تحریر: راشد بٹ 
سلووینیا سے تعلق رکھنے والے بورس پاہور (Boris Pahor) اپنے ناول ’’نیکروپولس‘‘ (Necropolis) کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔ 1967ء میں چھپنے والا یہ ناول آٹو بائیو گرافیکل ہے اور پاہور کے ہولو کاسٹ (Holocaust) کے دور کے تجربات پر مشتمل ہے۔
اس ناول کا اب تک دو دفعہ انگریزی اور کئی دوسری یورپی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ ناقدین ان کے اس ناول کا موزانہ نوبیل انعام یافتہ ادیب ’’اِمرے کَیرٹیش‘‘ اور اطالوی ادیب ’’پرائمو لیوی‘‘ کی تحاریر کے ساتھ کرتے ہیں۔
پاہور 26 اگست 1913ء کو ٹریسٹی (Trieste) میں ایک سلووین اقلیتی برادری میں پیدا ہوئے، جو اس وقت آسٹرین ہنگرین سلطنت کی مرکزی بندرگاہ اور اس وقت آسٹریا کے مختلف خطوں کا دارالحکومت تھا۔ پاہور کے والد فرانک کی پیدایش کوسٹانجیکانا کروسو میں ہوئی تھی، یہ ایک ایسی بستی تھی جسے پہلی جنگ عظیم کے دوران میں ایسونزو کی لڑائیوں نے بری طرح تباہ کردیا تھا۔ فرانک نے ’’ماریجا امبروی‘‘ سے شادی کی اور آسٹریا ہنگری کے زیرِانتظام ٹریسٹی میں سرکاری ملازم کی حیثیت سے ملازمت حاصل کی۔
1939ء میں پاہور نے سلوینیا کے شاعر ایدوارد کوکبیک (Edvard Kocbeck) سے تعلق استوار کیا۔ کوکبیک نے پاہور کو اس وقت کی ادبی باریکیوں سے روشناس کروایا۔ اسی عرصے میں ان کے دیگر سلوینین شاعروں اور ادیبوں سے بھی مراسم قایم ہوئے۔
1940ء میں پاہور کو اطالوی فوج میں شامل کیا گیا اور انہیں لیبیا میں لڑنے کے لیے بھیجا گیا۔ 1941ء میں پاہور کا تبادلہ لومبارڈی ہوگیا، جہاں انہوں نے فوجی مترجم کی حیثیت سے کام کیا۔ اسی دوران میں انہوں نے پڈوا یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں انہوں نے اطالوی ادب کی تعلیم حاصل کی۔ ستمبر 1943ء میں اطالوی عارضی جنگ بندی کے بعد وہ ٹریسٹی واپس چلے گئے، جو پہلے ہی نازیوں کے قبضے میں آچکا تھا۔ جرمنی کے مقبوضہ شہر میں کچھ ہفتوں کے بعد، پاہور نے سلووین لیٹرل میں سرگرم سلووین پارٹیسینز میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ 1955ء میں پاہور نے ان تجربات کو اپنے ناول ’’میستیو وی زیلوو‘‘ (خلیج کا شہر) میں بیان کیا ہے ۔
سلوین کی ایک مقامی کیمونسٹ مخالف تنظیم لیٹورل ہوم گارڈ نے 600 افراد کو نازیوں کے مخالف ہونے کے شبے میں پکڑ کر ان کے حوالے کیا۔ ان میں بورس پاہور بھی شامل تھے۔ نازی انتظامیہ نے اسے پہلے ڈاچو پہنچایا، جہاں سے اسے السیسی میں ’’سینٹ میری آکس مائنز‘‘ (مارکِرچ) اور ’’نیٹزوییلر اسٹروتھف‘‘ منتقل کردیا گیا۔ وہاں سے اسے واپس ڈاچاؤ، مِٹِل باؤ ڈورا، ہرزنگن اور آخرِکار برجین بیلسن بھیج دیا گیا، جو 15 اپریل 1945ء کو آزاد ہوا تھا۔ حراستی کیمپ کا تجربہ پاہور کے کام کا ایک اہم عنصر بن گیا، جس کے لیے اکثر اس کا موازنہ پریمو لیوی، امرے کرٹیش یا جارج سیمپرین سے کیا جاتا ہے۔
1990ء کے بعد پاہور نے سلووینیا میں بڑے پیمانے پر شہرت حاصل کی۔ 1992ء میں سلوینیا میں ثقافتی کامیابیوں کے لیے انہیں پریرین ایوارڈ سے نوازا گیا۔ مئی 2009ء میں، پاہور سلووینیائی اکیڈمی آف سائنس اور آرٹس کے مستقل رکن بن گئے۔ 2007ء میں پاہور کو فرانسیسی حکومت نے فرانسیسی آرڈر آف لیجن عطا کیا۔ 2009ء میں پاہور کو آسٹریا کی حکومت نے سائنس اور آرٹ کے لیے کراس آف آنر سے نوازا۔
2016ء میں بی بی سی نے ان کی زندگی پر ڈاکومینٹری فلم "The man who saw too much” بنائی۔ یہ ڈاکومینٹری یوٹیوب پر دیکھی جاسکتی ہے۔ مختلف ’’جیرونٹولوجسٹس‘‘ کا خیال تھا کہ وہ اس عہد کے بزرگ ترین حیات ادیب تھے اور ہولوکاسٹ سے بچ نکلنے والی معمر ترین شخصیت بھی۔ بورس پاہور کا انتقال 30 مئی 2022ء کو ٹریسٹی اٹلی میں ہوا۔
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔