جیسے بڑے سانحے سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا اور بدستور غلطیاں دہراتے چلے جا رہے ہیں۔ یہی ہمارا اصل المیہ ہے۔
بشرا رحمان کا اُسلوب اس ناولٹ (پے انگ گیسٹ) میں پہلی بار قبول صورت ہیرو، ہیروئن سامنے لے کر آیا ہے، ورنہ اُن سے پہلے ہر ادیب کے ہیرو، ہیروئن فرشتوں اور حوروں سے کم نہیں ہوتے تھے۔ یہ مصنوعی پن بشرا رحمان نے پہلی بار اپنے اس ناولٹ کے توسط سے ختم کیا ہے۔
………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔